سعودی پروجیکٹ کے تحت یمن سے 863 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ہٹایا گیا
اب تک 5 لاکھ 89 ہزار 188 مائنز کو تلف کیا جا چکا ہے ( فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)
سعودی عرب کے مسام پروجیکٹ کے ارکان نے گزشتہ ہفتے یمن کے مختلف علاقوں سے 863 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ہٹایا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ان میں 384 ناکارہ یا پھٹنے سے رہ جانے والا آرڈیننس، 470 اینٹی ٹینک، 6 اینٹی پرسنل بارودی سرنگیں اور 3 دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائسز شامل ہیں۔
دھماکہ خیز مواد اور بارودی سرنگوں کو بلا تفریق زمین میں بچھایا گیا تھا جو عام لوگوں، خاص طور پر بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد کے لیے سنگین خطرہ تھیں۔
یہ کارروائیاں، مارب، عدن، الجوف، شبوہ، حدیدہ، لحج، صنعا، البیضا، الضالع اور صعدہ میں کی گئی ہیں۔
2018 میں پروجیکٹ کے آغاز کے بعد سے اب تک 5 لاکھ 89 ہزار 188 مائنز کو تلف کیا جا چکا ہے۔
پروجیکٹ کے تحت مختلف ٹیموں کو دیہات، سڑکوں اور سکولوں سے بارودی سرنگوں یا دھماکہ خیز مواد کو ہٹانے کا کام سونپا جاتا ہے تاکہ عام لوگ محفوظ رہتے ہوئے نقل و حرکت کر سکیں۔ انسانی امداد کی فراہمی کو آسان بنایا جا سکے۔

پروجیکٹ کے تحت باردوی سرنگیں صاف کرنے والے مقامی انجینیئروں کی تربیت کی جاتی ہے اور انھیں آلات فراہم کیے جاتے ہیں اور جو یمنی دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے زخمی ہو جاتے ہیں، یہ پروجیکٹ انھیں مدد بھی دیتا ہے۔
سعودی عرب، مسام پروجیکٹ کے تحت یمن سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد سویلین سیفٹی کو بڑھانا، یمنی عوام کو محفوظ اور باوقار زندگی گزارنے میں مدد دینا ہے۔
