Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ’تیار‘ ہیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ’امریکہ ایران سے بات چیت کرے گا یا نہیں، اِس کا فیصلہ میں خود کروں گا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ گذشتہ کئی ہفتوں سے کہتے رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنا ابھی قبل از وقت ہے۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’ایران، امریکہ کے ساتھ جلد سے جلد معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ ایران سے بات چیت کرے گا یا نہیں، اِس کا فیصلہ میں خود کروں گا، تاہم امریکہ مذاکرات کے امکان کو مسترد نہیں کرتا۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان خلیج کی عرب ریاستوں کی جانب سے ایران کے ساتھ پیر کو ایک طے شدہ اجلاس ملتوی کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان ایک اہم اجلاس پیر کو عمان کی میزبانی میں منعقد ہونا تھا۔ اجلاس میں آبنائے ہُرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر گفت و شنید ہونا تھی۔ 
یاد رہے کہ آبنائے ہُرمز دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے سب سے اہم آبی گزرگاہ ہے اور رواں برس 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے یہ بڑی حد تک بند ہے۔
عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے رات گئے اعلان کیا کہ یہ اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔
دریں اثنا، ایران نے 77 بحری جہازوں کی فہرست جاری کی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں اس کے طے شدہ آپریٹنگ پروٹوکول کی خلاف ورزی کی۔ 
ایران نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ان جہازوں کو نہ صرف جُرمانہ کیا جا سکتا ہے بلکہ انہیں قبضے میں بھی لیا جا سکتا ہے۔
امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ ’آبنائے ہرمز سے امریکی تعاون کے ساتھ خفیہ طور پر گزرنے والے جہازوں کی اوسط تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

 ایران نے 77 بحری جہازوں پر پروٹوکول کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ انہیں آئندہ قبضے میں لیا جا سکتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تاہم آبنائے ہُرمز میں جہازوں کی آمدورفت کی آزادانہ طور پر نگرانی کرنے والے اداروں نے عندیہ دیا ہے کہ رواں ماہ تیل کی ترسیل میں کمی واقع ہو سکتی ہے، کیونکہ اگست میں لڑائی میں نسبتاً سکون کے بعد دوبارہ شدت آگئی ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے بدھ کو نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران جنگ ختم ہونے کی پیش گوئی کی تھی۔
ڈیلس میں ریپبلکن نیشنل کنونشن کے لیے روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں انتخابات کے فوراً بعد ایران جنگ ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ اب مزید مقابلہ نہیں کر سکتے، وہ انتخابات پر اثرانداز ہونے کی بے حد کوشش کر رہے ہیں۔‘
حالیہ کچھ عرصے کے دوران صدر ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین تک پہنچ چکی ہے جس کی بڑی وجہ ایران کے ساتھ جنگ اور بڑھتی مہنگائی پر ووٹروں میں پائی جانے والی تشویش ہے۔
رواں برس تین نومبر کو امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو عام طور پر صدر کی کارکردگی کے حوالے سے عوامی رائے کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ سفارتی مذاکرات کا امکان اب بھی موجود ہے، تاہم یہ اب ان کی ترجیح نہیں ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ہاں مذاکرات ممکن ہیں لیکن ہم فی الحال اس آپشن پر غور نہیں کر رہے۔‘

شیئر: