Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مری سے دو بچیوں کا اغوا اور کشمیر منتقلی، کئی علاقوں تک تشویش پھیلانے والا واقعہ کب اور کیسے ہوا؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع مری کی یونین کونسل گہل پنتی کے موضع کوہاٹی کاکڑائی کے گاؤں میں دو بچیوں کے اغوا کا ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
اس کے خلاف جہاں مری کے مختلف مقامات پر عوامی احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے، وہیں جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں مقیم مری اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے شہریوں میں بھی گہری تشویش اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کیوں اور کیسے منتقل کیا گیا؟

تھانہ نیو مری میں درج ایف آئی آر کے متن میں 15 اور 18 سالہ بچیوں کی والدہ اکسیرہ بی بی کا کہنا ہے کہ ’4 ستمبر کو رات کے قریباً دو بجے اچانک گھر کے باہر گاڑی اور موٹر سائیکلوں کا شور سنائی دیا اور پھر سات سے آٹھ مسلح افراد اندر آ گئے اور انہوں نے آتے ہی سب سے پہلے مجھے رسیوں سے باندھا اور پھر میری دو بیٹیوں، جن کی عمریں 15 اور 18 سال ہیں، کو زبردستی لے گئے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق ملزم فرار ہونے لگے تو گاڑی سٹارٹ نہ ہو سکی جس پرملزمان لڑکیوں کو موٹر سائیکل پر بیچ میں بٹھا کر دریا پار کر کے کشمیر کی حدود میں فرار ہو گئے۔
اگرچہ ایک روز بعد بچیوں کی گھر واپسی ممکن ہو گئی لیکن اس واقعے نے مری، کوٹلی ستیاں اور آزاد کشمیر کے ملحقہ علاقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے اور یہ معاملہ خطے کا ایک بڑا تنازع بن کر سامنے آیا ہے۔
اس واقعے کی حساسیت کے پیشِ نظر مری انتظامیہ اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام کے درمیان  رابطہ قائم کیا گیا ہے جبکہ صورتحال کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے مری سے منتخب عوامی نمائندوں کو بھی اس معاملے پر پریس کانفرنس کرنا پڑی۔
دوسری جانب مری اور کوٹلی ستیاں کے علاقائی عمائدین اور شہریوں نے مری جھیکا  گلی کچہری میں جمع ہو کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا اور مقامی انتظامیہ سے ملزمان کی فوری گرفتاری سمیت دیگر مطالبات پیش کیے۔
اس تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب مری گہل کاکڑائی کے رہائشی شکیل عباسی جن کی زوجہ کا تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے ٹائیں ڈھلکوٹ (پونچھ ڈیویژن) سے ہے، کے بیٹے نے پسند کی شادی کی اور پھر دونوں روپوش ہو گئے۔
تاہم دوسری جانب ٹائیں ڈھلکوٹ کے گاؤں مال کے رہائشی اور لڑکی کے والد عمران شاہ کاظمی نے الزام عائد کیا ہے کہ شکیل عباسی کے بیٹے نے ان کی 16 سالہ بیٹی کو اغوا کر کے زبردستی اس سے شادی کی۔

رپورٹس کے مطابق بچیوں کو مری سے اغوا کے بعد پاکستان کے زیرانتظام کشمیر لے جایا گیا (فوٹو: ٹریول ٹیلز)

اس شادی کے بعد کشمیر میں مقیم دوسرے خاندان نے مری میں شکیل عباسی کے اہل خانہ کو پیغام بھجوایا کہ ’آپ کے پاس محدود وقت ہے، ہمارے سامنے اپنے بیٹے اور ہماری بیٹی کو پیش کریں۔‘
تاہم شکیل عباسی کے خاندان نے واضح کیا کہ انہیں اس بات کی کوئی خبر نہیں کہ ان کا بیٹا اور لڑکی اس وقت کہاں مقیم ہیں یا کس حال میں ہیں۔
شکیل عباسی کے اہل خانہ کے مطابق اس مہلت کے ختم ہونے پر، ایف آئی آر میں نامزد ملزم عمران شاہ اپنے کچھ مسلح ساتھیوں کے ساتھ مری  کاکڑائی پہنچے اور رات کے اندھیرے میں شکیل عباسی کی بچیوں کو زبردستی اغوا کر کے اپنے گاؤں لے گئے۔

دوسرے خاندان کا موقف

کشمیر کی تحصیل ٹائیں ڈھلکوٹ کے رہائشی عمران شاہ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ان کی بیٹی کو شکیل عباسی کے بیٹے نے اغوا کیا۔ واقعے کے بعد وہ خود شکیل عباسی کے گھر گئے اور اپنی بیٹی کی واپسی کا تقاضا کیا لیکن انہوں نے کوئی تعاون نہیں کیا۔ 
عمران شاہ کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ان کے خاندان کے دیگر افراد نے ردِعمل کے طور پر شکیل عباسی کی بیٹیوں کے اغوا جیسے قدم اٹھائے۔ انہوں نے خود بھی اس معاملے پر اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔
تاہم مری سے بچیوں کے اغوا کے واقعے کے فوری بعد مقامی سطح پر تحرک دیکھنے میں آیا۔
رشتہ داروں اور اہل علاقہ کے اطلاع ملنے پر مری سے کچھ عمائدین نے کشمیر کے علاقے ٹائیں ڈھلکوٹ کا رخ کیا۔ وہاں دونوں فریقین کے درمیان جرگہ ہوا، جس میں طے پانے والے معاہدے اور پولیس کی معاونت کے نتیجے میں بچیاں واپس آئیں۔
لیکن اس سمجھوتے کے باوجود یہ تنازع ٹھنڈا نہ ہو سکا اور مری بھر میں عوامی تشویش بڑھ گئی۔ مقامی شہریوں نے درج کی گئی ایف آئی آر پر سوالات اٹھائے اور ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی نہ ہونے پر آواز اٹھانا شروع کر دی اور آج یہ تنازع شدت اختیار کر چکا ہے۔

’معاہدہ انصاف پر مبنی نہیں تھا‘

اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کیس میں متاثرہ خاندان کی نمائندگی کرنے والے شکیل عباسی کے قریبی محمد عمران عباسی نے بتایا کہ اس معاہدے پر ہمارے رضامندی حاصل نہیں کی گئی تھی۔ یہ اقدام صرف صورتحال کو سنبھالنے کے لیے اس شرط کے تحت اٹھایا گیا کہ مخالف فریق کو 10 دنوں کے اندر ان کی بیٹی واپس کرنا ہوگی، جس کے بدلے بچیوں کو ان کے سپرد کیا گیا۔
عمران عباسی کے مطابق ’یہ حقیقت پورے علاقے کے علم میں ہے کہ لڑکے نے عمران شاہ کی بیٹی کے ساتھ آزادانہ مرضی سے شادی کی تھی، جس کے فوراً بعد وہ دونوں روپوش ہو گئے اور اب تک ان کا کوئی سوراخ نہیں مل سکا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’دوسری جانب ہماری بچیوں کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔ انہیں موٹر سائیکل پر زبردستی بٹھا کر کشمیر منتقل کیا گیا، ان کے ساتھ غیر انسانی رویہ اپنایا گیا اور کم عمر ہونے کے باوجود زبردستی نکاح پڑھوانے کی کوشش کی گئی اور اسی بناء پر ہم اس جرگے اور اس کے معاہدے کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔‘

اسلام آباد میں مقیم مری اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد نے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

شکیل عباسی کی بچیوں کے اغوا کے واقعے پر دوبارہ تحرک پیدا کرنے میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں مقیم راجہ تیمور عباسی اور وسیم عباسی بھی شامل ہیں جو اس اس حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کے رکن بھی ہیں، انہوں نے بھی اردو نیوز سے بات کی۔
راجہ تیمور عباسی کا کہنا تھا کہ بچیوں کو رات کی تاریکی میں اغوا کر کے نہ صرف شدید ہراساں کیا گیا، بلکہ ان کے ساتھ انتہائی غیر انسانی اور ناروا سلوک بھی روا رکھا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’ابتدائی شواہد سے بچیوں پر تشدد کے خدشات کو تقویت ملتی ہے جبکہ شکیل عباسی کا خاندان مالی اور سیاسی طور پر کمزور تھا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمان نے پہلے خوف کا ماحول بنا کر بچیوں کو اغوا کیا اور پھر زبردستی صلح کروانے کی کوشش کی۔
انہوں نے بتایا کہ جب یہ معاملہ علاقے کے دیگر لوگوں کے علم میں آیا تو انہوں نے اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی۔ اب یہ کیس مری کی مقامی عدالت میں بھی زیرِ سماعت ہے، جہاں ہمارا مطالبہ ہے کہ ایف آئی آر میں اغوا سمیت دیگر دفعات بھی شامل کی جائیں اور ملزمان و سہولت کاروں کی گرفتار عمل میں لائی جائے۔
کمیٹی کے دوسرے رکن وسیم عباسی کا کہنا تھا کہ دو معصوم بچیوں کو اس غلطی کا نشانہ بنایا گیا جس کی وہ قصوروار نہیں تھیں۔ انہوں نے پولیس و انتظامیہ سے فی الفور انصاف کا تقاضا کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر مطالبات نہ مانیں گئے تو آنے والے دنوں میں احتجاج کا دائرہ کار بڑھا دیا جائے گا۔

کشمیر کے وزیراعظم نے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے: ایم این اے راجہ اسامہ سرور 

کیس کی قانونی و سیاسی پیش رفت کے حوالے سے اردو نیوز نے قومی اسمبلی کے مری سے  رکن و پارلیمانی سیکرٹری راجہ اسامہ اشفاق سرور سے رابطہ کیا۔ 
اس معاملے پر مری میں پہلے ہی ایک بڑی پریس کانفرنس کرنے والے رکنِ اسمبلی نے اپنے بیانیے کو دہراتے ہوئے کہا کہ کمسن بچیوں کو نشانہ بنانا اور ان کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کرنا ناقابلِ برداشت ہے، اور اس بزدلانہ عمل کے ذمہ داروں کو قانون کے شکنچے میں لایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ 'امید ہے کہ آج ہی تاوان کے لیے اغو  کی دفعہ بھی ایف آئی آر  میں شامل ہو جائے گی اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واقعے کے اثرات راولپنڈی میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں (فوٹو: اے پی پی)

ان کا کہنا تھا کہ معصوم بچیوں کو حبسِ بے جا میں رکھ کر تاوان مانگنے کے ساتھ ساتھ ان کی تذلیل کی گئی، ہراساں کیا گیا اور جبر کے تحت ان کی شادی کروانے کی کوشش کی گئی۔

’سہولت کاروں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا‘

انہوں نے مزید واضح کیا کہ ان بچیوں کو اغوا کرنے کے عمل میں ملزمان کو مری سے جن افراد کی معاونت حاصل تھی، اب ان کی نشاندہی کا عمل جاری ہے تاکہ انہیں قانون کے دائرے میں لایا جا سکے۔
ان کے مطابق اس سلسلے میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم سے بھی اعلیٰ سطحی رابطہ کیا گیا ہے، اور انہوں نے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن تعاون کی مکمل ضمانت دی ہے۔
کیس کی قانونی باریکیوں کو سمجھنے کے لیے اردو نیوز نے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ایڈووکیٹ جلیل اختر عباسی سے رابطہ کیا، جو مری کی مقامی عدالت میں متاثرہ خاندان کے وکیل کے طور پر اس مقدمے کی سماعت میں پیش ہو رہے ہیں۔
ایڈووکیٹ جلیل اختر عباسی کے مطابق بدھ کو  ہونے والی عدالت میں پیشی کے دوران دونوں متاثرہ بچیوں نے دفعہ 164 کے تحت اپنا زبانی و تحریری بیان قلمبند کرا دیا ہے جس کے بعد ایف آئی آر میں مزید دفعات بھی شامل ہو جائیں گی۔
ایڈووکیٹ جلیل اختر عباسی کے مطابق ان کا ذاتی موقف پہلے بھی  یہی تھا کہ پولیس کا درج کردہ پرچہ کمزور نہیں ہے، جبکہ اب سنگین دفعات شامل ہونے سے کیس کی قانونی بنیادیں مزید استوار ہوں گی اور ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کا عمل تیز ہوگا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بازیاب ہونے والی بچیوں کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں (فوٹو: اے پی پی)

مغوی بچیوں کی بازیابی کے لیے جانے والی پولیس پارٹی پر فائرنگ

واضح رہے کہ بچیوں کے اغواء کے اگلے روز جب جب مری پولیس ٹیم مقامی افراد کو ساتھ لے کر ٹائیں ڈھلکوٹ کی  حدود میں داخل ہوئی، تو وہاں مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی۔ جس کے نتیجے میں مری پولیس کا ایک اہلکار زخمی بھی ہوا۔
اس سارے واقعے پر مری پولیس کا موقف حاصل کرنے کے لیے جب اردو نیوز نے ڈی پی او مری ڈاکٹر رضا تنویر سپرا سے بات کی، تو ان کے پی آر او کی جانب سے اردو نیوز کو موقف دیتے ہوئے بتایا گیا کہ  بازیاب لڑکیوں کے بیانات دفعہ 164 ضابطہ فوجداری کے تحت مجاز مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔ 

زبردستی شادی کی کوشش کا انکشاف 

اُن کے مطابق لڑکیوں نے مجسٹریٹ کے سامنے گن پوائنٹ پر اغوا کیے جانے سے متعلق اہم تفصیلات بیان کی ہیں اور تفتیش میں سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر اہل خانہ سے تاوان طلب کیے جانے کا معاملہ بھی شاملِ تفتیش کر لیا گیا ہے۔
ڈی پی او مری کے مطابق بازیاب لڑکیوں کے بیانات میں زبردستی شادی کی کوشش کا انکشاف بھی ہوا ہے اور تمام قانونی پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دفعہ 164 کے بیانات اور دیگر شواہد کی روشنی میں مقدمے میں مزید متعلقہ قانونی دفعات شامل کی جا رہی ہیں۔ 
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پولیس پارٹی پر ہونے والی فائرنگ اور مزاحمت کے واقعے کا مقدمہ تھانہ ٹائی ڈہلکوٹ میں پہلے ہی درج کیا جا چکا ہے۔

شیئر: