Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جازان میں قدیم دیہی زندگی اور ورثے کی عکاسی کرتا ڈرامہ ’فرقنا‘

اسٹیج کی تیاری میں قدیم گاؤں کی عکاسی کی گئی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
جازان میں تھیٹر اور پرفارمنگ آرٹس کی تنظیم ’ضو‘ نے آرٹس اتھارٹی کے پروگرام ’ستار‘ کے تحت بیت الثقافتہ میں ’فرقنا‘ کے عنوان سے ایک تھیٹر ڈرامہ پیش کیا۔
ڈرامے میں جازان کے قدیم گاؤں کی سماجی زندگی کو موضوع بناتے ہوئے مقامی ورثے اور جدید تھیٹر کے اسلوب کو یکجا کرکے اس دور کی تفصیلات، کرداروں اور معاشرتی ماحول کو نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے ) کے مطابق ڈرامے کی کہانی گزرے ہوئے زمانے کی عکاسی کرتی ہے، جب ایک خانہ بدوش تاجر’پوٹلی‘ اٹھائے گاؤں میں داخل ہوتا ہے۔ اس کی آمد کے ساتھ ہی گاؤں والوں کے درمیان مزاحیہ واقعات اور دلچسپ صورتحال کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
آنے والے اجنبی سے مقامی باشندوں کے سوالات، شکوک و شبہات اور ہونے والے تجسس کے اظہار سے ڈرامے میں معاشرتی تعلقات، روزمرہ کی عادات اور سماج میں آنے والی تبدیلیوں کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
تنظیم کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سربراہ عبداللہ عقیل نے بتایا کہ ڈرامے کا مقصد جازان کے مقامی ورثے کو ایک جدید فنی قالب میں پیش کرنا ہے۔ اس کے لیے مزاحیہ انداز کو استعمال کرتے ہوئے سماجی یادداشت کو اجاگر اور معاشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈرامے نے مقامی صلاحیتوں کو اداکاری، ہدایت کاری، ڈیزائن اور دیگر فنی عناصر کی تیاری میں حصہ لینے کا موقع بھی فراہم کیا، جس سے خطے میں تھیٹر کے تجربات کو فروغ دینے اور ثقافتی سرگرمیوں کے تسلسل میں مدد ملتی ہے۔

 ڈرامے کی کہانی گاؤں میں آنے والے ایک اجنبی تاجر کے گرد گھومتی ہے (فوٹو: ایس پی اے)

ڈرامے میں قدیم گاؤں کی علامتوں سے استفادہ کیا گیا، جن میں سب سے نمایاں ’بقشہ‘ (پوٹلی) ہے۔ یہ صرف سامان اٹھانے والے تاجر کے استعمال کی ایک چیز نہیں رہی بلکہ اسے کہانیوں اور سماجی تبدیلیوں کی علامت کے طور پر بھی مانا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں قدیم طرز کے دروازے، تنگ گلیوں، فانوسوں، رسیوں، روایتی برتن اور دیگر اشیا کا بھی استعمال کرتے ہوئے ایسا اسٹیج تیار کیا گیا جس سے عہدِ رفتہ کا ماحول زندہ ہو گیا۔
ڈرامے میں استعمال کیا جانے والا لباس بھی کرداروں کی ڈرامائی تشکیل کا اہم حصہ تھا جس میں مقامی ورثے سے ماخوذ رنگوں، کپڑوں اور روایتی جزئیات کو شامل کیا گیا ہے۔

شیئر: