ایران پر تازہ حملے مکمل، جوابی کارروائی پر مزید سختی سے نشانہ بنائیں گے: ٹرمپ
ایران نے امریکی حملوں کا سختی سے جواب دینے کا اعلان کیا ہے (فوٹو: اے پی)
امریکی فوج نے منگل کو ایران میں مختلف اہداف پر حملے کیے جس کے جواب میں تہران نے خطے میں مختلف مقامات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔
اس صورت حال سے چھ ماہ سے وقفے وقفے میں جاری جنگ میں ایک بار شدت پیدا ہو گئی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایران کے مقامی حکام کی جانب سے منگل کو بتایا گیا تھا کہ امریکی حملوں میں سے ایک ایسے گھر پر ہوا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی اور ہاں پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے فوجی اہداف پر تازہ حملے مکمل کر لیے ہیں اور ان اہداف میں فضائی دفاعی تنصیبات، ریڈار سسٹم اور سمندری فوجی تنصیبات شامل تھیں۔
ان حملوں سے قبل اتوار کو بھی امریکہ نے ایران پر حملے کیے تھے جبکہ اس سے قریباً ایک ماہ تک صورت حال پرسکون رہی تھی، تاہم حملوں کی اس لہر کے بعد سے ایک بار پر بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہونے کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
اس جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ دوسری جانب امریکہ کی مقتدر جماعت ریپبلکن کو نومبر میں وسط مدتی انتخابات میں بھی شریک ہونا ہے اور اس صورت حال میں اس کو سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور نہیں کریں گے۔
انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ ایک ایسا معاہدہ کریں جو ان کے لیے بے وقعت ہو، مجھے یہ صورت حال زیادہ پسند ہے کیونکہ اب قریباً ہمارا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے اور ایران کی معیشت تباہ ہو رہی ہے، وہ اپنے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں جو کہ ناگزیر ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھاک ہ ’ایرانی عوام کب اٹھ کھڑے ہوں گے اور مقابلہ کریں گے۔‘
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو اپنی مرضی ماننے پر مجبور کرنے کے لیے اقتصادی پابندیوں کا راستہ اختیار کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
تاہم اب انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکی حملوں کا جواب دیا تو اس پر اس سے کہیں زیادہ سخت اور بڑے پیمانے پر حملے کیے جائیں گے۔
علاوہ ازیں امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ تازہ حملے ایران کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی بیسز کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
اسی طرح صدر ٹرمپ نے فوکس نیوز کو بتایا کہ ایران کے ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا گیا۔
’انہوں نے ریڈار سسٹم دوبارہ بنانے کی کوشش کی کیونکہ وہ ہم کو دیکھ نہیں سکتے تھے، ہم نے انتظار کیا کہ جب مکمل ہو جائے تو حملہ کریں اور ایسا ہی کیا۔‘