ایران کے ساتھ ایک ماہ بعد جھڑپ، صدر ٹرمپ کی سخت حملوں کی دھمکی
ایران کے ساتھ ایک ماہ بعد جھڑپ، صدر ٹرمپ کی سخت حملوں کی دھمکی
منگل 1 ستمبر 2026 6:54
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے 24 اگست کو ایران کے خلاف ’بڑے معاشی حملے‘ کا اعلان کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید حملوں کی دھمکی ہے جبکہ تہران کے گرد معاشی گھیرا تنگ کرنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ دھمکی اس حالیہ جھڑپ کے بعد سامنے آئی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان قریباً ایک ماہ کے وقفے کے بعد ہوئی اور صورت حال مزید کشیدگی کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے اتوار کو بتایا گیا کہ ایران کے لارک جزیرے پر دو راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا گیا اس کے جواب میں اتوار اور پیر درمیانی رات ایران نے اردن میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے۔
اردن کے حکام نے اس کے بعد کہا تھا کہ فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ ایرانی میزائلوں کو انٹرسیپٹ کیا گیا۔
ان تازہ حملوں سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ایک ایسی لڑائی جو حالیہ عرصے کے دوران پابندیوں، ناکہ بندیوں اور معاشی دباؤ کے ذریعے لڑی جا رہی تھی وہ کس تیزی سے دوبارہ فوجی کارروائی میں بدل سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ان پر سخت حملہ کریں گے اور اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔’
اسی طرح اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کو ایک ناکام ملک قرار دیا اور کہا کہ ان حملوں کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ مکمل طور پر دوبارہ شروع ہو گئی ہے، ایران کی معیشت اور فوج کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کو نہیں ماریں، دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا امکان مسترد کر دیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ ایران فوجی طور پر مکمل شکست کھا چکا ہے۔
جزیرہ لارک پر حملے کے جواب میں ایران نے اردن میں امریکی فوجی بیس کو نشانہ بنایا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
دوسری جانب ایک سینیئر ایرانی سورس نے روئٹرز کو بتایا کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو وہ سخت جواب دے گا۔
فوکس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے تمام میزائل مار گرائے اور امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد نئی پابندیاں اس کو کافی متاثر کر رہی ہیں۔
اس سے صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دو ویڈیوز بھی پوسٹ کیں جن میں دھماکے ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے ساتھ لکھا کہ ’خارگ جزیرہ کو مکمل طور پر تباہ کیا جا رہا ہے۔‘
تاہم یہ اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز تھیں اور خارگ پر کوئی حملہ نہیں ہوا، ایران کی جانب سے صدر کی پوسٹ کو مضحکہ خیز قرار دیا گیا۔
اس بارے میں جب نائب صدر جے ڈی وینس سے صحافیوں نے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ سوشل میڈٰیا پر ایسے ایسی چیزوں کو پسند کرتے ہیں اور وہ پوسٹ کے ذریعے پیغام دے رہے تھے۔
علاوہ ازیں ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں اور ایران سے تیل خریدنے اور اس کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ایران اب غصے میں ردعمل دے رہا ہے کیونکہ نئی پابندیوں سے اس کی معشیت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔