روس کا اپنے ایٹمی ہتھیاروں کا رُخ سابق سوویت ریاست ’لتھوانیا‘ کی جانب کرنے کی دھمکی
روس نے بحیرۂ بالٹک کے کنارے واقع ملک لتھوانیا کو دھمکی دی ہے کہ اگر اُس نے اپنی سرزمین پر نیٹو اتحادیوں کے جوہری ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کی اجازت دی تو وہ بھی اپنے ایٹمی وار ہیڈز کا رُخ اُس کی جانب موڑ دے گا۔
یاد رہے کہ لتھوانیا ایک سابق سوویت ریاست ہے جو 1940 سے 1990 تک سوویت یونین (یو ایس ایس آر) کا حصہ رہی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق لتھوانیا رُوس کی جانب سے یوکرین میں جاری جنگ کے تناظر میں اپنی سکیورٹی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے ملک میں جوہری ہتھیار رکھنے پر عائد آئینی پابندی بھی ختم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت لتھوانیا کی پارلیمنٹ میں زیرِ غور ہے، جہاں اس کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ صدر اور بڑی سیاسی جماعتیں اس منصوبے کی حمایت کر رہی ہیں، اور یہ قانون رواں موسمِ سرما میں نافذ العمل ہو سکتا ہے۔
دوسرئ جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ اقدام ’کشیدگی بڑھانے کے حوالے سے ایک انتہائی نازک موڑ‘ ہوگا۔
اُن کے مطابق ’اگر کسی ملک کی سرزمین پر ایسے جوہری ہتھیار موجود ہوں جن کا رُخ ہماری طرف ہو، تو ظاہر ہے کہ اُس ملک کی سرزمین بھی ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کے نشانے پر آجائے گی۔‘
لتھوانیا کے صدر گیتاناس ناؤسیدا نے جولائی میں اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کا ملک ’جوہری ڈیٹرنس کا ایک لازمی حصہ‘ بننا چاہتا ہے۔
