فرانسیسی مصنف فلپ جینادا نے گونکور پرائز 2026 جیتنے کے بعد اے آئی تنازع پر کیا کہا؟
فلپ جینادا نے واضح کیا کہ اس طویل ناول کے لیے انہوں نے محض تین بار اے آئی کی مدد لی (فوٹو: اے ایف پی)
فرانس کے معتبر ترین ادبی اعزاز ’پرائز گونکور‘ کے فاتح مصنف فلپ جینادا نے اپنی کتاب میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ’مزاحیہ اور طنزیہ‘ استعمال کا دفاع کیا ہے۔
جمعے کو اپنے ناشر کے ذریعے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بھیجے گئے ایک بیان میں فلپ جینادا نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ انہوں نے کتاب تحریر کرنے کے لیے اے آئی کی مدد لی۔
ان کا کہنا تھا ’یہ سوچنا ہی انتہائی مضحکہ خیز اور احمقانہ ہے کہ میں نے اس کتاب کا کوئی بھی حصہ لکھنے کے لیے جنریٹو اے آئی کا سہارا لیا۔‘
فلپ جینادا کو منگل کو ان کے ناول ’لینکونو دو کے دُو ژاول‘ (L'Inconnue du quai de Javel) پر سال 2026 کے گونکور پرائز سے نوازا گیا تھا۔
انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے کتاب کی تخلیق کے دوران صرف تین مرتبہ اے آئی کا استعمال کیا۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنفین اور محققین کی جانب سے اپنی تحریروں میں اس تکنیک کا استعمال کرنے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور انہیں ادبی مقابلوں سے خارج بھی کیا جا رہا ہے۔
’صرف تین بار استعمال‘
فلپ جینادا نے واضح کیا کہ 1940 کے دہائی کے اواخر میں ایک نوجوان برٹن خاتون کے غیر حل شدہ قتل کی کہانی پر مبنی اس طویل ناول کے لیے انہوں نے محض تین بار اے آئی کی مدد لی۔
انہوں نے اے آئی چیٹ بوٹس سے کچھ سوالات پوچھے جن پر انہیں ’انتہائی مضحکہ خیز، متضاد اور بیوقوفانہ جوابات‘ موصول ہوئے۔ دوسرا، انہوں نے اے آئی کا استعمال محض مواد کی تلاش اور تحقیق کے لیے کیا۔
اس کے علاوہ انہوں نے تفریح کے طور پر اے آئی کا تیار کردہ صرف ایک جملہ متن کے اندر چھپا دیا۔
مصنف کے مطابق یہ محض 10 الفاظ پر مشتمل ایک جملہ تھا اور کتاب کی اشاعت کے بعد سے قارئین کی جانب سے انہیں اس جملے کی نشاندہی کے لیے درجنوں قیاس آرائیاں موصول ہو چکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ’بدنیتی، بیوقوفی اور خیانت‘ کا جواب دینے کے لیے جلد اس جملے کو افشا کر دیں گے۔
ادبی مقابلوں میں اے آئی کا تنازع
یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پرائز گونکور کے مضبوط امیدوار سمجھے جانے والے ہیٹی نژاد کینیڈین مصنف تھیلیسن اوریلین کو ان کے ناول کے شارٹ لسٹ سے خارج کر دیا گیا تھا کیونکہ ان پر اے آئی سے کتاب لکھوانے کا شبہ تھا۔
گزشتہ ماہ تھیلیسن اوریلین کے کینیڈین ناشر نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مصنف نے کتاب کی تحریر میں اے آئی سے مدد لی تھی جس کے بعد ادارے نے ان سے اپنے تمام پیشہ ورانہ تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
