’بٹّو تباہی‘ نامی نوجوان کا عزم، 30 ہزار روپے اور دریا کے ایک نئی زندگی کی کہانی
’بٹّو تباہی‘ نامی نوجوان کا عزم، 30 ہزار روپے اور دریا کے ایک نئی زندگی کی کہانی
پیر 7 ستمبر 2026 12:05
یوسف تہامی -دہلی
سریندر سنگھ چودھری سوشل میڈیا پر ’بٹّو تباہی‘ کے نام سے مشہور ہیں (فوٹو: پیڈلر میڈیا)
یہ نہ دشرتھ مانجھی کی طرح پہاڑ کاٹ کر راستہ بنانا ہے نہ اساطیر میں درج فرہاد کی طرح دودھ کی نہر نکالنے کا واقعہ ہے بلکہ یہ ایک ایسے نوجوان کے عزم کی کہانی ہے جس نے اسی سال صرف چھ، سات مہینے میں ایک ایسی کہانی لکھی ہے جس کا شور سات سمندر پار تک سنائی دے رہا ہے۔
بعض اوقات کسی بڑی تبدیلی کے لیے نہ تو سرکاری منصوبے کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کروڑوں روپے کے بجٹ کی اور نہ ہی کسی بڑے ادارے کی پشت پناہی کی۔
انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع راج گڑھ کے شہر بیاورا کے ایک نوجوان سریندر سنگھ چودھری نے کچھ ایسا ہی کر دکھایا ہے۔
سریندر سنگھ چودھری سوشل میڈیا پر ’بٹّو تباہی‘ کے نام سے مشہور ہیں اور بی ایس سی کے طالب علم ہیں۔ ابھی ان کی عمر محض 21 برس ہے مگر انہوں نے اپنے شہر سے گزرنے والے دریا سے اٹھنے والے تعفن کو ختم کرنے کا کامیاب ارادہ کیا اور آج وہ بہت سارے نوجوانوں کے لیے قابل تقلید بن گئے ہیں۔
یہاں تک کہ ریاست کے وزیر اعلٰی نے ان کی کاوشوں کو سراہا اور ان سے ملاقات کی جس پر معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی نے کہا کہ شہرت ملتے ہی کریڈٹ لینے پہنچ گئے۔
دریا کی صفائی کی کہانی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟
کہانی کا آغاز 26 جنوری سنہ 2026 کو ہوا۔ بٹّو اکثر ایک مقامی مندر کے قریب سے گزرتے تھے اور وہاں سے بہنے والے اجنار دریا کی حالت انہیں بے چین کرتی تھی۔ دریا میں پلاسٹک، بوتلیں، کائی، مذہبی فضلہ اور دوسری گندگی جمع تھی جبکہ اس کے آس پاس پھیلی بدبو نے لوگوں کا وہاں رکنا بھی مشکل بنا دیا تھا۔
ایک دن بٹّو نے صرف افسوس کرنے کے بجائے خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کر لیا۔
انہوں نے خبررساں ادارے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وہ دریا ہے جو ہمارے قصبے بیاورہ کے عین درمیان سے بہتا ہے۔ یہ وہ دریا ہے جسے میں اس وقت صاف کر رہا ہوں۔۔۔ میں کافی عرصے سے دریا کے بالکل پیچھے واقع ایک مندر میں جا رہا تھا، جب بھی میں وہاں جاتا تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ بدبو اور گندگی کی وجہ سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ تب ہی مجھے اسے صاف کرنے کا خیال آيا۔۔۔ لیکن میرے پاس ایسی مشین بنانے کے لیے بجٹ نہیں تھا، پھر جب 26 جنوری (انڈیا کا یوم جمہوریہ) آیا، میں نے سوچا کہ یہ ایک اچھا دن ہے اور میں نے کام شروع کر دیا۔۔۔۔ مجھے سب سے تعاون ملا۔۔۔ میں نے اکیلے شروع کیا اور پھر ان کی مدد کی پیشکش کی۔‘
سوشل میڈیا پر ’بٹو تباہی‘ کے کام کو سراہا جا رہا ہے (فوٹو: دی اکونمسٹ)
شروع میں ان کے پاس نہ کوئی بڑی ٹیم تھی اور نہ مشینری۔ انہوں نے اپنی جیب سے تقریباً 30 ہزار روپے خرچ کرکے ضروری اوزار اور صفائی کے سازو سامان خریدے۔ ابتدا میں بعض دوست ساتھ آئے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ مہم زیادہ تر بٹّو کے کندھوں پر آ گئی۔ مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ گندے پانی میں اترتے، پلاسٹک اور کچرا نکالتے اور ندی کے کناروں کو صاف کرتے رہے۔
یہ کام صرف محنت طلب نہیں بلکہ خطرناک بھی تھا۔ آلودہ پانی میں مسلسل کام کرنے کے دوران انہیں صحت کے مسائل اور انفیکشن کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ انڈین میڈیا کے مطابق صفائی کے دوران انہیں سانپوں سے بھی واسطہ پڑا مگر یہ مشکلات ان کے راستے کی دیوار نہیں بن سکیں۔
پھر وہ دن آیا جب بٹّو نے دریا کی صفائی سے پہلے اور صفائی کے بعد کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ فرق اتنا نمایاں تھا کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔ جو پانی پہلے گندگی اور کچرے سے بھرا دکھائی دیتا تھا، اس کی صورت رفتہ رفتہ بدلنے لگی۔ یہی ’پہلے اور بعد‘ کی تصاویر بٹّو کی مہم کو مقامی سطح سے نکال کر قومی اور پھر بین الاقوامی توجہ تک لے گئیں۔
سوشل میڈیا پر تعریفوں کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’ہم سب حکومتوں کو کوستے رہتے ہیں، لیکن اس لڑکے نے دکھا دیا کہ تبدیلی کا پہلا قدم خود اٹھانا پڑتا ہے۔'
ایک دوسرے نے تبصرہ کیا کہ ’اصل ہیرو وہ نہیں جو سکرین پر دنیا بچائے، اصل ہیرو تو بٹّو ہے جو گندے پانی میں اتر کر اپنے دریا کو بچا رہا ہے۔‘
ایک صارف نے دلچسپ انداز میں لکھا کہ ’بٹّو کا نام تباہی ضرور ہے، مگر اس نے تباہی مچانے کے بجائے آلودگی کی تباہی ختم کرنے کا کام شروع کر دیا۔‘
تاہم سوشل میڈیا کی دنیا صرف تعریفوں سے نہیں چلتی۔ بعض لوگوں نے ان پر شہرت اور ویوز حاصل کرنے کا الزام بھی لگایا۔ بٹّو نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی مہم کا مقصد کریڈٹ لینا یا کسی سیاسی تشہیر کا حصہ بننا نہیں بلکہ دریا کو صاف کرنا ہے۔
امت نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’بیوقوفو! اگر تمام کام (دریا کی صفائی، شہر کی صفائی وغیرہ) عام عوام یا جین زی کو کرنا ہے تو پھر نرملا سیتا رمن (وزیر خزانہ) اور نریندر مودی (وزیر اعظم) ہم سے ٹیکس کیوں وصول کر رہے ہیں؟ اور اگر وہ دونوں اتنے ہی نااہل ہیں تو اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں۔'
ان کی محنت نے مقامی انتظامیہ کو بھی متوجہ کیا۔ جب ایک نوجوان کی مسلسل کوششوں کے نتائج نمایاں ہونے لگے تو حکام نے صفائی کے کام میں مشینری اور دوسری مدد فراہم کرنا شروع کر دی۔ اطلاعات کے مطابق علاقے میں گندے پانی کے مستقل مسئلے کے حل کے لیے تقریباً 14.77 کروڑ روپے کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کا منصوبہ بھی زیرِ غور آیا۔
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے بھی بٹّو سے ملاقات کی اور ان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اس انفرادی مہم کو پانی کے تحفظ اور ماحولیات کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔
ان کی تقلید میں اترپردیش میں ایک دوسرے نوجوان نے بھی دریا کی صفائی کا بیڑا اٹھایا ہے۔ بہت سے لوگ حکومت سے سوال کر رہے ہیں کہ جب ایک نوجوان دریا کو صاف کر سکتا ہے تو یہ میونسپل کارپوریشن اور دریا کے نام صفائی کے اتنے فنڈز کہاں جاتے ہیں۔
لیکن شاید اس کہانی کا سب سے حیران کن موڑ اس وقت آیا جب نیدرلینڈز میں قائم عالمی ماحولیاتی تنظیم ’دی اوشین کلین اپ‘ کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو بوئین سلیٹ نے بٹّو کی کوششوں پر توجہ دی۔ بٹّو کی دریا کی صفائی کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد بوئین سلیٹ نے انہیں اپنی تنظیم کے ساتھ کام کرنے کی دعوت دی۔
یہ صرف ایک نوجوان کے لیے ملازمت یا بین الاقوامی شناخت کا معاملہ نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سچی محنت کی آواز کبھی کبھی دنیا کے دوسرے کنارے تک بھی پہنچ جاتی ہے۔