Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نئی 5 سالہ آٹو پالیسی کا مسودہ منظور، کیا پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں سستی ہوں گی؟

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی آئندہ پانچ سالہ نئی آٹو پالیسی (2026 تا 2031) کے مسودے کی منظوری دے دی ہے، تاہم اس پانچ سالہ آٹو پالیسی کی حتمی منظوری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مشاورت کے بعد متوقع ہے۔
پالیسی کے مسودے کو وزیراعظم سے منظوری کے بعد قانونی جانچ پڑتال کے لیے وزارتِ قانون ارسال کر دیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس مسودے کی حتمی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کرے۔
گزشتہ کئی مہینوں سے زیر بحث رہنے والی اس آٹو پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں روایتی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ الیکٹرک اور نیو انرجی گاڑیوں کی صنعت کو فروغ دینا، گاڑیوں کے معیار کو بہتر بنانا اور عام صارف کے لیے ان کی قیمتوں میں کمی لانا ہے۔
تاہم آٹو سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اگرچہ اس پالیسی کے خد و خال پر طویل بحث کر چکی ہے، مگر جب تک اس کا حتمی نفاذ سامنے نہیں آتا تب تک اس کے حقیقی اثرات اور ثمرات کے بارے میں کوئی بھی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہے۔
لیکن سب سے پہلے یہ جائزہ لیتے ہیں کہ وزیراعظم کی جانب سے منظور کیے گئے اس پالیسی مسودے میں بنیادی طور پر کیا اہم اقدامات شامل کیے گئے ہیں؟
نئی پالیسی میں ایک طرف تو پہلے سے کام کرنے والے روایتی گاڑیوں کے اسیمبلرز کے لیے اگلے چار سال تک ٹیرف کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے لیکن ساتھ ہی ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کو سستا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹیکس مراعات بھی دی گئی ہیں۔
ٹیکس کی شرح میں کمی 
مسودے میں ترمیم کرتے ہوئے وزیراعظم کی جانب سے ہدایت دی گئی ہے کہ بیٹری الیکٹرک گاڑیوں کو ٹیکس میں سب سے زیادہ رعایت ملنی چاہیے جبکہ رینج ایکسٹینڈڈ اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں کو مختلف کیٹیگریز میں رکھ کر ان کی مراعات الگ مقرر کی جائیں۔
نئی پالیسی میں تمام نیو انرجی گاڑیوں، ان کے پرزوں اور خام مال پر سیلز ٹیکس کم کر کے محض ایک فیصد کرنے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ فیڈرل ایکائز ڈیوٹی، کیپٹل ویلیو ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کر دیے گئے ہیں۔ 
الیکٹرک گاڑیوں کے لیے قرض کی حد میں اضافہ
الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مالیاتی سہولیات فراہم کرنے کی غرض سے بینک قرض کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے اور ادائیگی کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی ہے جبکہ چارجنگ سٹیشنز کے آلات کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی گھٹا کر ایک فیصد کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب روایتی پٹرول، ڈیزل اور عام ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹیز کا یکساں اطلاق ہوگا، تاہم ہزار سی سی سے کم صلاحیت والی گاڑیوں پر مجوزہ فیڈرل ایکائز ڈیوٹی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ 
پالیسی کے پہلے دو سالوں میں کسٹم ڈیوٹی کی موجودہ شرح برقرار رہے گی جس کے بعد اس میں تدریجی کمی کی جائے گی اور پانچویں سال یعنی 2030-31 میں تمام گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی کم ہو کر 15 فیصد رہ جائے گی۔
گاڑیوں پر عائد ڈیوٹیز  کی شرح 
ٹیکس ریٹس کی تفصیل کے مطابق ہزار سی سی تک کی گاڑیوں پر پہلے دو برسوں میں 50 فیصد کسٹم ڈیوٹی اور 25 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہوگا جبکہ پالیسی کے آخری اور پانچویں سال کسٹم ڈیوٹی گھٹ کر 15 فیصد رہ جائے گی۔
اسی طرح  1001 سے 1800 سی سی گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی 50 فیصد اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 15 فیصد سے شروع ہو کر پانچویں سال 15 فیصد ڈیوٹی پر آئے گی۔ 
جبکہ 1800 سی سی سے زائد کی بڑی گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی 40 فیصد اور فیڈرل ایکائز ڈیوٹی 60 فیصد رکھی گئی ہے، جو پانچویں سال گھٹ کر 15 فیصد ڈیوٹی پر آ جائے گی۔ 
البتہ حکومت کی جانب سے روایتی گاڑیوں کے ٹیرف میں کمی سے پیدا ہونے والے فرق کو پورا کرنے کے لیے مزید فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی نافذ کر دی گئی ہے، جس کے باعث شروع کے سالوں میں گاڑیوں کے نرخوں میں کوئی واضح یا یکدم کمی نہیں دیکھی جا سکے گی۔
گاڑیوں کی صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کے نفاذ سے پاکستان میں بالخصوص الیکٹرک اور نیو انرجی گاڑیوں کی مقامی پیداوار کو نئی جلا ملے گی۔ 
“جب سیلز ٹیکس ایک فیصد اور بنیادی خام مال و آلات پر کسٹم ڈیوٹی میں رعایت دی جائے گی تو بین الاقوامی کمپنیاں مقامی سطح پر پلانٹس لگانے کے لیے راغب ہوں گی۔”
اُن کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف گاڑیوں کے پارٹس مقامی سطح پر تیار کرنے کی صنعت (وینڈر انڈسٹری) کو فروغ ملے گا بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
تاہم معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ملک میں ٹیکس آمدن بڑھانے کے سخت مطالبات کے پیشِ نظر نیو انرجی گاڑیوں پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں اس قدر بڑی چھوٹ پر آئی ایم ایف کی اجازت ملنا خاصا مشکل دکھائی دیتا ہے، اسی لیے فی الوقت یہ پالیسی عملی طور پر کتنی کامیاب ہو پائے گی، اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا انتہائی قبل از وقت ہے۔

شیئر: