کیا پنجاب میں شہباز شریف کی بنائی گئی ’ڈولفن فورس‘ ختم کی جا رہی ہے؟
کیا پنجاب میں شہباز شریف کی بنائی گئی ’ڈولفن فورس‘ ختم کی جا رہی ہے؟
جمعہ 28 اگست 2026 5:41
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
فورس کی تشکیل ترکیہ کی استنبول پولیس کے مشہور موٹرسائیکل پیٹرولنگ یونٹ ’یونس پلس‘ کی طرز پر کی گئی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پنجاب حکومت نے حال ہی میں صوبے کی سب سے مہنگی اور عالمی معیار کی پولیس فورس یعنی ڈولفن فورس کو بھاری اخراجات کے باعث روایتی تھانہ کلچر کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کی باقاعدہ اجازت وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز نے دی ہے۔ اس فیصلے کے مطابق ڈولفن فورس کی نفری اور وسائل کو براہِ راست مقامی تھانوں (پولیس سٹیشنز) کے سپرد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
گذشتہ کچھ عرصے سے پانچ سو سی سی بائیکس کی بھاری مینٹیننس لاگت، سپیئر پارٹس کی عدم دستیابی کے باعث ڈولفن فورس تقریبا مفلوج ہو گئی تھی۔
ایس پی ڈولفن فورس بلال احمد نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’پہلے تو میں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ ایک تاثر قائم ہوا ہے کہ شائد ڈولفن فورس بند ہو گئی ہے۔ تو ایسی بات نہیں ہے۔ وقتی طور پر کچھ انتظامی معاملات کے باعث فورس کو پرانے طریقہ کار پر آپریشنل رکھنا مشکل ہو گیا تھا جس کی وجہ سے کچھ فیصلے لیے گئے ہیں کہ کچھ عرصہ ڈولفن فورس کی نفری تھانوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور ان کی افرادی قوت بڑھے گی۔‘
ایسا کیا ہوا ہے کہ فورس کے پاس وسائل نہیں رہے؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بلال احمد کا کہنا تھا کہ ’پہلی بات تو یہ ہے کہ جن ہیوی بائیکس کو اس فورس کے لیے خریدا گیا تھا۔ وہ 10 سال میں اپنی طبعی عمر پوری کر چکی ہیں۔ ہمارے پاس 600 ہیوی بائیکس تھیں جو کہ 500 سی سی تھیں وہ قریبا سبھی چار چار لاکھ کلومیٹر چل چکی ہیں۔‘
’جو کچھ ابھی صحیح حالت میں تھیں وہ ایران امریکہ جنگ کے باعث حکومت کی تیل کی کھپت سرکاری سطح پر کم کرنے کی پالیسی کی زد میں آگئیں۔ یہ بائیکس ہائی اوکٹین پر چلتی ہیں جبکہ اب سرکاری گاڑیوں میں ہائی آکٹین ڈلوانے پر پابندی ہے۔ اس لیے جو کچھ بائیکس کام کر بھی رہی ہیں فیول نہ ہونے کی وجہ سے کھڑی ہیں۔ چونکہ یہ ماڈل ہی سٹریٹ کرائمز کے لیے تھا تو بائیکس کے بغیر یہ ایک نارمل فورس ہی ہے۔‘
ڈولفن فورس ہے کیا؟
پنجاب میں سٹریٹ کرائمز کے خاتمے اور جدید سٹریٹ پولیسنگ کو فروغ دینے کے لیے ڈولفن فورس کا باضابطہ قیام اپریل 2016 میں عمل میں لایا گیا تھا، جس کا افتتاح اس وقت کے وزیراعلٰٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور سے کیا۔
اس فورس کی تشکیل ترکیہ کی استنبول پولیس کے مشہور موٹرسائیکل پیٹرولنگ یونٹ ’یونس پلس‘ کی طرز پر کی گئی تھی تاکہ شہروں کی تنگ گلیوں، شدید ٹریفک اور گنجان آبادیوں میں روایتی پولیس گاڑیوں کے مقابلے میں تیزی سے کارروائی کی جا سکے۔ اس فورس کا بنیادی ویژن ڈکیتی، موبائل و گاڑی سنیچنگ جیسی سٹریٹ کرائم کی وارداتوں کا فوری تدارک، 15 ہیلپ لائن پر کال موصول ہوتے ہی 5 سے 10 منٹ میں موقع پر پہنچنا، اور مخصوص یکساں وردی و بھاری بائیکس کے ذریعے گشت کر کے شہریوں میں احساسِ تحفظ پیدا کرنا تھا۔
اس فورس کے پہلے مرحلے کے لیے ابتدائی طور پر قریباً 39 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ تاہم 500 سی سی کی جدید ہونڈا ہیوی بائیکس، باڈی کیمرے، جی پی ایس لوکیٹرز اور عالمی معیار کے آلات کی خرید کی وجہ سے یہ بجٹ ایک ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔
لاہور کی کامیابی کے بعد سنہ 2017 اور 2018 میں اس فورس کا دائرہ کار دیگر شہروں تک بڑھایا گیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
فورس کی تربیت کے لیے مارچ سنہ 2015 میں 25 پولیس افسران کو ترکیہ بھیجا گیا جہاں استنبول پولیس کے ماہرین نے انہیں دو ماہ کی سخت موٹر سائیکل ٹیکٹکس کی تربیت دی، جس کے بعد انہی ماسٹر ٹرینرز نے مقامی سطح پر 12 سو سے زائد اہلکاروں کو تربیت فراہم کی۔
ڈولفن فورس کو آگے بڑھانے کے پلان کے تحت لاہور کی کامیابی کے بعد سنہ 2017 اور 2018 میں اس فورس کا دائرۂ کار راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور بہاولپور جیسے بڑے اضلاع تک بڑھایا گیا تاکہ تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں الگ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کر کے ایک آزاد سٹریٹ پولیسنگ نظام تشکیل دیا جا سکے، تاہم اب یہ بین الاقوامی معیار کی پولیس فورس تقریبا اپاہج ہو چکی ہے۔
اب آگے کیا ہو گا؟
جب یہ سوال ایس پی بلال احمد سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ایک تفصیلی پروپوزل وزیراعلٰی کو بھیجی ہے جس میں یہ رائے دی گئی ہے کہ اگر حکومت کے پاس ہیوی بائیکس کا بجٹ نہیں ہے تو نارمل موٹرسائیکلوں کے ساتھ بھی اس فورس کو فعال کیا جا سکتا ہے اس حوالے سے ہم نے کافی کام کیا ہے امید ہے جب حکومت پروپوزل منظور کر لے گی نئی بائیکس آجائیں گی تو فورس دوبارہ سڑکوں پر ہو گی اور کرائم کو ویسے ہی کنٹرول کرے گی جیسے پہلے کیا جا رہا تھا۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے بائیکس نہ ہونے کی وجہ سے ڈولفن اہلکاروں کو پیدل ہی سڑکوں پر ناکے لگا کر کھڑا کیا جا رہا تھا۔ جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ جب تک نئی بائیکس کا بجٹ منظور نہیں ہوتا اب یہ فورس تھانوں میں عام نفری کی طرح کام کرے گی، تاہم ایس پی بلال احمد کا کہنا ہے کہ ’یونیفارم، تنخواہ اور ہیومین ریسورس کے معاملے ڈولفن ہیڈکوارٹرز ہی دیکھے گا۔‘