امریکہ کے ایران پر تازہ ترین ’جوابی حملے‘، آبنائے ہرمز کے قریب دھماکوں کی آوازیں
اتوار کے روز امریکہ نے کئی ہفتوں بعد ایران کے خلاف پہلی کارروائی کی، جس میں آبنائے ہرمز میں واقع ایک ایرانی جزیرے کو نشانہ بنایا گیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی فوج نے منگل کے روز ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو نشانہ بنایا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کارروائی تجارتی جہاز رانی اور خطے میں موجود امریکی فوجیوں پر مبینہ حملوں کی کوششوں کے جواب میں کی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی بھی جوابی حملے کی صورت میں سخت ردعمل کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یہ حملے حالیہ دنوں میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان ہونے والی کارروائیوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہیں، جن سے ایک بار پھر جاری تنازع کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق ملک کے جنوبی حصے میں آبنائے ہرمز کے قریب کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے بتایا کہ ’چار میزائل چابہار اور کنارک کے علاقوں میں گرے،‘ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان حملوں سے کوئی نقصان ہوا یا نہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حملے ’آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کے خلاف پاسدارانِ انقلاب کے حالیہ حملوں کی کوششوں‘ کے بعد کیے گئے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ’بڑے اور طاقتور‘ حملے ایرانیوں کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی ناکام کوشش اور اردن میں امریکی فوجی اڈے پر داغے گئے آٹھ میزائلوں کے جواب میں کیے گئے، جنہیں امریکی دفاعی نظام نے کامیابی سے مار گرایا۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اگر ایران اس ’مکمل طور پر جائز حملے کا جواب دیتا ہے تو اسے اس سے بھی زیادہ سخت اور بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جائے گا۔‘
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے ایکس پر خبردار کیا کہ واشنگٹن اپنے نئے حملوں پر پچھتائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کو سخت سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔
تیل بردار جہاز بھی نشانہ بنے
چھ ماہ سے جاری جنگ کے بعد بھی امریکہ اور ایران ایک تعطل کا شکار ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جبکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی جوابی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔
اتوار کے روز امریکہ نے کئی ہفتوں بعد ایران کے خلاف پہلی معلوم کارروائی کی، جس میں آبنائے ہرمز میں واقع ایک ایرانی جزیرے کو نشانہ بنایا گیا۔
واشنگٹن کے مطابق امریکی افواج نے لارک جزیرے پر موجود ایرانی میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا تاکہ تہران کو اہم بحری گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھانے سے روکا جا سکے۔
ایران نے اس کے جواب میں اردن اور متحدہ عرب امارات کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے اور کہا کہ ان کا ہدف وہاں موجود امریکی افواج تھیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ جنگ فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جن میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوئے تھے۔