Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ ایران کے ساتھ لین دین کرنے والے ایک اور بینک پر پابندی لگانے کو تیار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپکی انتظامیہ نے ایران کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کی کوششیں مزید تیز کردی ہیں اور وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ کا کہنا ہے کہ ایران کی مدد کرنے والے ایک اور بینک پر رواں ہفتے پابندیاں لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ نے اس سے بات کرے ہوئے کہا کہ
’اگر ہمیں یہ کرنا پڑا تو یہ مالی جنگ ہو گی، ہم لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ آپ کون ہیں اور آپ بھی جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔‘
شمالی کیرولینا کے شہر ایش ول میں ہونے والے جی 20 کے اجلاس سے قبل خبر رساں ادارے سے بات کی۔
اس اجلاس میں دنیا کی بڑی معیشتوں کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے جن سے سکاٹ بیسینٹ الگ الگ ملاقاتیں کریں اور ایران کے خلاف تعاون پر زور دیں گے۔
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں اشارہ دیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں فوجی حملوں  کے بجائے معاشی دباؤ بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔
چھ ماہ قبل شروع ہونے والی جنگ کے اس مرحلے میں امریکی حکومت نے ایران کے خلاف ’معاشی ڈی ڈے‘ شروع کرنے کا ارادہ ظاہرکیا ہے جبکہ ایران پہلے سے بھی کئی دہائیوں سے سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرتا آ رہا ہے۔
اتوار کو ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار کشیدگی اس وقت دیکھنے بڑھتی ہوئی دیکھی گئی جب امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا۔
یہ ایک ماہ کے دوران امریکہ کی پہلی کارروائی تھی، جس کی وجہ سے کچھ عرصے سے چلے آ رہی جنگ بندی کا وقفہ ختم ہو گیا ہے۔
ایران نے اس حملے سخت بدلہ لینے کا اعلان کیا اور اس کے جواب میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب اردن میں تعینات امریکی فورسز پر میزائل داغے۔
امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کے بجائے ان کو خبردار کرنے پر ہی زیادہ اکتفا کیا ہے تاہم اہم سوال یہ بھی ہے کہ صدر ٹرمپ چین کے ساتھ کیا رویہ اختیار کریں گے، کیونکہ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
سکاٹ بسینٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ج 20 اجلاس میں چینی ہم منصب سے بات کریں گے۔
ان کے مطابق ’ایران سے مسلسل تیل خریدنے پر چین کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے تمام آپشنز زیر غور ہیں۔‘
تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ امریکی انتظامیہ چین کا سامنا کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔
انہوں نے اس کو ’بالکل غلط بیانیہ‘ قرار دیا اور اسے آگے بڑھانے کا ذمہ دار میڈیا کو قرار دیا۔
سکاٹ بیسینٹ نے اصراف کرتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جانا چاہیے اور ایران جوہری ہتھیاروں سے روکنا ضروری ہے۔
ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی مہم کے تحت امرین نے جمعے کو پہلا باضابطہ قدم اٹھایا، اس کے تحت ایک مجوزہ قانون لایا گیا ہے، جس کی حتمی منظوری کے بعد بینک مصر کو یو اے ای میں موجود تمام شاخوں کو امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کر دیا جائے گا۔ بینک مصر مصر کا دوسرا بڑا بینک ہے۔

شیئر: