Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اقوام متحدہ کی ایلچی نے باہم جڑے بچوں کی خیریت دریافت کی، سعودی نگہداشت کی تعریف

بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی میڈیکل ٹیموں اور اہل خانہ سے ملاقات کی۔( فوٹو: ایس پی اے)
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ برائے بچوں اور مسلح تنازعات وینیسا فریزیئر نے ریاض میں وزارت نیشنل گارڈ کے کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں کنگ عبداللہ سپیشلسٹ چلڈرن ہسپتال میں زیر علاج باہم جڑے ہوئے بچوں کی عیادت کی۔
دورے کے دوران انہیں بچوں کی صحت کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی میڈیکل ٹیموں اور اہل خانہ سے بھی ملاقات کی۔
وینیسا فریزیئر نے سعودی کنجوائنڈ ٹوئنز پروگرام کے ذریعے باہم جڑے ہوئے بچوں کی دیکھ بھال میں سعودی عرب کے کردار کو سراہا اور اسے امید کا ایک حقیقی ذریعہ اور دوسروں کے لیے مثال قرار دیا۔
انہوں نے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے مملکت کی کوششوں اور دنیا بھر سے باہم جڑے ہوئے بچوں کو ہیلتھ کیئر کی سہولت فراہم کرنے اور علاج کے دوران ان کی مدد کرنے کی تعریف کی۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے دوسرے ملکوں کے سامنے اس ماڈل کو پیش کرنے اور انہیں بچوں کی دیکھ بھال اور سپورٹ کی ترغیب دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
 سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کا آغاز 1990 میں کیا گیا تھا۔ پروگرام کے تحت اب تک پانچ براعظموں کے 28 ممالک کے 158 کیسز کا جائزہ لیا گیا جن مین 72 جڑے ہوئے بچوں کو کامیابی سے الگ کیا گیا۔ انہیں مکمل دیکھ بھال فراہم کی جس میں نفسیاتی، سماجی اور تعلیمی مدد شامل ہے۔

 

شیئر: