خمیس مشیط میں خطرہ ٹل گیا، ’حوثی ملیشیا کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے‘
خمیس مشیط میں خطرہ ٹل گیا، ’حوثی ملیشیا کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے‘
جمعرات 10 ستمبر 2026 10:48
اقوام متحدہ نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب کے سول ڈیفنس نے جنوب مغربی صوبے خمیس مشیط میں ممکنہ خطرے کے بارے میں 24 گھنٹے کے دوران چوتھا ہنگامی الرٹ جاری کیا۔
تاہم کچھ ہی دیر ایکس پر جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا کہ ’خطرہ ٹل گیا ہے۔‘
عرب نیوز کے مطابق سعودی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس کی جانب سے بتایا گیا کہ ’خمیس مشیط گورنریٹ میں خطرہ ٹل گیا ہے۔ اپنی حفاظت کے لیے ادارے کی ہدایات پر مکمل عمل کریں اور اجتماعات اور فوٹوگرافی سے پرہیز کریں جبکہ ہنگامی صورت حال میں 998 پر کال کریں۔‘
اس طرح کے الرٹس عام طور پر کسی علاقے کو نشانہ بنانے والے ممکنہ حملوں سے پہلے جاری کیے جاتے ہیں۔
حوثیوں کی جانب سے منگل کو کہا گیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں ایک ایئر بیس پر حملہ کیا ہے۔
خلیجی تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے حوثی حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے (فوٹو: اے پی)
اس کے بعد مملکت کے ایک فوجی ترجمان نے کہا کہ حملوں میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مملکت حوثی ملیشیا کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔
یمن کی آئینی حکومت حامی اتحادی کے ترجمان میجر جنرل ترکی الماکی نے حوثیوں کی جانب سے سعودی سرزمین پر حملوں کو ’خطرناک‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے گروپ کی ’غیر ذمہ داری اور دشمنی پر مبنی عمل‘ طرزعمل ظاہر ہوتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالیہ حملوں میں سعودی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 73 عام شہری زخمی ہوئے۔
سعودی کابینہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ حوثیوںنے شہری اور اقتصادی اہداف پر حملے کر کے سنگین جارحیت کی ہے۔ کابینہ کی جانب سے متعلقہ حکام کو یہ ہدایت بھی کی گئی کہ دہشت گرد حملوں میں زخمی ہونے والوں کو بہترین طبی سہولتیں دی جائیں۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور اس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ مملکت اپنی سرزمین اور وسائل پر کوئی بھی حملہ برداشت نہیں کرے گی اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا جائز حق رکھتی ہے۔
اسی طرح اقوام متحدہ نے بھی حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے۔
منگل کو یمن کے حوثیوں کی جانب سے ہونے والے حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
اس کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’ہم سعودی عرب میں متعدد مقامات پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہیں جن سے انفراسٹرکچر متاثر اور ہمیں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات پر بھی گہری تشویش ہے۔‘
یورپی یونین کی جانب سے بھی حوثیوں پر زور دیا گیا ہے کہ ’وہ تمام حملے بند کریں۔‘
خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹر جنرل جاسم البدیوی نے بھی سعودی شہروں کو نشانہ بنانے پر حوثیوں کی مذمت کی۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’میں سعودی عرب میں شہری اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بزدلانہ حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، جن کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔‘
ان کے مطابق ’پاکستان خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی عرب کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘