جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے، 6 بچوں سمیت 13 افراد جان سے گئے
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے، 6 بچوں سمیت 13 افراد جان سے گئے
پیر 14 ستمبر 2026 21:20
جون کی جنگ بندی کا مقصد اسرائیلی فوج اور لبنانی مسلح گروہ حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی روکنا تھا (فوٹو: روئٹرز)
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان کے ایک قصبے میں پیر کے روز کم سے کم 13 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں چھ بچے بھی شامل ہیں۔ یہ حالیہ ہفتوں کے دوران اسرائیلی بمباری کے مہلک ترین دنوں میں سے ایک تھا۔
لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کیے جانے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ خدشات ایسے وقت میں پیدا ہوئے ہیں جب جون میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں کئی روز سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جون کی جنگ بندی کا مقصد اسرائیلی فوج اور لبنانی مسلح گروپ حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی روکنا تھا۔
ایک خاتون نے کہا کہ ’ہلاک ہونے والے کم سے کم تین افراد سے اُن کا رشتہ تھا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ایک حملہ اُس وقت ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا جب بچے سکول جانے کی تیاری کر رہے تھے۔‘
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے قصبے کفرا رومّان کے علاقے میں ایسے افراد کو نشانہ بنایا جو ہتھیار منتقل کرتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔
موقع پر موجود برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے رپورٹرز نے دیکھا کہ ملبے کے بڑے ٹکڑوں کے درمیان بچوں کی سکول کی کتابیں بکھری ہوئی تھیں، جہاں پہلے یہ عمارت موجود تھی۔ امدادی کارکن بھاری مشینری کی مدد سے پوری صبح ملبے تلے دبے افراد کی لاشیں نکالنے میں مصروف رہے۔
مقامی افراد کے مطابق آٹھ سالہ مصطفیٰ فرحت نے اس حملے میں اپنے دادا، دادی اور والدہ کو کھو دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ’پیر کی صبح امدادی کارکن اس کے والد کی لاش کی تلاش جاری رکھے ہوئے تھے، جبکہ بچہ خود زخمی حالت میں ہسپتال میں زیرِ علاج تھا۔‘
مصطفیٰ کی ایک رشتے دار مونا فرحت نے روئٹرز کو بتایا کہ ’سکول جانے کے وقت سے کچھ دیر پہلے جس گھر کو نشانہ بنایا گیا، وہ انہی کا تھا۔‘
ہسپتال میں فرحت نے کہا کہ ’انہوں نے کیا نشانہ بنایا؟ وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنی زمین چھوڑ دیں؟ وہ غلطی پر ہیں۔‘
وزارتِ صحت کے مطابق قصبے میں ایک شہری گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک طبی امدادی کارکن بھی ہلاک ہوا (فائل فوٹو: روئٹرز)
لبنان کی وزارتِ صحت نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار میں کہا کہ ’پیر کے روز ایک رہائشی عمارت پر کیے گئے اس حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھ بچے اور تین خواتین شامل ہیں۔‘ سرکاری میڈیا نے اس سے قبل بتایا تھا کہ یہ حملہ نصف شب کے بعد کیا گیا۔
وزارتِ صحت کے مطابق قصبے میں ایک شہری گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک طبی امدادی کارکن بھی ہلاک ہوا۔ وزارت نے بتایا کہ حملے میں مزید دو طبی امدادی کارکن زخمی ہوئے۔
کفرا رومّان میں یہ حملے اسرائیلی فوج کی جانب سے آن لائن انخلا کی کوئی پیشگی وارننگ جاری کیے بغیر کیے گئے۔