Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دوپٹہ اوڑھے روبیا اور جوجو، کراچی کے ریسٹورنٹ میں نئے روبوٹک ویٹرز کی دھوم

دونوں روبوٹس پاکستانی انجینیئر سید اسامہ عزیز کی تخلیق ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
کراچی کے ایک روشن اور جدید ریسٹورنٹ میں ایک روبوٹ ویٹریس خاموشی سے میزوں کے درمیان چلتی ہوئی ایک خاندان کے پاس پہنچتی ہے اور تازہ پیزا پیش کرتی ہے۔ دنیا بھر میں جدید ہیومنائیڈ روبوٹس کی مقبولیت بڑھ رہی ہے لیکن پاکستانی ریسٹورنٹس میں روبوٹک عملہ اب بھی ایک نایاب منظر ہے۔
’سسیلین‘ نامی ریسٹورنٹ میں روبوٹ ویٹریس ’روبیا‘ الیکٹرانک آواز میں اپنا تعارف کراتے ہوئے گاہکوں کا استقبال کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور روبوٹ ’جوجو‘ بھی خدمات انجام دے رہا ہے۔ دونوں روبوٹس پاکستانی انجینیئر سید اسامہ عزیز کی تخلیق ہیں، جنہوں نے کراچی کی ریسٹورنٹ انڈسٹری میں ایک منفرد جدت متعارف کرائی ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجسی اے ایف پی کے مطابق ان روبوٹس کے سفید گول سَر، سیاہ ویزر اور خواتین کے دوپٹے سے مشابہ سیاہ شالیں انہیں ایک منفرد روپ دیتی ہیں۔ روبوٹس کی زیادہ تر تیاری مقامی سطح پر تیار ہونے والے پرزوں سے کی گئی ہے، جبکہ ان کے سرکٹ بورڈز اور سافٹ ویئر ڈیزائن بھی پاکستان میں ہی تیار کیے گئے ہیں۔
سید اسامہ عزیز، جو ’دی سسیلین‘ ریسٹورنٹ کے بانی بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ پاکستان میں روبوٹ بنانے کے لیے درکار سامان آسانی سے دستیاب نہیں ہوتا، اس لیے مختلف ذرائع سے پرزے حاصل کرنا پڑے۔ ان کے مطابق زیادہ تر کام ان کی اپنی لیبارٹری میں انجام دیا گیا، جبکہ کچھ الیکٹرانک اجزا بیرون ملک سے درآمد کیے گئے۔
یہ روبوٹس ان کی روبوٹکس کمپنی ’کوبوٹ‘ کے تحت تیار کیے گئے ہیں۔ اگرچہ چین اور مشرقی ایشیا کے کئی ممالک میں ریسٹورنٹس، ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر روبوٹس عام ہوتے جا رہے ہیں، پاکستان میں یہ تصور ابھی نیا ہے، جس کی وجہ سے کراچی میں یہ روبوٹس لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
فی الحال روبوٹس کھانا میز تک پہنچا سکتے ہیں، تاہم گاہکوں کو کھانا خود اٹھانا پڑتا ہے یا پھر عملے کے کسی رکن کی مدد لینا ہوتی ہے۔
سید اسامہ عزیز مستقبل میں ان روبوٹس کو مزید جدید بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اگلے مرحلے میں روبوٹس میں کیمرہ بیسڈ پروسیسنگ اور تصویری شناخت کی صلاحیت شامل کی جائے گی۔

بچے روبوٹس کو چھونے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ والدین سیلفیاں اور تصاویر بناتے نظر آتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے بتایا کہ ’مستقبل میں روبوٹ گاہکوں کو پہچان سکیں گے، ان کے سابقہ آرڈرز یاد رکھ سکیں گے اور اسی بنیاد پر بہتر تجاویز بھی دے سکیں گے۔‘
ریسٹورنٹ میں آنے والے خاندان خصوصی طور پر روبوٹس کو دیکھنے اور ان کے ساتھ تصاویر بنانے پہنچ رہے ہیں۔ گاہک احمر ضمیر کا کہنا ہے کہ انہیں سب سے زیادہ یہ بات پسند آئی کہ روبوٹ خود اپنا تعارف کرواتا ہے اور دستیاب کھانوں کے بارے میں بھی معلومات دیتا ہے۔
بچے روبوٹس کو چھونے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ والدین سیلفیاں اور تصاویر بناتے نظر آتے ہیں۔ ایک نوجوان گاہک سونیا ڈیلوسکر نے کہا کہ انہیں روبوٹس کا انداز پسند آیا کیونکہ ’یہ ایک مشین ہیں اور جذبات سے بالاتر ہو کر خدمات فراہم کرتی ہیں۔‘
ریسٹورنٹ انتظامیہ کے مطابق روبوٹس کی وجہ سے کاروبار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور لوگ کراچی کے مختلف علاقوں سے خصوصی طور پر انہیں دیکھنے آ رہے ہیں۔

یہ روبوٹس ظاہر کرتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اب پاکستانی کاروباروں کا حصہ بنتی جا رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ریسٹورنٹ کی ملازم ہیلن کے مطابق ’لوگ پہلی مرتبہ یہاں روبوٹ دیکھ رہے ہیں، اسی لیے بہت پُرجوش ہیں۔ اس سے ہمارے کاروبار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘
پاکستان میں تیار کیے گئے یہ روبوٹس نہ صرف مقامی انجینیئرنگ صلاحیتوں کی مثال ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اب پاکستانی کاروباروں کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔

 

شیئر: