کوئٹہ کے قریب ایک پہاڑی سلسلے میں نایاب نسل کے سلیمان مارخور کے غیر قانونی شکار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد محکمہ جنگلات و جنگلی حیات نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور ضلع پشین کے درمیان واقع تکتو پہاڑی سلسلہ سلیمان مارخور اور دیگر نایاب جنگلی حیات کا مسکن ہے۔ اس علاقے کو جنگلی حیات کے لیے محفوظ علاقہ قرار دیا گیا ہے جہاں انسانی سرگرمیوں اور شکار پر پابندی عائد ہے تاہم اس کے باوجود یہاں سے شکار کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں تین سے چار افراد کو ایک مارخور کے شکار کے بعد اس کو ذبح کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
حکام کے مطابق ویڈیو سے تین ملزمان کی شناخت مزمل، یعقوب اور اجمل کے طور پر ہوئی ہے جبکہ چوتھے ملزم کی شناخت تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ ملزمان کوئٹہ کے قریب کچلاک کی کلی سنزرخیلان کے مقامی رہائشی بتائے جاتے ہیں اور مقدمے کے اندراج کے بعد ان کی گرفتاری کے لیے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔
ڈپٹی کنزرویٹر وائلڈ لائف تکتو کوئٹہ، محمد کرم خان کاکڑ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’شکار کیا گیا جانور تین سال کا نایاب سلیمان مارخور تھا جسے شکار کے بعد ذبح کیا گیا۔‘
ان کے مطابق ’ملزمان کے خلاف بلوچستان وائلڈ لائف ایکٹ 2014 کی دفعات 10، 16 بی، سی، 35 اور 90 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ مقامی عدالت میں 44 لاکھ روپے کی وصولی کا چالان بھی جمع کرایا جا چکا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ وائرل ویڈیو کو فرانزک تجزیے کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ’ملزمان کی گرفتاری کے بعد ہی واقعے سے متعلق مزید حقائق سامنے آئیں گے کہ یہ کب ہوا۔‘
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق ’تکتو کے علاقے میں سلیمان مارخور کے شکار کے اب تک چار مقدمات درج ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کی بنیاد پر قائم ہوئے۔‘
گزشتہ برس جنوری میں دو سرکاری ملازمین سمیت متعدد افراد کو سلیمان مارخور کا شکار کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا لیکن گواہ کے انحراف کی وجہ سے وہ ماتحت عدالت سے بری ہو گئے۔ محکمہ جنگلات نے اس فیصلے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔

سلیمان مارخور کی اہمیت اور قانونی تحفظ
سلیمان مارخور کا شمار نایاب اور قیمتی جانوروں میں ہوتا ہے۔ اس کی نسل کو درپیش شدید خطرات کے باعث عالمی ادارے آئی یو سی این اور سی آئی ٹی ای ایس نے اس اسے معدومی کے خطرے سے دوچار انواع کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔
بلوچستان وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت اس کے شکار اور منتقلی پر مکمل پابندی ہے اور خلاف ورزی پر قید و جرمانے کی سزائیں مقرر ہیں۔
حکومتی تخمینے کے مطابق ایک سلیمان مارخور کی عالمی مارکیٹ میں کم از کم قیمت 80 ہزار امریکی ڈالر ہے جبکہ قانونی ٹرافی ہنٹنگ کے ذریعے یہ قیمت دو لاکھ ڈالر سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔
ڈپٹی کنزرویٹر کرم خان کاکڑ کا کہنا تھا کہ ’دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور سخت موسمی حالات کے باوجود محکمہ جنگلی حیات اس نایاب جانور کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔‘
ان کے مطابق ’پانی کی کمی دور کرنے کے لیے گدھوں اور موٹر سائیکلوں کے ذریعے پائپ لائنوں اور جیری کینز تک پانی پہنچایا جا رہا ہے تاکہ جنگلی حیات کو بچایا جا سکے۔‘
مقامی آبادی کے تحفظات
دوسری جانب مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ محکمہ جنگلات اور انتظامیہ غیر قانونی شکار میں ملوث با اثر افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے تکتو کے محفوظ علاقے میں شکار کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔













