یمن میں جاری جنگ میں شدت، حکومتی افواج کا تعز میں پیش قدمی کا دعویٰ
یمن میں جاری جنگ میں شدت، حکومتی افواج کا تعز میں پیش قدمی کا دعویٰ
پیر 14 ستمبر 2026 16:38
یمن کی حکومتی فوج نے مغربی تعز میں الجرداد کے علاقے پر نظر رکھنے والی اہم چوکیوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے (فوٹو: اے پی)
یمن میں اتوار کو لڑائی میں شدت آگئی اور حکومتی افواج نے تعز میں حوثیوں کے خلاف مزید پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے۔
یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سبا کے مطابق حکومتی فوج نے مغربی تعز میں الجرداد کے علاقے پر نظر رکھنے والی اہم چوکیوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور گیل بنی عمر کی جانب پیش قدمی کی ہے۔
خبر رساں ادارے نے فوجی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا کہ حکومتی افواج نے حوثیوں سے فوجی سازوسامان قبضے میں لے لیا اور انہیں بھاری جانی نقصان پہنچایا۔
ذرائع کے مطابق حکومتی طیاروں نے بھی تعز کے مختلف علاقوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں، اجتماعات اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ ان علاقوں میں ذباب، الوزاعیہ اور حیفان شامل ہیں۔
فوجی ذرائع نے یہ بھی کہا کہ جبل حبشی ضلع کے علاقے عفیرا میں حوثیوں کے ایک اجتماع پر فضائی حملے میں متعدد فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں جبکہ درمیانے درجے کے ہتھیاروں کے گولہ بارود کا ایک ذخیرہ بھی دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس حملے میں کم سے کم 10 حوثی جنگجو ہلاک ہوئے۔
تازہ لڑائی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پورے یمن میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یمنی صدارتی دفتر کے مطابق حکومتی افواج مآرب، الجوف، البیضاء اور الضالع میں بھی حوثیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔
صدر رشاد العلیمی نے صدارتی قیادت کونسل کے ارکان، وزیراعظم، فوجی کمانڈروں اور صوبائی حکام سے ملاقاتیں کیں اور مختلف محاذوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ مختلف محاذوں پر ہونے والی انفرادی نوعیت کی تبدیلیاں یمن بھر میں ریاستی عمل داری بحال کرنے کے حکومتی مقصد کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔
سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے
یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا دائرہ ملک کی سرحدوں سے باہر بھی پھیل گیا ہے اور حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے جاری ہیں۔
سعودی عرب کے محکمہ سول ڈیفنس نے پیر کی صبح مملکت کے جنوب مغربی علاقوں خمیس مشیط، ابہا، جازان اور نجران کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے، تاہم بعد میں اعلان کیا گیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
شہری ہلاکتوں میں اضافہ
یمن میں جاری لڑائی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نئی نقل مکانی کے باعث بحران بھی پیدا ہوا ہے۔
عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے اعداد و شمار کے مطابق، کشیدگی میں اضافے کے باعث تقریباً 2 ہزار افراد جبوتی پہنچ چکے ہیں (فوٹو: اے پی)
یمن کی وزارتِ انسانی حقوق نے اتوار کو بتایا کہ 3 ستمبر سے تعز، الحدیدہ اور مآرب میں ہونے والی لڑائی اور حملوں میں 150 شہری ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس عرصے کے دوران ہی تقریباً 85 ہزار افراد بے گھر ہوئے، جبکہ عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کشیدگی میں اضافے کے باعث تقریباً 2 ہزار افراد جبوتی پہنچ چکے ہیں۔
یمنی وزارتِ انسانی حقوق نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے شہری آبادی والے علاقوں، بے گھر افراد کے کیمپوں اور شہریوں کے قافلوں پر بیلسٹک میزائل، ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں سے حملے کیے۔
وزارت نے شہری اور طبی مراکز پر حملوں، اغوا، من مانی گرفتاریوں، لوٹ مار اور مبینہ طور پر میدانِ جنگ میں شہریوں کو قتل کیے جانے کے واقعات کی بھی اطلاع دی۔
وزارت نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں اور بے گھر افراد کا تحفظ یقینی بنائیں، مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں اور متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنائیں۔