سعودی کابینہ نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں سویلین اور اقتصادی مقامات پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں جارحیت کی گھناؤنی کارروائی قرار دیا ہے۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت منگل کو جدہ میں ہونے والے اجلاس میں خطے اور بین الاقوامی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق ولی عہد نے کابینہ کو مصر، یونان اور عمان کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا۔
کابینہ نے ملکی خود مختاری، شہریوں اور مقیمین کے حق خود دفاع کا اعادہ کیا۔ بحیرہ احمرمیں تجارتی جہازوں اور بین الاقوامی بحری جہاز رانی پر یمن میں حوثی ملیشیا کے حملوں کو مسترد کیا۔
یاد رہے اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے منگل کو بتایا تھا کہ حوثی حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کے مختلف شہروں میں خواتین اور بچوں سمیت 70 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے ایس پی اے کو بتایا کابینہ نے حکام کو حملوں میں زخمی ہونے والوں کو اعلی سطح کی طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اجلاس میں فلسطینی علاقوں کی صورتحال، یروشلم میں اسرائیلی خلا ف ورزیوں کو روکنے کےلیے عرب ملکوں کی کوششوں اور اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی پالیسی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
کابینہ نے سعودی عرب اور جرمنی کی وزرت خارجہ کے درمیان سٹریٹیجک ڈائیلاگ کے لیے مفاہمتی یادداشت کا بھی خیر مقدم کیا جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان مشاورت اور ہم آہنگی کو بڑھانا ہے۔