یونانی جزیرے "پگی آئی لینڈ" پر تیرتے سوور سیاحوں کی توجہ کا مرکز
اتھاکا سے کچھ ہی فاصلے پر واقع یہ چھوٹا سا نجی جزیرہ سوشل میڈیا پر غیر معمولی شہرت حاصل کر چکا ہے۔(فوٹو: اے ایف پی)
بحیرۂ ایونی میں واقع ایک چھوٹے سے یونانی جزیرے کے ساحل پر سیاح نیلگوں پانیوں میں اسی طرح موج مستی کرتے نظر آتے ہیں جیسے سال کے اس موسم میں بحیرۂ روم کے اس مقبول ملک کا رخ کرنے والے اکثر سیاح کرتے ہیں۔
تاہم جزیرے اتوکوس میں فرق یہ ہے کہ یہاں سیاحوں کے اردگرد کالے سوور کے غول بھی موجود ہوتے ہیں۔
اتھاکا سے کچھ ہی فاصلے پر واقع یہ چھوٹا سا نجی جزیرہ سوشل میڈیا پر غیر معمولی شہرت حاصل کر چکا ہے۔ دنیا بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں تاکہ ان پُرامن جانوروں کے ساتھ سمندر میں تیر سکیں اور انہیں خوراک بھی کھلا سکیں۔
یہ سوور زیادہ تر اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ وہ ریت میں کھانے کے قابل چیزیں تلاش کرتے رہتے ہیں اور پھر گرمی سے بچنے کے لیے تھوڑی دیر سمندر میں اتر کر ٹھنڈک حاصل کرتے ہیں۔
اٹلی سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ ٹیٹو آرٹسٹ فرانسسکو فیراری نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے وہ اپنے ہی ماحول میں ہیں، اور اگر آپ انہیں ہاتھ نہ لگائیں تو وہ کاٹنے کی کوشش نہیں کرتے۔
سیاحوں کو ٹور آپریٹر ریناٹو بیشا یہاں لاتے ہیں، جو روزانہ کئی مرتبہ اتھاکا سے سیاحوں کو اس جزیرے پر لے کر آتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر "پگی آئی لینڈ" کے نام سے مشہور ہونے کے بعد لیفکادا اور کیفالونیا کے قریبی جزیروں سے بھی یہاں ایک روزہ سیاحتی دورے شروع کر دیے گئے ہیں۔
بیشا نے جانوروں کو اپنی کشتی کی طرف متوجہ کرنے کے لیے پھل پھینکتے ہوئے کہا، "سووروں کی وجہ سے یہ جزیرہ وائرل ہو گیا ہے۔ بہت سے لوگ خود ہم سے کہتے ہیں کہ وہ اتوکوس آنا چاہتے ہیں۔"
امریکی سیاح جیمی جیکسن نے کہا کہ "یہ بہت شاندار ہے۔ میں ہر کسی کو یہاں آنے کی تجویز دوں گا۔۔۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایسا کچھ کر رہا ہوں۔"
انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر تیرتے ہوئے خنزیروں کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہونے سے پہلے اتوکوس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے، لیکن اب خاص طور پر گرمیوں کے مصروف مہینوں میں یہاں ہزاروں سیاح آتے ہیں۔
ایک اور امریکی سیاح مائیکل میکنیلی نے کہا، "میرے خیال میں سوور بھی اتنا ہی لطف اٹھا رہے ہیں جتنا ہم اٹھا رہے ہیں۔"
تھیسالونیکی سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ اکاؤنٹنٹ سیموس گلیریڈس نے کہا، "یہ ایک منفرد چیز ہے، جسے دیکھنے کے لیے یہاں آنا واقعی بنتا ہے۔"