برطانیہ سے فرانس بھیجے گئے سینکڑوں پناہ گزین ’پراسرار طور پر‘ لاپتہ، این جی اوز کا اظہارِ تشویش
برطانیہ سے فرانس بھیجے گئے سینکڑوں پناہ گزین ’پراسرار طور پر‘ لاپتہ، این جی اوز کا اظہارِ تشویش
جمعہ 11 ستمبر 2026 15:54
برطانوی ہوم آفس نے کہا ہے کہ کسی ایسے شخص کو واپس نہیں بھیجا گیا جس کی عمر متنازع ہو (فائل فوٹو:یوکے ہوم آفس)
برطانیہ اور فرانس کے درمیان پناہ گزینوں کے تبادلے کے معاہدے ’ون ان، ون آؤٹ‘ کے تحت فرانس واپس بھیجے جانے والے سینکڑوں پناہ گزین لاپتہ ہو چکے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق لاپتہ ہونے والے افراد میں کم از کم 41 ایسے بچے بھی شامل ہیں جن کی عمروں کے بارے میں تنازع قائم تھا۔
اس پائلٹ سکیم کا اعلان سابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جولائی 2025 میں کیا تھا، جسے اس وقت ایک ’انقلابی‘ قدم قرار دیا گیا تھا۔
اس معاہدے کے تحت چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے پناہ گزینوں کو زبردستی فرانس واپس بھیجا جاتا ہے، جبکہ اس کے بدلے فرانس میں موجود دیگر پناہ گزینوں کو قانونی راستے سے برطانیہ لایا جاتا ہے۔
یہ معاہدہ یکم اکتوبر کو ختم ہو رہا ہے اور فی الحال یہ واضح نہیں کہ اس کی جگہ کون سا نیا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔
برطانوی ہوم سکریٹری شبانہ محمود اس معاہدے کی مدت میں توسيع اور اس کے دائرہ کار کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ فرانسیسی حکومت کا موقف ہے کہ اس سکیم کو صرف فرانس تک محدود رکھنے کے بجائے پورے یورپ میں نافذ کیا جائے۔
ستمبر 2025 سے اب تک چھوٹی کشتیوں کے ذریعے 49 ہزار تارکین وطن میں سے صرف 1400 کو فرانس واپس بھیجا گیا ہے جو کہ کل تعداد کا محض 4 فیصد بنتا ہے۔ ان اعداد و شمار میں وہ لوگ شامل نہیں ہیں جو دوبارہ لاریوں یا دیگر طریقوں سے برطانیہ واپس پہنچ چکے ہیں۔
برطانوی پارلیمنٹ میں ہونے والے ایک حالیہ اجلاس کے دوران انسانی حقوق کے کارکنوں نے پارلیمنٹرینز کو پناہ گزینوں کے لاپتہ ہونے اور اس سکیم کی خامیوں سے آگاہ کیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے پناہ گزینوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے (فائل فوٹو:یوکے ہوم آفس)
’ہیومنز فار رائٹس نیٹ ورک‘ کی ڈائریکٹر میڈی ہارس نے بتایا کہ کم از کم 41 ایسے بچوں کو غیر قانونی طور پر فرانس واپس بھیجا گیا جن کی عمریں متنازع تھیں۔ قانونی طور پر تنہا بچوں کو بالغوں کے ڈیٹنشن سینٹرز میں رکھنا منع ہے اور وہ اس معاہدے سے مستثنیٰ ہیں۔
تاہم برطانوی ہوم آفس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایسے شخص کو واپس نہیں بھیجا گیا جس کی عمر متنازع ہو۔ ہوم آفس کے مطابق تمام افراد کو قانونی امداد تک رسائی دی جاتی ہے اور بارڈر کی حفاظت کے لیے عمر کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
دوسری جانب جیلوں اور ڈیٹنشن سینٹرز کی آزاد نگرانی کرنے والے بورڈ (آئی ایم بی) کی عبوری چیئر جین لیچ نے بتایا کہ قریباً ایک سو بچوں کو غلط طریقے سے بالغ قرار دے کر حراست میں رکھا گیا۔
فرانسیسی حکام کے مطابق فرانس واپس بھیجے گئے افراد میں سے صرف 200 کے قریب لوگ اب بھی حکام کے رابطے میں ہیں جبکہ دیگر سینکڑوں افراد یورپ کے مختلف ممالک میں روپوش ہو چکے ہیں۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ فرانسیسی حکام کے سخت رویے، اپنے آبائی ممالک کی طرف زبردستی بے دخلی کے خوف اور بلغاریہ جیسے دیگر یورپی ممالک میں دوبارہ بھیجے جانے کے ڈر سے وہ روپوش ہونے پر مجبور ہوئے۔
اس کے علاوہ ’میڈیسنز سنس فرنٹائرز‘ (ایم ایس ایف) کی پروگرام کوآرڈینیٹر نہال عثمان نے بتایا کہ برطانیہ سے واپس آنے والے پناہ گزین انتہائی شدید نفسیاتی دباؤ، خوف اور خودکشی کے خیالات کا شکار ہیں۔
اس معاہدے کی آخری تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی انسانی حقوق کی تنظیموں نے سرحدوں کی سخت نگرانی اور پناہ گزینوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔