فن پاروں میں عسیر کی ثقافت محفوظ کرنے کی کوشش رہی ہوں: عفاف آل دعجم
ہر خطے کی ایک کہانی ہوتی ہے اور عسیر کی کہانی رنگوں سے مزین ہے۔ عسیری فنکاروں نے اپنے فن کے ذریعے خطے کی ثقافت کو نمایاں کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے ورثہ بھی ہے اور یادگار بھی۔
تجریدی فنکارہ عفاف آل دعجم نے الاخباریہ کو بتایا کہ انہوں نے علاقے کی ثقافت کو اپنے فن پاروں کے ذریعے اس انداز میں اجاگر کیا کہ وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئی۔
عسیر کی ثقافت مختلف رنگوں میں جھلکتی ہے جن میں عسیری طرز کے دروازے، کھڑکیاں اور ان پر بنائے گئے رنگ برنگے نقش و نگار نمایاں ہیں۔
اس کے علاوہ روایتی تھالیاں بھی علاقے کی ثقافت کی عکاسی کرتی ہیں جن پر مختلف نقش و نگار کندہ کیے گئے ہیں۔ ان تھالیوں میں مقامی پکوان پیش کیے جاتے ہیں اور یہ مختلف قبائل کی ثقافتی شناخت بھی سمجھی جاتی ہیں جن میں بنی عمر، بنی شہر، بلسمر اور بلحمر نمایاں ہیں۔
عفاف آل دعجم نے بتایا کہ دو تھالیوں پر موزیک کے طرز کا کام کیا گیا ہے جن پر ’قط العسیری‘ نمایاں ہے۔ ان میں بعض نقوش ایسے ہیں جن کی تاریخ 80 برس سے بھی زیادہ پرانی ہے۔
ایگزیبیشن ہال میں نصب ایک تجریدی آرٹ کی پینٹنگ جسے ’لوحہ نورا‘ کا نام دیا گیا ہے یہ علاقے کی قدیم روایت کی نمائندگی کرتی ہے۔
پینٹنگ میں عسیر ریجن کی خواتین کے روایتی لباس اور طرزِ زندگی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ خاتون کا لباس اس کے علاقے کی ثقافتی شناخت کی عکاسی کرتا ہے جبکہ چکنی مٹی سے بنے مکانات کے ذریعے علاقے کے روایتی رہن سہن کو نمایاں کیا گیا ہے۔
پینٹنگ ’لوحہ نورا‘ میں قدیم اور ثقافتی ملبوسات بھی دکھائے گئے ہیں جو ماضی میں علاقے میں رائج تھے۔ ان ملبوسات کے رنگوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ عسیری خواتین رنگوں کو خاص طور پر پسند کرتی رہی ہیں۔