امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگانے کے لیے تیار
امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگانے کے لیے تیار
پیر 21 ستمبر 2026 6:18
صدر ٹرمپ اپنے پچھلے دور حکومت سے ہی عالمی فوجداری عدالت کے خلاف رہے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر پابندیاں لگانے کی تیاری کر لی ہے، جس کا اعلان جلد ہی کر دیا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ میں دو باخبر سورسز کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ اقدام اس عالمی عدالت پر حملے میں شدت کے مترادف ہو گا جو جنگی جرائم اور نسل کشی کے مقدمات کی سماعت کرتی ہے۔
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس عدالت سے اپنی ناراضی کو چھپانے کی کوشش کبھی نہیں کی اور اس کو کمزور کرنے کے لیے اقدامات کرتی رہی ہے۔ امریکی حکام چاہتے ہیں کہ عدالت اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف جاری کیے گئے گرفتاری کے وارنٹ واپس لے اور امریکی اہلکاروں کی افغانستان میں تعیناتی کے دوران سرگرمیوں کی تحقیقات کا سلسلہ بھی ختم کرے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جولائی میں عالمی عدالت کو تنہائی کا شکار کرنے کی مہم کا اعلان کرتے ہوئے دیگر ممالک سے بھی آئی سی سی سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔
واشنگٹن پہلے ہی آئی سی سی کے متعدد ججز اور پراسیکیوٹرز پر پابندیاں عائد کر چکا ہے، تاہم عدالت پر براہ راست پابندیاں لگانے سے اب تک گریز کیا جاتا رہا ہے جبکہ یہ اقدام طویل عرصے سے زیر غور آپشنز میں شامل رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے رپورٹ پر موقف جاننے کے لیے درخواست پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
رپورٹ کے مطابق سورسز کا کہنا ہے کہ عدالت کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر لی گئی ہے تاہم ان کے حتمی اعلان کا مخصوص وقت ابھی واضح نہیں ہے۔
امریکی انتظامیہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے وارنٹ جاری کرنے پر عالمی فوجداری عدالت سے ناراض ہے (فوٹو: اے ایف پی)
دوسری جانب وال سٹریٹ جرنل نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران رواں ہفتے ہی اس کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
اگر امریکی محکمہ خزانہ پوری آرگنائزیشن پر پابندی عائد کرتا ہے تو امریکی شہری اور کمپنیاں محکمہ خزانہ کے آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرل (او ایف اے سی) سے اجازت لیے بغیر عدالت کو رقم، سامان یا سروسز فراہم نہیں کر سکیں گی۔
ایسی پابندی کی صورت میں بینک اکثر ضرورت سے زیادہ سختی کیا کرتے ہیں کیونکہ ان کو امریکی مالیاتی نظام کے تحت ہی کام کرنا ہوتا ہے۔
آئی سی سی کے رجسٹرار اور صدر نے خبردار کیا ہے کہ پوری آرگنائزیشن پر پابندیاں عائد کرنے سے اس کے کئی اہم کام متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں آئی ٹی خدمات اور ان کی انشورنس کے علاوہ تفتیش کاروں کی بھرتی، روزمرہ کے مالی معاملات اور درجنوں امریکی ملازمین کی تنخواہیں بھی شامل ہیں۔
امریکہ چاہتا ہے کہ عالمی فوجداری عدالت افغانستان میں تعیناتی کے دوران فوجیوں کی سرگرمیوں کی تحقیقات بند کرے (فوٹو: اے ایف پی)
صدر ٹرمپ کی جانب سے عالمی عدالت کی مخالف ان کے پہلے دور سے ہی چلی آ رہی ہے۔
نومبر 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر عالمی عدالت اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر چکی ہے، جس پر ٹرمپ انتظامیہ ناراض دکھائی دتی ہے اور اس کے بعد ہی عدالت کے خلاف کارروائی کی تجویز سامنے آئی۔
عالمی عدالت انصاف کا قیام 2022 عمل لایا گیا تھا جس کا مقصد جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات چلانا تھا او وہ ایسے معاملات پر تب کارروائی کر سکتی ہے جب اس کے کسی رکن ملک میں ایسے جرائم کے خلاف کارروائی کی صلاحیت نہ ہو یا پھر وہ کرنا نہ چاہے جبکہ امریکہ کبھی بھی آئی سی سی کا رکن نہیں رہا ہے.