Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا پنجاب میں جاری اینٹی کرپشن مہم کا ملک میں سسٹم ری سیٹ اور نئے صوبوں کی بحث سے کیا تعلق ہے؟

محکمہ پولیس نے بھی اہلکاروں کی رشوت لینے کی ویڈیوز سامنے آنے پر ایس ایچ اوز کو الٹی میٹم دیا گیا ہے (فائل فوٹو:آئی این پی)
پنجاب میں کرپشن کے خلاف مہم نے ایک نئی سمت لے لی ہے۔ اس مہم کے دوران مختلف سرکاری محکموں میں افسران اور اہلکاروں کی کرپشن پکڑی جار رہی ہے۔
یونیورسٹی آف ویٹرنری سائنسز میں وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے چئیرمین ڈاکٹر ارشد جاوید کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کے خلاف اس بات کی انکوائری کی جا رہی ہے کہ ان کی نوکری کے دوران نایاب نسل کے پرندے اور جانور غائب ہوئے۔ جن میں نایاب نسل کے درجنوں چنکارا ہرن، نایاب طوطے، مور اور کئی طرح کے جانور شامل ہیں جن کی مالیت چار کروڑ سے زائد ہے۔ 
 
اردو نیوز کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق چئیرمین پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے ڈیپارٹمنٹ کی تیرہ سو ایکڑ اراضی کا دس سالوں میں منافع صرف چند لاکھ روپے بتایا۔ جبکہ غائب ہونے والے جانوروں کی خوراک کی مد میں رقم بھی مسلسل نکلوائی جاتی رہی۔ جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے آڈٹ دیگر افسران اور اہلکاروں سے متعلق بھی کئے جا رہے ہیں۔
دوسری طرف محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سرکاری اہلکاروں کے خلاف  براہ راست انٹی کرپشن مہم جاری ہے۔ جس نے جہاں صوبے کی انتظامی مشینری میں زلزلہ برپا کر رکھا ہے، وہاں اس مہم کے نتائج اب ایک بڑے انتظامی اور سیاسی بحران کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اینٹی کرپشن حکام کی جانب سے مختلف سرکاری دفاتر، بالخصوص محکمہ مال اور پولیس میں کی جانے والی حالیہ کارروائیوں کے بعد صوبے بھر میں چھاپوں کے ردعمل میں پٹواریوں کی جانب سے شروع کی جانے والی قلم چھوڑ ہڑتال ایک نئی صورت حال پیدا کر دی ہے۔

رنگے ہاتھوں گرفتاریاں اور وائرل مناظر

 

پچھلے ایک ہفتے کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کئی کامیاب "ٹریپ ریڈز" کی گئیں جن میں سے دو واقعات نے سوشل میڈیا اور لوکل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی اور ان کی تصاویر و ویڈیوز وائرل ہوئیں۔ پہلا نمایاں واقعہ میانوالی میں پیش آیا جہاں اینٹی کرپشن ٹیم نے چک نمبر 1 سے 3 ڈی بی کے پٹواری محمد مقبول کو ایک شہری سے انتقالِ جائیداد کے عوض ایک لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔ شہری محمد نوید کی شکایت پر نشان زدہ نوٹ برآمد کیے گئے اور پٹواری کی موقع پر گرفتاری اور تصویر کے منظر عام پر آنے پر شہریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
 اسی نوعیت کا دوسرا وائرل واقعہ مظفر گڑھ میں پیش آیا جہاں اینٹی کرپشن نے کارروائی کرتے ہوئے ایک پٹواری کو شہری سے زمین کے کاغذات کی درستگی اور فرد کے اجراء کے بدلے تیس ہزار روپے رشوت وصول کرتے ہوئے موقع پر ہی دبوچ لیا۔ ملزم کے قبضے سے کیمیکل لگے نوٹ برآمد ہوئے اور اینٹی کرپشن کے سرکاری ہینڈل سے اس گرفتاری کی تصویر جاری کی گئی جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ سوشل میڈیا صارفین نے ان گرفتاریوں کی تصاویر پر ملا جلا ردعمل دیتے ہوئے جہاں اینٹی کرپشن کے اقدام کو سراہا، وہیں یہ سوال بھی اٹھایا کہ صرف جونیئر سطح کے ملازمین ہی کیوں پکڑے جاتے ہیں جبکہ بڑے افسران کے گرد گھیرا تنگ ہونا باقی ہے۔

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کئی کامیاب ’ٹریپ ریڈز‘ کی گئیں جن میں سے دو واقعات نے سوشل میڈیا اور لوکل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اسی طرح ایک باریش پولیس اہلکار کو بھی دس ہزار روپے رشوت لینے کے الزام میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کی ویڈیو بھی وائرل ہے۔ جس پر بھی خاصا رد عمل آیا ہے۔ اسی طرح خود انٹی کرپشن محکمے کے 21 افسران اور اہلکاروں کے خلاف بھی کاروائی کی گئی ہے۔ ادارے کے ترجمان کے مطابق کرپشن کے خلاف کاروائیاں بلاتفریق جاری رہیں گی۔
 
پٹواریوں کی قلم چھوڑ ہڑتال:
ان حالیہ چھاپوں اور سرکاری اہلکاروں کی گرفتاریوں کی تصاویر عام کرنے کے خلاف ریونیو فیلڈ سٹاف اور پٹواریوں نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اردو نیوز نے کئی  پٹواریوں اور محکمہ مال کے ملازمین سے بات چیت کی ہے جنہوں  نے اینٹی کرپشن کی ان کارروائیوں کو بلاجواز ہراسانی قرار دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ "حکومت اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے جعلی طور پر ٹریپ کر رہی ہے۔ اور سب کچھ سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے۔‘
 دوسری جانب محکمہ مال کے فیلڈ سٹاف بشمول پٹواریوں نے پنجاب بھر میں قلم چھوڑ ہڑتال کر دی ہے۔ اس ہڑتال کے باعث صوبے کے متعدد اضلاع میں لینڈ ریکارڈ سینٹرز اور پٹوار خانوں میں کام کاج مکمل طور پر ٹھپ ہو چکا ہے۔ عام شہریوں کو جائیدادوں کی خریدو فروخت، فرد کی فراہمی، انتقال اور دیگر لازمی دستاویزات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں اور جائیداد کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔
اسی طرح محکمہ پولیس نے بھی اہلکاروں کی رشوت لینے کی ویڈیوز سامنے آنے پر ایس ایچ اوز کو الٹی میٹم دیا ہے کہ کرپشن کے واقعات میں  پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ  متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو بھی براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ اینٹی کرپشن کی سرکاری رپورٹس اور دستاب اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت پنجاب بھر کے مختلف محکموں کے 62 اہلکاروں کے خلاف تادیبی کاروائیاں کی گئی ہیں اور درجنوں افسران و اہلکاروں کو معطل یا گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ترجمان محکمہ انٹی کرپشن کے مطابق ‘کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس حکومت کی پالیسی ہے اور اس پر من و عن عمل کیا جا رہا ہے۔‘

سیاسی درجہ حرارت، نااہلی کا بیانیہ اور نئے صوبوں کی مہم

مبصرین پنجاب کے اندر اینٹی کرپشن مہم کے اس ابھار کو محض ایک اتفاقی انتظامی اقدام نہیں سمجھ رہے بلکہ اس کے تانے بانے ملک میں جاری گہرے سیاسی و حکمرانی کے بحران سے جوڑ رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب وفاقی سطح پر وزیر داخلہ اور دیگر اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے موجودہ سسٹم کی کارکردگی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور نظام کو ری سیٹ کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں، اور دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں بھی گورننس کی کمزوریوں اور ناقص کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، اس سے سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسی گورننس کی خرابی کے ردعمل میں پنجاب کو تقسیم کرنے اور نئے صوبوں کی تشکیل کی مہم نے بھی دوبارہ زور پکڑا ہے۔

گورننس کی خرابی کے ردعمل میں پنجاب کو تقسیم کرنے اور نئے صوبوں کی تشکیل کی مہم نے بھی دوبارہ زور پکڑا ہے (فائل فوٹو: پکسابے)

اس تمام تر سیاسی و انتظامی کشمکش میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا حالیہ دورہ لندن کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب میں دیا گیا بیان انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ جب ان سے نئے صوبوں کی مہم اور دوسرے صوبوں سے خطرے سے متعلق بیان پر وضاحتی سوال کیے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ ‘پنجاب کو نا اہلی سے خطرہ ہے۔‘ تاہم ان کا یہ بیان بھی وضاحت طلب ہے کہ ان کا اشارہ کس ناہلی کی طرف ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان واپس آ کر ان باتوں کا جواب دیں گی۔
تاہم وزیر اعلی آفس کے ایک بیان کے مطابق کرپٹ سرکاری اہلکاروں کے خلاف کاروائیاں آنے والے دنوں میں مزید تیز کی جائیں گی۔

 

شیئر: