انڈین فلم ساز انوپرنا رائے کی فلم پر انڈیا میں پابندی لیکن یورپ میں بھرپو پذیرائی کیوں رہی ہے؟
آزاد انڈین فلم ساز انوپرنا رائے، جن کی پہلی فلم نے گزشتہ سال وینس فلم فیسٹیول میں بڑا انعام حاصل کیا تھا، نے کہا ہے کہ ان کی فلم کو سنسر حکام نے روک دیا ہے اور اب اسے ان کے اپنے ملک انڈیا میں نمائش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
28 سالہ انوپرنا رائے کی فلم Songs of Forgotten Trees نے 2025 میں وینس فلم فیسٹیول کے ثانوی مقابلے ہورائزنز سیکشن میں بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ جیتا تھا۔ وہ اس ہفتے اپنی دوسری فلم کے ساتھ دوبارہ اسی اطالوی شہر میں موجود ہیں۔
تاہم دنیا کے معتبر ترین فلمی میلوں میں سے ایک میں دوبارہ شرکت کی خوشی اس وقت ماند پڑ گئی جب انڈیا کے بااثر فلمی بورڈ نے ان کی پہلی فلم کی تقسیم اور نمائش روکنے کا فیصلہ کیا۔
انوپرنا رائے نے اس ہفتے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’چند روز پہلے انہوں نے ہمیں فون کیا اور کہا کہ یہ ’معاشرے کے لیے خطرہ ہے۔ کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ Songs of Forgotten Trees معاشرے کے لیے خطرہ ہے؟‘
انہوں نے کہا، ’میں سنسر شپ کے باعث بہت زیادہ پریشان ہوں، میں نے یہاں اپنے ملک کی نمائندگی کی، میں نے یہ انعام ملک کے لیے جیتا۔‘
Songs of Forgotten Trees دوستی کی ایک حساس اور دل کو چھو لینے والی کہانی ہے، جس میں ممبئی میں ایک اپارٹمنٹ میں رہنے والی دو تارکِ وطن خواتین کی زندگی دکھائی گئی ہے۔ ان میں سے ایک جز وقتی طور پر جنسی خدمات فراہم کرتی ہے جبکہ دوسری ایک کال سینٹر میں ملازمت کرتی ہے۔
اس فلم کو درپیش مشکلات برطانوی نژاد انڈین ہدایت کارہ سندھیا سوری کی زیادہ واضح سیاسی نوعیت کی فلم Santosh سے مماثلت رکھتی ہیں۔ اس فلم نے 2024 میں فرانس کے کانز فلم فیسٹیول میں پریمیئر کے بعد ناقدین کی بھرپور توجہ حاصل کی، تاہم بعد میں انڈین سنسر حکام کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
اس فلم میں انڈین پولیس میں موجود صنفی امتیاز، مذہبی تفریق اور بدعنوانی کے ساتھ ساتھ نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو بھی اجاگر کیا گیا تھا۔
دباؤ
رائے اپنی دوسری فلم Lovers of the Blue Night کے ساتھ دوبارہ وینس پہنچ گئی ہیں۔ یہ فلم بھی حساس موضوعات کو اجاگر کرتی ہے اور ممبئی، جسے پہلے بمبئی کہا جاتا تھا، میں غربت، غم اور اپنی جنسی شناخت کے مسائل سے دوچار بنگلہ دیشی تارکین وطن کی زندگیوں کو پیش کرتی ہے۔
جمعے کو فلم کے پریمیئر سے قبل اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے رائے نے کہا، کہ ’میرا مقصد ایک مختلف بمبئی دکھانا تھا، کیونکہ بمبئی کی تمام خوبصورت تصویریں (فلمیں) پہلے ہی بنائی جا چکی ہیں۔‘
یہ فلم ہورائزنز سیکشن میں ایوارڈز کے لیے مقابلہ کر رہی ہے، جو ابھرتے ہوئے فلم سازوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انعامات کا اعلان ہفتے کو کیا جائے گا۔
رائے کے خیال میں انڈیا میں آزاد فلم سازوں کے لیے مواقع محدود ہیں۔ اس کی ایک وجہ سنیما گھروں میں بڑے پیمانے پر بننے والی بالی ووڈ فلموں کا غلبہ ہے، جبکہ سیاسی دباؤ بھی ایک اہم عنصر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ان لوگوں کے لیے اچھا ہے جو حکومت کی تعریف کر سکتے ہیں اور پروپیگنڈا فلم بنا سکتے ہیں۔ میں ایسی شخصیت نہیں ہوں جو یہ کام کر سکے۔‘
انہیں یہ خدشہ بھی ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت میں ان کے بیانات شاید فلمی بورڈ کے ساتھ ان کے مسائل کی ایک وجہ ہوں۔
انڈیا کا مرکزی بورڈ برائے فلم سرٹیفکیشن ملک میں ریلیز ہونے والی فلموں کی جانچ کرتا ہے اور اسے فلموں میں مناظر کاٹنے اور ترمیم کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تقسیم پر پابندی عائد کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔
اگرچہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں سنسر شپ کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، تاہم حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور دیگر ناقدین کا کہنا ہے کہ ہندو قوم پرست حکومت، جس کی قیادت نریندر مودی کر رہے ہیں، نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اس عمل کو مزید سخت کر دیا ہے۔
برق رفتاری سے ابھرتا ہوا کیریئر
رائے انڈین خواتین ہدایت کاروں کی ایک نئی نسل کا حصہ ہیں، جس میں پائل کپاڈیا بھی شامل ہیں، جن کی 2024 کی فلم All We Imagine As Light نے کانز فلم فیسٹیول اور عالمی سطح پر کامیابی حاصل کی تھی۔
رائے نے فلم سازی کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ بڑی حد تک خود سیکھا ہے۔ انہوں نے فلم سازی کا فن اپنے دوستوں اور رہنماؤں سے سیکھا۔
چند سال قبل تک وہ نئی دہلی کے ایک کال سینٹر میں ملازمت کرتی تھیں۔ اس سے قبل وہ مشرقی انڈین کی ریاست مغربی بنگال کے کوئلہ پیدا کرنے والے علاقے پورولیا میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتی تھیں۔
2023 میں ممبئی منتقل ہونے کے بعد انہیں اس شہر کی مسلسل متحرک زندگی اور شدید معاشی مشکلات نے، جسے ’میکسیمم سٹی‘ کا لقب دیا جاتا ہے، تخلیقی تحریک کا ایک بھرپور ذریعہ فراہم کیا۔
ان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی فلموں کے کرداروں کے لیے ناظرین کے دل میں ہمدردی پیدا کریں۔
انہوں نے کہا، ’میرے رہنما میری رہنمائی کرتے ہیں اور وہ مسلسل مجھے کہتے رہے ہیں کہ فلم میں ہمدردی کی زبان نہیں آنی چاہیے، غربت کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی غربت کو رومانوی انداز میں دکھانا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’یورپ میں غربت بیچنا آسان ہے، ہے نا؟ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔‘