امریکہ و ایران کے ایک دوسرے پر حملے، واشنگٹن مزید اقتصادی پابندیوں کے لیے تیار
امریکہ و ایران کے ایک دوسرے پر حملے، واشنگٹن مزید اقتصادی پابندیوں کے لیے تیار
پیر 31 اگست 2026 6:20
سکاٹ بیسینٹ کا کہنا ہے کہ ایران سے لین دین کرنے والے ایک اور بینک پر رواں ہفتے پابندیاں لگ سکتی ہیں (فوٹو: اے پی)
امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے کیے ہیں جبکہ امریکہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ایک اور بینک پر پابندیاں لگانے کی تیاری کر رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے اتوار کو بتایا گیا کہ ایران کے لارک جزیرے پر دو راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا گیا۔
آبنائے ہرمز میں واقع یہ چھوٹا ایرانی جزیدہ اس کی اہم بندرگاہ بندر عباس کے قریب واقع ہے اور خلیج کے داخلی راستے پر موجود سمندری گزرگاہوں کی نگرانی کرتا ہے۔ یہ جولائی کے اواخر کے بعد سے ایران پر ہونے والا پہلا امریکی حملہ تھا۔
جزیرہ لارک سمندری سکیورٹی اور عالمی طور پر توانائی کی تجارت کے حوالے سے ایک اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملے کے جواب میں اردن میں موجود دو امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اردن کے حکام نے کہا ہے فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ ایرانی میزائلوں کو انٹرسیپٹ کیا گیا۔
یہ حملے ایسے وقت شروع ہوئے ہیں جب حالیہ ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی تھی۔ ایک دوسرے کے خلاف براہ راست حملوں سے گریز کیا جا رہا تھا۔ ایران پر آخری امریکی حملے جولائی کے اواخر میں ہوئے تھے۔
علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپکی انتظامیہ نے ایران کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کی کوششیں مزید تیز کردی ہیں اور وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ کا کہنا ہے کہ ایران کی مدد کرنے والے ایک اور بینک پر رواں ہفتے پابندیاں لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے 24 اگست کو ایران کے خلاف ’بڑے معاشی حملے‘ کا اعلان کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے، جن کا ابتدائی ہدف بینک ہوں گے۔
بیسنٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’ہم بینکوں سے آغاز کر رہے ہیں اور انہیں بتا رہے ہیں کہ ایرانی رقم رکھنا اور ایرانی حکومت کی مدد کرنا قابل قبول نہیں ہے۔‘
جمعے کے روز امریکہ نے ایران کے ساتھ مبینہ طور پر مالی روابط رکھنے کے الزام پر مصر کے بینک مصر کی متحدہ عرب امارات میں موجود شاخوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
سکاٹ بیسینٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگلا قدم کسی مالیاتی ادارے کو مکمل طور پر ڈالر پر مبنی امریکی مالیاتی نظام سے باہر کرنا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے شمالی کیرولینا کے شہر ایش ول میں ہونے والے جی 20 کے اجلاس سے قبل خبر رساں ادارے اے پی سے بھی بات کی۔
اس اجلاس میں دنیا کی بڑی معیشتوں کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے جن سے سکاٹ بیسینٹ الگ الگ ملاقاتیں کریں اور ایران کے خلاف تعاون پر زور دیں گے۔
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں اشارہ دیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں فوجی حملوں کے بجائے معاشی دباؤ بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔
چھ ماہ قبل شروع ہونے والی جنگ کے اس مرحلے میں امریکی حکومت نے ایران کے خلاف ’معاشی ڈی ڈے‘ شروع کرنے کا ارادہ ظاہرکیا ہے جبکہ ایران پہلے سے بھی کئی دہائیوں سے سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرتا آ رہا ہے۔
ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار چین ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کے بجائے ان کو خبردار کرنے پر ہی زیادہ اکتفا کیا ہے تاہم اہم سوال یہ بھی ہے کہ صدر ٹرمپ چین کے ساتھ کیا رویہ اختیار کریں گے، کیونکہ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
سکاٹ بسینٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ 20 اجلاس میں ایران کے ساتھ تجارت کے معاملے پر چینی ہم منصب سے بھی بات کریں گے۔
ان کے مطابق ’ایران سے مسلسل تیل خریدنے پر چین کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے تمام آپشنز زیر غور ہیں۔‘
تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ امریکی انتظامیہ چین کا سامنا کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔ انہوں نے اس کو ’بالکل غلط بیانیہ‘ قرار دیا اور اسے آگے بڑھانے کا ذمہ دار میڈیا کو قرار دیا۔
سکاٹ بیسینٹ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جانا چاہیے اور ایران جوہری ہتھیاروں سے روکنا ضروری ہے۔