Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیلی صدر کا نیتن یاہو کے حریف گادی آئزنکوٹ کو حکومت سازی کی دعوت کا فیصلہ

اسرائیل کے صدر نے سنیچر کو وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سب سے بڑے سیاسی حریف گادی آئزنکوٹ کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ قدم ایک ایسے غیر حتمی انتخابی نتائج کے بعد سامنے آیا ہے جس کے بعد دونوں میں سے کسی بھی رہنما کے پاس اقتدار حاصل کرنے کا واضح راستہ موجود نہیں رہا۔
اسرائیل کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے رہنما بنیامین نیتن یاہو 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے بعد عہدے پر برقرار رہنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کا مذہبی اور قوم پرست اتحاد اکثریت کھو چکا ہے تاہم وہ پارلیمان میں اب بھی سب سے بڑا بلاک بن کر ابھرے ہیں۔
سابق عسکری سربراہ گادی آئزنکوٹ نے عرب جماعتوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا ہے جن کی حمایت کے ساتھ انہیں پارلیمان میں اکثریت حاصل ہو سکتی تھی۔ لیکن عرب رہنما، نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی مبینہ نسلی پالیسیوں پر سیخ پا ہو کر، آئزن کوٹ کو ہی سب سے پہلے حکومت سازی کا موقع دینے کے لیے نامزد کر چکے ہیں، جس کے باعث انہیں سب سے زیادہ توثیق حاصل ہو گئی۔
صدر اسحاق ہرزوگ کے ترجمان نے بتایا ’صدر ہرزوگ نے گادی آئزنکوٹ کو صدارتی رہائش گاہ میں مدعو کیا ہے جہاں کل (اتوار کو) انہیں حکومت سازی کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔‘ صدر کا کردار زیادہ تر علامتی ہوتا ہے جس میں انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے امیدوار کو نامزد کرنا شامل ہے۔
حکومت سازی کی دشوار کوشش
گادی آئزنکوٹ کی نامزدگی کے بعد ہفتوں پر محیط طویل اور پیچیدہ مذاکرات کی توقع ہے۔ ان کے پاس حکومت بنانے کے لیے 28 دن کا وقت ہو گا جس میں 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔
اقتدار تک پہنچنے کے ان کے ممکنہ راستوں میں باہر سے عرب حمایت کے ذریعے اقلیتی حکومت تشکیل دینا، الٹرا آرتھوڈوکس (شدت پسند مذہبی) جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا جنہیں وہ اور ان کے اتحادی ماضی میں نظر انداز کرتے رہے ہیں یا نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایک قومی اتحاد کی حکومت قائم کرنا شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان تینوں آپشنز کا عملی شکل اختیار کرنا بعید از قیاس دکھائی دیتا ہے۔ اگر گادی آئزنکوٹ ناکام رہتے ہیں تو کوئی دوسرا امیدوار حکومت سازی کی کوشش کر سکتا ہے اور اگر وہ بھی ناکام رہتا ہے تو پارلیمان کسی دیگر شخص کو نامزد کر سکتی ہے۔ اس پورا عمل کے لیے لگ بھگ 100 دن کی مہلت ہوتی ہے۔ اگر کوئی بھی کامیاب نہ ہو سکے تو ملک میں دوبارہ انتخابات کروائے جاتے ہیں۔
120 نشستوں والی کنیسیٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے بطور سنگل پارٹی سب سے زیادہ 27 نشستیں حاصل کی ہیں لیکن ان کا وسیع تر مذہبی قوم پرست اتحاد مجموعی طور پر صرف 53 نشستیں حاصل کر سکا جو 61 نشستوں کی اکثریت سے کم ہے۔
گادی آئزنکوٹ کی ’یاشار‘ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے جبکہ ان کا چار سینٹر لیفٹ سے دائیں بازو کی یہودی جماعتوں پر مشتمل اتحاد صرف 48 نشستیں حاصل کر سکا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی عرب اقلیت کی نمائندگی کرنے والی دو جماعتوں نے ریکارڈ 19 نشستیں جیتی ہیں۔
یہودی آبادکاروں کے تشدد پر تنقید
مراکش سے آنے والے مہاجرین کے بیٹے، 66 سالہ آئزنکوٹ اگر وزیر اعظم بنتے ہیں تو وہ اسرائیل کی مزراحی برادری (مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے یہودی) سے تعلق رکھنے والے ملک کے پہلے وزیراعظم ہوں گے۔
سنجیدہ اور میڈیا سے دور رہنے والے آئزنکوٹ نے 2022 میں سیاست میں قدم رکھا۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد انہوں نے مختصر عرصے کے لیے نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں خدمات انجام دیں اور بعد میں دوبارہ اپوزیشن میں چلے گئے۔
اپوزیشن میں رہتے ہوئے انہوں نے نیتن یاہو کی قیادت، بالخصوص غزہ میں فوجی مہم کو چلانے کے انداز پر عوامی سطح پر شدید تنقید کی اور قسم کھائی ہے کہ وہ ان کے ساتھ حکومت میں شامل نہیں ہوں گے۔
گادی آئزنکوٹ کی عوام میں مقبولیت کا تعلق اس ذاتی قیمت سے بھی ہے جو ان کے خاندان نے 2023 کے بعد سے ادا کی ہےم ان کا ایک بیٹا اور دو بھتیجے غزہ میں جنگ کے دوران مارے گئے ہیں۔
گادی آئزنکوٹ نے انتخابی مہم کے دوران اپنی دفاعی مہارتوں کو نمایاں کیا اور اپنی ’ضاحیہ ڈاکٹرائن کا حوالہ دیا جس کے تحت حملوں کا جواب غیر متناسب فورس سے دیا جاتا ہے۔ یہ حکمت عملی انہوں نے 2006 میں لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے خلاف جنگ کے دوران بطور کمانڈر استعمال کی تھی۔
آئزن کوٹ نے فلسطینیوں کے خلاف یہودی آبادکاروں کے تشدد پر بھی تنقید کی ہے جس میں 2023 کے بعد سے شدید اضافہ ہوا ہے اور جس کے باعث مغرب کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے۔
وہ نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں، اتمار بن گویر اور بتسلئیل سموٹریچ کے بھی مخالف ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں کو فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کے الزام میں کچھ مغربی ممالک کی جانب سے پابندیوں کا سامنا ہے۔

شیئر: