چترال گول نیشنل پارک کا گیٹ توڑ کر تعمیراتی سامان اندر لے جانے کی مبینہ کوشش، پولیس کا ملزمان کے خلاف کارروائی سے گریز
جمعرات 10 ستمبر 2026 17:42
چترال گول نیشنل پارک میں مبینہ طور پر بغیر اجازت تعمیراتی سامان لے جانے کی کوشش کے دوران نیشنل پارک کے مرکزی گیٹ کا تالا توڑ کر گاڑی اندر داخل کرنے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جبکہ محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے پولیس کو تحریری درخواست دیے جانے کے باوجود تاحال ایف آئی آر درج نہیں ہوسکی۔
محکمہ وائلڈ لائف کے حکام نے اردو نیوز کو بتایا کہ واقعہ 7 ستمبر 2026 کو شام تقریباً 6 بجے چترال انٹیگریٹ کے مقام پر پیش آیا، جہاں تعمیراتی سامان سے لدی ایک مزدا گاڑی نیشنل پارک کے داخلی گیٹ پر پہنچی۔
موقع پر موجود محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر متعلقہ اجازت نامہ (این او سی) موجود نہ ہونے کے باعث گاڑی کو پارک کی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موقع پر افراد نے گاڑی کو اندر لے جانے کی اجازت دینے کے لیے وائلڈ لائف اہلکاروں پر دباؤ ڈالا، تاہم اجازت نامہ نہ ہونے کے باعث اہلکاروں نے گاڑی کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔
الزام ہے کہ بعد ازاں مذکورہ افراد نے نیشنل پارک کے مرکزی گیٹ کا تالا توڑ دیا اور تعمیراتی سامان سے لدی گاڑی کو پارک کی حدود میں داخل کر لیا۔ ذرائع کے مطابق گیٹ سے آگے قائم چیک پوسٹ کا بیریئر بھی مبینہ طور پر ہٹا دیا گیا، جس کے بعد گاڑی کو مزید اندر جایا گیا۔
محکمہ وائلڈ لائف کے ذرائع کے مطابق واقعے کے وقت قریبی مقام پر پولیس اہلکاروں بھی موجود تھے تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی۔
خیال رہے اس سے قبل بھی نیشنل پارک کے اندر غیر قانونی تعمیرات کی کوشش کی گئی جسے روک دیا گیا تھا۔
اردو نیوز نے ڈی پی او لوئر چترال ریشما جہانگیر سے اس حوالے سے رابطہ کیا تو انہوں نے واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ اس حوالے سے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی درخواست موصول ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معاملے کی انکوائری کی جا رہی ہے اور اس کے بعد قانون حرکت میں آجائے گا۔
خیبر پختونخوا وائلڈ لائف اینڈ بائیو ڈائیورسٹی ایکٹ 2015 کی دفعہ 29 کے تحت نیشنل پارک کا بنیادی مقصد قدرتی مناظر، نباتات، جنگلی حیات، اہم ارضیاتی خصوصیات اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ہے۔
قانون کے مطابق نیشنل پارک میں رسائی کی سڑکوں، ریسٹ ہاؤسز، ہاسٹلز اور دیگر عمارتوں یا عوامی سہولیات کے علاوہ پرائیوٹ تعمیرات کی گجنائش نہیں۔ تاہم جن تعمیرات اور انتظامات کی اجازت ہے وہ بھی اس انداز میں ہونے چاہییں کہ نیشنل پارک کے قیام کا مقصد متاثر نہ ہو۔ مزید برآں ایسی سہولیات کو متعلقہ ماحولیاتی اثرات کے جائزے (EIA) یا ابتدائی ماحولیاتی جائزے (IEE) کی سفارشات سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔
اسی دفعہ کے تحت نیشنل پارک میں زمین صاف کرنا یا کسی مقصد کے لیے زمین توڑنا، کان کنی یا پتھر نکالنا، درختوں اور پودوں کو نقصان پہنچانا، مویشی چرانا، پانی کو آلودہ کرنا، کچرا پھینکنا اور مقررہ راستوں کے علاوہ گاڑیوں کا استعمال سمیت متعدد سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے۔ قانون میں بعض مخصوص حالات میں حکومت کی جانب سے تحریری اجازت کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے، بشرطیکہ ایسی سرگرمی نیشنل پارک کے بنیادی مقصد کو متاثر نہ کرے۔
وائلڈ لائف کی پولیس کو درخواست
واقعے کے بعد چترال گول نیشنل پارک کے ڈی ایف او نے متعلقہ تھانے کو تحریری طور پر وقوعے سے آگاہ کرتے ہوئے نامزد افراد کے خلاف قانونی کارروائی اور ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست دی ہے۔
تاہم ابھی تک پولیس نے اس حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔
اس واقعے نے چترال گول نیشنل پارک جیسے حساس محفوظ علاقے میں قانون کی عمل داری، غیر مجاز تعمیراتی سرگرمیوں، وائلڈ لائف اہلکاروں کے اختیارات اور پولیس و محکمہ وائلڈ لائف کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کے حوالے سے بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔