’بے دخلی نہ پرچے منسوخ‘، لاہور ہائیکورٹ نے میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کے خلاف کارروائی سے روک دیا
’بے دخلی نہ پرچے منسوخ‘، لاہور ہائیکورٹ نے میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کے خلاف کارروائی سے روک دیا
جمعہ 11 ستمبر 2026 11:39
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز
افغان طلبہ نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا (فوٹو: اے پی پی)
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز کو افغان طلبا کو بے دخل کرنے سے روک دیا۔
یہ حکم 30 سے زائد افغان طلبہ کی جانب سے ان کی بے دخلی کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت پر جاری کیا گیا ہے۔
جسٹس خالد اسحاق کی عدالت میں ہونے والی سماعت میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان طلبا کے پاس مطلوبہ دستاویزات موجود نہیں ہیں اور دنیا بھر میں اصول ہے کہ درست ویزے کے بغیر کسی شخص کو قیام کی اجازت نہیں دی جاتی۔
اس پر جسٹس خالد اسحاق نے استفسار کیا کہ جب ان طلبا کو میڈیکل کالجز میں داخلہ دیا گیا تو انہیں تعلیمی ویزے کیسے جاری کیے گئے؟
عدالت نے سوال اٹھایا کہ طلبا کو چار، چار سال تک تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دینے کے بعد انہیں واپس بھیجنے کا فیصلہ کیسے کیا گیا جبکہ کسی طالب علم کے خلاف ایسا اقدام کرنے سے پہلے اسے سنا جانا چاہیے تھا۔
سماعت کے دوران پی ایم اینڈ ڈی سی کے وکیل نے معاملے کو ریاستی سلامتی سے متعلق قرار دیتے ہوئے امریکا میں ویزا قوانین کی مثال دی اور کہا کہ امریکا میں بھی درست ویزے کے بغیر قیام نہیں کیا جاسکتا۔
اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر حکومت افغان طلبا کو واپس بھیجنا چاہتی ہے تو انہیں اپنی میڈیکل تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس بھیجا جا سکتا ہے۔
جسٹس خالد اسحاق نے ریاستی سلامتی سے متعلق مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کوئی ریاستی سکیورٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے ’جب ان طلبا پر پیار آیا ہوا تھا تو پوری دنیا میں اس کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا تھا، کل تک فیورٹ چائلڈ تھے، آج پالیسی تبدیل ہو گئی۔‘
پی ایم اینڈ ڈی سی کے وکیل نے موقف تھا کہ افغان طلبہ کے پاس مطلوبہ دستاویزات موجود نہیں (فوٹو: پی ایم اینڈ ڈی سی)
جسٹس خالد اسحاق نے پی ایم اینڈ ڈی سی کے اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پی ایم اینڈ ڈی سی کو ’شاہی حکم‘ آیا اور اس کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا لیکن طلبا کو نکالنے سے پہلے ایک بار تو انہیں سنا جاتا۔ دوران سماعت عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’آپ ان طلبہ کو سزائے موت ہی دے دیں۔‘
سماعت کے اختتام پر لاہور ہائیکورٹ نے واضح ہدایت کی کہ پنجاب کا کوئی میڈیکل کالج کسی افغان طالب علم کو بے دخل نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کے امتحانی پرچے منسوخ کیے جائیں گے۔
عدالت نے درخواستوں پر مزید کارروائی اگلے جمعے تک ملتوی کردی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں زیر تعلیم افغان میڈیکل طلبا کے خلاف کارروائی کا معاملہ گزشتہ چند روز سے زیر بحث ہے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے 31 جولائی کو افغان شہریوں کے میڈیکل اور ڈینٹل پروگرامز میں داخلوں اور ان کی تعلیمی حیثیت سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں جنہیں یکم ستمبر کو ملک کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو بھیجا گیا۔
پی ایم ڈی سی کا مراسلہ
پی ایم اینڈ ڈی سی کے یکم ستمبر کے مراسلے میں موجودہ تعلیمی سیشن کے دوران افغان شہریوں کو میڈیکل اور ڈینٹل پروگرامز میں نئے داخلے، پلیسمنٹ، ٹرانسفر یا مائیگریشن نہ دینے کی ہدایت کی گئی تھی اورزیر تعلیم افغان طلبا کو بھی موجودہ پالیسی کے مطابق افغانستان واپس بھیجنے کے لیے ضروری کارروائی مکمل کرنے کا کہا گیا تھا۔
عدالت سے رجوع کرنے والوں میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور دوسرے اداروں کے طلبہ شامل تھے (فوٹو: کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی)
ہدایات کے بعد لاہور کے بعض میڈیکل اداروں میں افغان طلبا کے خلاف کارروائی شروع ہوئی۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی نے 7 ستمبر کو افغان طلبا سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں انہیں متعلقہ دفتر سے رابطہ کرکے ضروری انتظامی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق کنگ ایڈورڈ کالج میں تقریباً 20 افغان ایم بی بی ایس طلبا زیر تعلیم تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان میں ایسے طلبہ بھی شامل تھے جو میڈیکل تعلیم کے آخری مراحل میں پہنچ چکے تھے۔
افغان طلبا کا لاہور ہائیکورٹ سے رجوع
فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور میں بھی اطلاعات کے مطابق 21 افغان طالبات پی ایم اینڈ ڈی سی کی ہدایات کے تحت واپسی سے متعلق کارروائی مکمل کرنے کو کہا گیا۔
جس کے بعد 10 ستمبر کو 13 افغان میڈیکل طلبا نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
درخواست گزاروں میں 7 خواتین اور 6 مرد شامل تھے، اور ان کا تعلق کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، شیخ خلیفہ بن زاید النہیان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سمیت مختلف اداروں سے بتایا گیا ہے۔
ان طلبا نے پی ایم اینڈ ڈی سی کی 31 جولائی اور یکم ستمبر کی ہدایات کو چیلنج کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں پہلے سے جاری میڈیکل تعلیم سے محروم کرنے کے لیے کونسل کے پاس قانونی اختیار نہیں تھا۔
اس معاملے میں پی ایم اینڈ ڈی سی کا مؤقف یہ ہے کہ پاکستان میں میڈیکل تعلیم کے حصول پر قومیت کی بنیاد پر کوئی پابندی عائد نہیں۔ کونسل نے ایک روز قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ افغان میڈیکل طلبا کا جاری جائزہ کسی مخصوص قومیت کے خلاف امتیازی کارروائی نہیں ہے بلکہ قواعد و ضوابط کی پاسداری اور دستاویزات کی جانچ کا معاملہ ہے۔
عدالت نے درخواستوں پر مزید کارروائی اگلے جمعے تک ملتوی کردی (فائل فوٹو: اے پی پی)
پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق پاکستان اپنے ریگولیٹری فریم ورک اور حکومتی پالیسیز کے مطابق ملک میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند غیر ملکی شہریوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ مقررہ تعلیمی، رجسٹریشن، دستاویزی اور امیگریشن تقاضے پورے کرنے والے غیر ملکی طلبا کو باقاعدہ نظام کے تحت تعلیم حاصل کرنے کی سہولت دی جاتی ہے۔
کونسل کے مطابق افغان میڈیکل طلباء کی تصدیق اور ریگولیٹری جائزے سے معلوم ہوا کہ پاکستان میں 200 سے زائد افغان طلباء میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تاہم ان میں سے صرف 22 طلباء اس وقت پی ایم اینڈ ڈی سی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ کونسل کا کہنا ہے کہ باقی طلبا کی حیثیت اور دستاویزات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
اس معاملے میں وفاقی حکومت کے مؤقف نے بھی اہمیت اختیار کی ہے۔ 10 ستمبر کو دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ جو افغان طلبا کسی تسلیم شدہ ڈگری پروگرام میں باقاعدہ داخل ہیں اور ان کے پاس درست ویزا موجود ہے وہ پاکستان میں اپنی تعلیم مکمل کرسکتے ہیں۔ دفتر خارجہ کے اس مؤقف کے مطابق ہر افغان طالب علم کو محض اس کی قومیت کی بنیاد پر تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس نہیں بھیجا جارہا بلکہ قانونی حیثیت، ویزا اور تعلیمی اندراج بنیادی عوامل ہیں۔