’اب بینک اکاؤنٹس بلاک نہیں کر سکیں گے،‘ پینشن وصول کرنے کے نظام میں مزید کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں؟
جمعرات 10 ستمبر 2026 9:13
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان کی حکومت نے پینشنرز کو بینکوں کے چکروں اور طویل قطاروں سے نجات دلانے کے لیے بائیومیٹرک تصدیق اور لائف سرٹیفیکیٹ کا نظام تبدیل کر دیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت وزارتِ خزانہ نے سول و ملٹری پینشنرز کے لیے نیا ڈیجیٹل فریم ورک متعارف کراتے ہوئے بینکوں سے بائیومیٹرک تصدیق کا اختیار ختم کر کے تمام تر عمل نادرا کے سپرد کر دیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جارہ کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق کمرشل بینکوں کا کام صرف پینشن کی رقم منتقل کرنا ہوگا، جبکہ پینشنرز سے لائف سرٹیفیکیٹ وصول کرنے کا اختیار اب ان کے پاس نہیں رہے گا۔
’بینک اکاؤنٹس بلاک نہیں کر سکیں گے‘
نئے قواعد کے تحت بینکوں کو پینشنرز کے اکاؤنٹس بلاک یا غیر فعال (ڈورمنٹ) کرنے سے روک دیا گیا ہے تاکہ بائیومیٹرک میں تاخیر کی وجہ سے رقم کی ادائیگی متاثر نہ ہو۔
پالیسی کے تحت مارچ اور ستمبر میں تصدیق کی پُرانی شرط ختم کر دی گئی ہے اور پینشنرز کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ سال میں ہر چھ ماہ (180 دن) بعد کسی بھی وقت تصدیق کرا سکتے ہیں۔
’نظام میں شفافیت‘
نظام میں شفافیت لانے کے لیے نادرا کے ڈیٹا بیس کو ڈائریکٹ ’کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس‘ اور ’ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل‘ سے منسلک کر دیا گیا ہے تاکہ بائیومیٹرک ہوتے ہی ’ڈیجیٹل لائف سگنل‘ فوراً اکاؤنٹس آفس منتقل ہو جائے۔
اس نئے ڈیجیٹل اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نادرا نے پینشنرز کے لیے تمام تر تصدیقی خدمات کو مکمل طور پر مفت کر دیا ہے۔
اس ڈیجیٹل منصوبے کو کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے نادرا نے پینشنرز کے لیے تصدیق کی تمام خدمات مکمل طور پر مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
گھر بیٹھے بائیومیٹرک تصدیق ہو سکے گی
پینشنرز اور ان کے اہل خانہ اب 'PakI’‘ ایپ کے ذریعے اپنے سمارٹ فون سے گھر بیٹھے بائیومیٹرک یا فیشل ریکگنیشن مکمل کر سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں نادرا سینٹرز کے ساتھ ملک بھر میں 5 ہزار سے زائد ’ای سہولت‘ مراکز بھی فعال کر دیے گئے ہیں، جبکہ بیمار اور معذور پینشنرز کی تصدیق کے لیے نادرا کی موبائل وینز اور بائیکر سروس کے ذریعے گھر جا کر یہ خدمات فراہم کی جائیں گی۔
تاہم یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کو پینشنرز کے لیے ان نئے اقدامات کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
حکومت کی جانب سے پینشن کے نظام میں اس بڑی اور بنیادی تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ بزرگ اور معمر شہریوں کو درپیش شدید انتظامی و جسمانی تکالیف کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق ’سابقہ نظام میں 70 یا 80 سال سے زائد عمر کے بیمار اور معذور پینشنرز کو سال میں دو مرتبہ سخت موسم کے باوجود بینکوں کے چکر لگانا پڑتے تھے۔‘
بائیومیٹرک کی ناکامی اور اکاؤنٹس کا بلاک ہونا
زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے اکثر پینشنرز کی انگلیوں کے نشانات (فنگر پرنٹس) مِٹ جاتے تھے، جس کے باعث بینکوں کی ڈیوائسز پر بائیومیٹرک تصدیق ناکام ہو جاتی تھی۔
تصدیق میں اس تاخیر یا ناکامی پر بینک فوراً پینشنرز کے اکاؤنٹس کو غیر فعال یا بلاک کر دیتے تھے، جس کے نتیجے میں بزرگ شہریوں کی ماہانہ پینشن مہینوں اٹکی رہتی تھی اور وہ اپنی ادویات و ضروریاتِ زندگی کے لیے مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے تھے۔
شفافیت کا قیام اور جعلی پینشنز کا خاتمہ
ماہرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پُرانے کاغذی نظام میں بے ضابطگیاں اور کرپشن بھی موجود تھی، متعدد کیسز میں پینشنر کی وفات کے بعد بھی بینکوں یا دیگر عملے کی ملی بھگت سے جعلی پینشنز وصول کی جاتی رہیں۔
اب نادرا کے ڈائریکٹ اور لائیو ڈیجیٹل ڈیٹا بیس سے اس کاغذی کارروائی کا خاتمہ ممکن ہوا ہے، کیونکہ نادرا کے پاس وفات کے اندراج کا جامع سسٹم موجود ہے جس سے جعلی وصولیوں کا مکمل خاتمہ ہوگا اور قومی خزانے کی بچت ہوگی۔
اگرچہ پینشنرز کو بینکوں سے نجات دلانے کے اس دعوے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، لیکن ماہرین نادرا کی عملی صلاحیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ لاکھوں سول اور ملٹری پینشنرز کا بوجھ سنبھالنے کے لیے پاک آئی ڈی ایپ اور نادرا سسٹمز کا بلامعطل چلنا ضروری ہے، وگرنہ سگنل میں معمولی تاخیر بھی بزرگ شہریوں کی پینشن کی معطلی کا باعث بن سکتی ہے۔
