Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان: معاہدۂ مکہ ایک ’دفاعی اتحاد‘ ہے، فی الحال اس میں مزید ممالک کو شامل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ ماہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والا مکہ باہمی دفاعی معاہدہ ایک ’دفاعی اتحاد‘ ہے اور فی الحال اِسے مزید ممالک تک وسعت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‘
ترجمان پاکستانی دفترِ خارجہ سجاد حیدر خان کا یہ بیان جمعرات کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں سامنے آیا۔ 
ترجمان سے سوال کیا گیا تھا کہ ’سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے کے بعد پاکستان اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو کس طرح پُورا کرے گا؟‘
’حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد معاہدۂ مکہ کے تحت فوجی ردِعمل پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی‘
پاکستان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ’سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں معاہدۂ مکہ کے تحت پاکستان کی جانب سے کسی فوجی کارروائی کے حوالے سے فی الحال کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔‘
تاہم، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ ’جب وقت آئے گا تو پاکستان معاہدے کے تحت کارروائی کرے گا۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ طے پانے والے اس مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ’تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘
دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران مزید بتایا کہ ’اس وقت ایسی کوئی بات زیرِ بحث نہیں ہے۔۔۔ جب وقت آئے گا تو ہم معاہدے کے تحت کارروائی کریں گے۔‘

شیئر: