Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اُس وقت کیسے لگتے؟‘، خود کو 80 کی دہائی میں دیکھتے اور دِکھاتے سلیبریٹیز

مدیحہ نقوی نے بھی 80 کی دہائی کی لُکس والی تصویر شیئر کی (فوٹو: انسٹاگرام، مدیحہ نقوی)
70 اور 80 کی دہائی کے بعد بہت سال بعد آنکھ کھولنے والے اُس دور کے فیشن اور ملبوسات میں نظر آنے لگے ہیں جو ایک اے آئی فلٹر کی مدد سے ہوتا ہے، اس سے جہاں عام لوگ خود کو قریباً نصف صدی پیچھے لگا کر خوش ہو رہے ہیں وہیں شوبز سے وابستہ شخصیات بھی پیچھے نہیں۔
شوبز ویب سائٹ ریویو اِٹ کے مطابق پاکستان کے کئی سلیبریٹیز نے خود کو 80 کی دہائی کے فیشن میں مداحوں کے سامنے پیش کیا ہے۔
ان میں مدیحہ نقوی، قدسیہ علی، عمیر عالم، عینی جعفری اور ماہی بلوچ کے علاوہ دیگر شخصیات نے خود کو کئی دہائیاں قبل کی لُک میں نہ صرف ڈھالا بلکہ ساتھ ہی خوبصورت کیپشن بھی لکھے۔
عمیر عالم نے اپنی تصویر کے ساتھ لکھا کہ ’80 کی دہائی نے ثابت کر دیا ہے کہ ہینڈسم انسان ہر دور میں ہینڈسم ہی رہتا ہے۔‘

(فوٹو: انسٹاگرام، عمیر علی)

ان تصاویر پر صارفین بھی پسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں اور دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں۔
اس وقت انٹرنیٹ صارفین میں اے آئی ایٹیز فلٹر کافی مشہور ہو رہا ہے جس کے ذریعے خود کو 80 کی دہائی کے فیشن کے کپڑوں اور ہیئر سٹائل میں دیکھا جا سکتا ہے۔

(فوٹو: انسٹاگرام، نمرہ خان)

اس دور میں شوخ رنگوں کا استعمال زیادہ ہوتا تھا اس لیے فلٹر کے ذریعے بنائی گئی تصاویر بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔
بیگی پینٹس اور شرٹس کے علاوہ بڑے اور نوکیلے کالر اور بیل باٹم انداز میں بھی خود کو دیکھا جا سکتا ہے۔

(فوٹو: انسٹاگرام، منیبہ مزاری)

انٹرنیٹ پر اس فلٹر کا استعمال چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے بہ آسانی کیا جا سکتا ہے، چوز بٹن دبانے پر آپ سے وہ تصویر سلیکٹ کرنے کا کہا جاتا ہے جس کو 80 کی دہائی میں لے جانا مقصود ہے۔
تصویر سلیکٹ کیے جانے چند سیکنڈ بعد ماضی کے دور میں جاتی اور پھر وہی روپ لیے واپس آ جاتی ہے۔

(فوٹو: انسٹاگرام، قدسیہ علی)

یہاں پاکستان کی شوبز انڈسٹری سے وابستہ ایسی چند شخصیات کی 80 کی دہائی کی لُک تصویریں پیش کی جا رہی ہیں جو انہوں نے خود فلٹر کے ذریعے بنائیں اور شیئر کیں۔

 

شیئر: