Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مستونگ: شوہر نے بیوی کے چہرے تیزاب پھینک دیا ’دس روز تک گھر میں علاج کے بغیر بند رکھا‘

واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے متاثرہ خاتون کے علاج کے لیے حکومتی اخراجات پر آغا خان ہسپتال کراچی منتقل کرانے کی ہدایت کی ہے۔ (فوٹو: فیس بک)
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک خاتون پر مبینہ طور پر ان کے شوہر اور دیور نے تشدد کرنے کے بعد چہرے پر تیزاب پھینک دیا جس سے لواحقین کے مطابق ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔
لواحقین کا الزام ہے کہ واقعے کے بعد خاتون کو تقریباً دس دن تک علاج کے بغیر کمرے میں بند رکھا گیا۔
 مستونگ پولیس نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ کوئٹہ سے تقریباً 60 کلومیٹر دور مستونگ کے علاقے درینگڑھ کلی ببری میں پیش آیا۔
 درینگڑھ تھانے کے ایس ایچ او مجیب الرحمان نے اردو نیوز کو بتایا کہ واقعے کا مقدمہ متاثرہ خاتون کے شوہر اور دیور کے خلاف درج کرکے خاتون کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
ایف آئی آر متاثرہ خاتون کے بھائی اعجاز احمد سمالانی نے درج کرائی ہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی نے پولیس کو بتایا کہ وہ اور ان کا بھائی فاتحہ خوانی کے لیے کلی پنجپائی گئے تھے اور واپسی پر اپنی بہن بی بی لائبہ کی خیریت دریافت کرنے اس کے گھر کلی ببری پہنچے تو انہیں زخمی حالت میں پایا۔
ایف آئی آر میں درج بیان کے مطابق بہن نے بتایا کہ 28 اگست کو اس کے شوہر کلیم اللہ اور دیور نے اس پر تشدد کر کے زخمی کیا اور شوہر نے اس کے چہرے پر تیزاب پھینکا جس سے اس کا چہرہ جھلس گیا۔ بعد ازاں اسے کمرے میں بند کر دیا گیا اور نہ کسی کو اطلاع دی گئی نہ رشتہ داروں سے رابطہ کرنے دیا گیا۔
یہ مقدمہ اعجاز احمد سمالانی کی مدعیت میں واقعہ کے تقریباً دس دنوں بعد مستونگ کے تھانہ درینگڑھ میں 7 ستمبر کو درج کیا گیا۔
 ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 354، 336 اے بی اور 337 اے ڈی سی کے تحت درج کیا گیا ہے جو تیزاب یا کیمیکل حملے سے متعلق ہے جس کی سزا میں عمر قید بھی شامل ہے۔
متاثرہ خاتون کے بھائی اعجاز احمد سمالانی نے بتایا کہ ان کی بہن کی چند سال قبل کلیم اللہ سے شادی ہوئی تھی وہ اس سے پہلے بھی تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کلیم اللہ اور اس کے بھائی نے مل کر پہلے ان کی بہن کو شدید مارا پیٹا جس سے وہ بے ہوش ہو گئیں اور ہوش آنے پر شوہر نے چہرے پر تیزاب پھینک دیا جس سے وہ دوبارہ بے ہوش ہو گئیں۔
ان کے بقول ملزمان نے اسے کسی ہسپتال نہیں لے گئے اور دس دن تک یہ معاملہ چھپائے رکھا۔ جب کئی دنوں تک رابطہ نہ ہونے پر وہ خیریت دریافت کرنے گھر پہنچے تو بہن کو تشویشناک حالت میں پایا۔
انہوں نے بتایا کہ بہن کا ایک ہاتھ سوجا ہوا، آدھا چہرہ جھلسا ہوا اور گھٹنوں پر بھی زخموں کے نشان تھے۔
اعجاز احمد نے بتایا کہ وہ اپنی بہن کو پہلے کوئٹہ کے سول ہسپتال لائے تھے لیکن قانونی کارروائی مکمل نہ ہونے کے باعث وہاں فوری علاج نہ ہو سکا جس پر وہ واپس مستونگ کے تھانہ درینگڑھ گئے جہاں سے رپورٹ بننے کے بعد انہیں نواب غوث بخش رئیسانی ہسپتال مستونگ لے جایا گیا۔
 مستونگ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے حالت تشویشناک دیکھ کر انہیں دوبارہ کوئٹہ ریفر کر دیا جہاں اب ان کا علاج جاری ہے۔
بھائی کے مطابق تیزاب حملے کے باعث بہن کی ایک آنکھ تقریبا ضائع ہو چکی ہے اور دوسری بھی متاثر ہے۔
 سول ہسپتال کوئٹہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ہادی کاکڑ نے بتایا کہ حکومتی ہدایت پر خاتون کو مزید علاج کے لیے کراچی منتقل کردیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ خاتون کو جسم پر نو سے دس فیصد زخم آئے ہیں اس کے ماتھے ، چہرے کے ایک حصے پر زخم آئے ہیں اور ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی ہے۔ بینائی بحال ہوسکتی ہے یا نہیں یہ تفصیلی معائنے اور ٹیسٹ کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا۔
اعجاز احمد نے بتایا کہ بہن کا شوہر ایف سی میں ملازم ہے اور اس کی ڈیوٹی چمن میں ہے۔ اس نے کچھ دنوں کی چھٹی لی تھی تاکہ گھر آ سکے لیکن یہ واقعہ انجام دینے کے بعد چھٹی پوری ہونے سے پہلے ہی واپس اپنی ڈیوٹی پر چلا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کی جانب سے انہیں ایف آئی آر واپس لینے کے لیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
تھانہ درینگڑھ کے ایس ایچ او مجیب الرحمان کے مطابق پولیس کو واقعے کا فوری علم نہیں تھا اور لواحقین کی جانب سے تاخیر سے اطلاع ملنے کے باعث مقدمہ کئی دنوں بعد درج کیا جا سکا۔
ان کے مطابق خاتون کا شوہر فرنٹیئر کور میں ملازم ہے جس کی گرفتاری کے لیے ایف سی حکام کو باضابطہ خط لکھا جا چکا ہے تاکہ اسے پولیس کے حوالے کیا جا سکے۔
 ایس ایچ او کے مطابق دوسرے نامزد ملزم یعنی دیور کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں، تاہم دونوں ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے متاثرہ خاتون کے علاج کے لیے حکومتی اخراجات پر آغا خان ہسپتال کراچی منتقل کرانے کی ہدایت کی ہے۔
 وزیرِ اعلیٰ کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے بتایا کہ اس سلسلے میں باضابطہ مراسلہ جاری کیا جا چکا ہے اور متاثرہ خاتون کو طبی امداد کے ساتھ قانونی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔
شاہد رند کا کہنا تھا کہ خواتین پر تشدد اور تیزاب گردی جیسے واقعات کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ بلوچستان میں تیزاب گردی کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل جنوری میں کوئٹہ کے سول سنڈیمن ہسپتال میں ڈیوٹی کے دوران ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ایک لفٹ آپریٹر نے مبینہ طور پر تیزاب پھینک دیا تھا جس میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر اور انہیں بچانے کی کوشش کرنے والا ایک نوجوان زخمی ہوا۔ پولیس نے حملے میں ملوث ملزم کو چند گھنٹے بعد ایک مبینہ مقابلے میں مار دیا تھا۔
ماہ نور ناصر کو بعد میں حکومتی خرچ پر علاج کے لیے ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ کئی ہفتوں تک زیرِ علاج رہیں، بعدازاں انہیں مزید علاج کے لیے بیرونِ ملک منتقل کیا گیا۔
اس واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کئی ہفتوں تک او پی ڈیز کا بائیکاٹ کیا اور بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگایا۔ معاملہ صوبائی اسمبلی میں بھی زیرِ بحث آیا جہاں خواتین اراکین نے تیزاب گردی سے متعلق قوانین کو مزید سخت کا مطالبہ کیا تھا۔

خواتین پر تشدد کے بڑھتے واقعات

حالیہ دنوں میں بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ آج ہی خضدار کے علاقے جعفر آباد میں ایک ندی سے 18 سالہ لڑکی کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی ہے جبکہ تین روز قبل کچلاک میں کم عمری میں بیاہی گئی 15 سالہ بچی کو مبینہ طور پر اس کے شوہر نے تشدد کر کے قتل کر دیا تھا۔
 اسی طرح گزشتہ ہفتے تربت میں ایک 30 سالہ شادی شدہ خاتون کو گھر سے اغوا کے بعد تشدد کر کے قتل کیا گیا اور لاش پھینک دی گئی جبکہ نوشکی کے علاقے احمد وال میں ایک نو سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی اور قتل کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔
ان واقعات پر بلوچستان خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے اتحاد ایوا جی الائنس (EVAW/G Alliance) اور عورت فاؤنڈیشن نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
 ایک بیان میں تنظیموں نے حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ اداروں سے ان واقعات کا فوری نوٹس لینے، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے اور ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر: