Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مصری ٹی وی میزبان سمیت 12 افراد کو منشیات کے مقدمے میں سزائے موت

39 سالہ ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ اپنے پروگرام ’مشن امپاسیبل‘کے حوالے سے مشہور ہیں (فوٹو: انسٹاگرام)
مصر کے سرکاری میڈیا نے ہفتہ کے روز رپورٹ کیا ہے کہ ایک عدالت نے معروف ٹیلی ویژن میزبان سارہ خلیفہ اور 11 دیگر افراد کو بڑے پیمانے پر منشیات تیار کرنے اور ان کی سمگلنگ کے مقدمے میں سزائے موت سنا دی ہے۔
39 سالہ سارہ خلیفہ اپنے پروگرام ’مشن امپاسیبل‘کے حوالے سے مشہور ہیں، جس میں سکیورٹی اور جرائم سے متعلق معاملات کو موضوع بنایا جاتا تھا۔
ریاست سے وابستہ اخبار الاہرام کے مطابق قاہرہ کی ایک عدالت نے ’سارہ خلیفہ اور 11 دیگر ملزموں کو منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد کے حصول اور انہیں فروخت کرنے کے مقصد سے رکھنے والے ایک منظم جرائم پیشہ گروہ کی تشکیل، جبکہ بغیر لائسنس آتشیں اسلحہ اور گولہ بارود اپنے قبضے میں رکھنے‘ کے الزامات پر پھانسی کے ذریعے سزائے موت سنائی۔
عدالت نے فیصلہ سنانے سے قبل مصر کے گرینڈ مفتی سے شرعی رائے بھی طلب کی۔ سزائے موت کے مقدمات میں مصری قانون کے تحت اس طریقۂ کار پر عمل کرنا لازمی ہے۔
تاہم اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔
سارہ خلیفہ ایک کاسمیٹک سرجری کلینک اور ایسی پروڈکشن کمپنی کی بھی مالک ہیں جو تقریبات اور پارٹیوں کے انعقاد کا انتظام کرتی ہے۔
سرکاری اخبار اخبار الیوم کے مطابق ملزموں پر ’مصنوعی منشیات تیار کرنے اور انہیں سمگل کرنے کی نیت سے بیرون ملک سے ان کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال درآمد کرنے‘کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔
الاہرام کے مطابق حکام نے 750 کلوگرام سے زیادہ منشیات اور خام مال قبضے میں لیا۔ اس کے علاوہ دو ایسے اپارٹمنٹس بھی ملے جنہیں منشیات تیار کرنے کے لیے لیبارٹریوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ وہاں سے بغیر لائسنس کے آتشیں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔
عدالت نے سارہ خلیفہ اور دیگر ملزموں کو ایک الگ مقدمے میں پانچ سال قید کی سزا بھی سنائی۔ اس مقدمے میں ایک نوجوان کو اغوا کرنے اور اس پر تشدد کرنے کے الزامات شامل تھے۔
مصر میں جان بوجھ کر کیے گئے قتل، دہشت گردی، بعض نوعیت کے ریپ اور منشیات کی سمگلنگ کے جرائم میں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
مصری کمیشن برائے حقوق و آزادیوں کے مطابق، 2025 میں مصر میں 541 سزائے موت سنائی گئیں۔

شیئر: