Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

موٹرسائیکل بیچ کر 50 ہزار روپے کا بجلی بل بھرنے جانے والے شہری کا 70 ہزار کا چالان نکل آیا

کاشف کا کہنا ہے کہ ’موٹرسائیکل کے سارے ای چالان ہیلمٹ نہ پہننے کے ہیں جن کے بارے میں مجھے کوئی پیغام موصول نہیں ہوا‘ (فوٹو: اردو نیوز)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع فیصل آباد کے رہائشی کاشف محمود کے لیے گھر کا بجلی کا بل ادا کرنا اُس وقت مزید مشکل ہوگیا جب وہ اس مقصد کے لیے اپنی موٹرسائیکل فروخت کرنے پہنچے۔
وہاں انہیں معلوم ہوا کہ اُن کے نام پر 35 ای چالان بھی موجود ہیں جن کی مجموعی رقم قریباً 70 ہزار روپے بنتی ہے۔ کاشف کے گھر بجلی کے دو بل آئے تھے جن کی مجموعی رقم 50 ہزار روپے سے زیادہ تھی۔
کاشف محمود موٹرسائیکل مکینک ہیں اور وہ ایک دُکان پر کام کرتے ہیں جہاں انہیں روزانہ قریباً ایک ہزار روپے اُجرت ملتی ہے۔ 
وہ پانچ بچوں کے والد ہیں اور اپنے بھائیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ انہوں نے اردو نیوز کو بتایا ’جب بجلی کا بل آیا تو اتنی بڑی رقم کا بندوبست کرنا میرے لیے آسان نہیں تھا چنانچہ میں نے بل ادا کرنے کے لیے اپنی موٹرسائیکل فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
ان کے مطابق ’موٹرسائیکل فروخت کرنے کی کوشش کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ میری بائیک پر 35 ای چالان واجب الادا ہیں۔‘
اردو نیوز کے پاس کاشف محمود کے بجلی کے بلوں اور ای چالان کی کاپیاں دستیاب ہیں جن میں بلوں اور چالانوں سے متعلق تفصیلات درج ہیں۔
کاشف نے بتایا کہ ’ان تمام چالانوں کی مجموعی رقم قریباً 70 ہزار روپے بنتی ہے۔‘ ان کے مطابق ’موٹرسائیکل خریدنے والے شخص نے انہیں بتایا کہ بائیک کی قیمت قریباً 82 ہزار روپے ہے، تاہم اس پر موجود چالانوں کی رقم بھی ادا کرنا ہوگی۔‘
کاشف کا کہنا ہے کہ ’جس شخص نے میری بائیک خریدنا تھی اس نے کہا کہ 82 ہزار روپے قیمت ہے لہٰذا آپ 12 ہزار لیں اور باقی میں چالان ادا کر دوں گا۔‘
اُن کے لیے یہ صورتِ حال اس لیے بھی تکلیف دہ تھی کہ جس موٹرسائیکل کو وہ بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے فروخت کرنا چاہتے تھے اس کی قریباً پوری قیمت ہی چالانوں کی ادائیگی میں چلی جاتی۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’یہ انتہائی تکلیف دہ تھا کہ میں بجلی کا بل موٹرسائیکل بیچ کر بھی پورے نہیں کر سکتا تھا جبکہ میرے گھر میں بجلی کا استعمال بھی محدود ہے۔‘

کاشف محمود کے مطابق ’انہوں نے موٹرسائیکل فروخت کرنے کے بجائے بھائیوں اور بہنوں سے قرض لے کر بل ادا کیا‘ (فائل فوٹو: فیسکو)

’میرے گھر میں جا کر کوئی دیکھے کچھ بھی نہیں ہے، بس تین پنکھے چلتے ہیں جو ہر گھر میں ہوتے ہیں۔گھر کے دیگر بنیادی اخراجات کے ساتھ 50 ہزار روپے سے زیادہ بجلی کا بل میرے لیے بڑی رقم ہے۔‘
کاشف کا کہنا ہے کہ ’موٹرسائیکل کے سارے ای چالان ہیلمٹ نہ پہننے کے ہیں اور میں نے کوئی اور غلطی نہیں کی۔ مجھے ان چالانوں کے بارے میں کوئی پیغام بھی موصول نہیں ہوا۔‘
’مجھے ان میں سے کسی چالان کا میسج نہیں آیا، اگر میسج آتا تو میں چالان دے دیتا اور مزید چالان سے بھی بچ جاتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں ماضی میں موٹرسائیکل چلاتے ہوئے ہیلمٹ استعمال نہیں کرتا تھا، تاہم اب میں نے یہ عادت بدل لی ہے۔‘
’اب سبزی لینے بھی جاتا ہوں تو ہیلمٹ پہن کر جاتا ہوں۔ میرا گھر بائی پاس سڑک کے قریب ہے اور اسی راستے پر موٹرسائیکل چلاتے ہوئے میرے متعدد چالان ہوئے۔
کاشف نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’موٹرسائیکل فروخت کرنے کے بجائے انہوں نے اپنے بھائیوں اور بہنوں سے قرض لے کر بجلی کا بل ادا کیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر میں مقررہ وقت پر بل ادا نہ کرتا تو بوجھ مزید بڑھ جاتا اور آخری تاریخ گزرنے کے بعد میرے لیے صورت حال مزید مشکل ہوسکتی تھی۔‘

شیئر: