Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فرانس نئے احتجاجی مظاہروں کے لیے تیار، ییلو ویسٹ کی ’بڑے پیمانے پر نافرمانی‘ کی اپیل

اگرچہ حالیہ مظاہروں کی بڑی تعداد پرامن رہی ہے، تاہم بعض مواقع پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
فرانس میں سنیچر کو ایک بار پھر احتجاجی مظاہروں کی تیاری جاری ہے جہاں مزدور یونینز اور طلبہ تنظیمیں سڑکوں پر نکلنے والی ہیں، جبکہ ییلو ویسٹ تحریک نے حکومتی پابندی کے باوجود پیرس کے مرکز میں الگ ریلی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ مظاہرے نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی کئی ہفتوں کی بے چینی اور ملک گیر ہڑتالوں کے بعد ہو رہے ہیں جن میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لاکھوں کارکن سڑکوں پر آئے تھے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فرانس میں صدارتی انتخابات میں چھ ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے اور صدر ایمانوئل میکخواں کی جگہ نئے صدر کے انتخاب کی تیاریاں جاری ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کو برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
طلبہ تنظیموں اور ٹریڈ یونینز نے پیرس کے مرکزی علاقے میں مہنگائی کے خلاف اور نوجوانوں کے مطالبات کی حمایت میں ایک ریلی کا اعلان کیا ہے۔
تاہم ییلو ویسٹ تحریک نے اس مارچ میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے پلیس دے لا کونکورڈ میں الگ احتجاج کی کال دی ہے۔ یہ مقام فرانسیسی پارلیمان کے ایوان زیریں اور صدارتی محل کے قریب واقع ہے جہاں حکام پہلے ہی احتجاجی اجتماعات پر پابندی عائد کر چکے ہیں۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا ہے کہ ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکار اور سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ’اگر کوئی ہنگامہ آرائی یا لوٹ مار کی کوشش ہوئی تو ہم پوری طرح تیار ہوں گے۔‘
اگرچہ حالیہ مظاہروں کی بڑی تعداد پرامن رہی ہے، تاہم بعض مواقع پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ 17 اکتوبر کو فرانس نے حالیہ برسوں کی بدترین ہنگامہ آرائی دیکھی تھی۔

حکام 17 اکتوبر کی بدامنی اور لوٹ مار کے واقعات کا تسلسل روکنے کے لیے پرعزم ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

جمعرات کو لاکھوں ہڑتالی کارکن ملک بھر میں سڑکوں پر نکلے تھے۔ بیشتر احتجاج پرامن رہے، لیکن کئی شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
ییلو ویسٹ تحریک جس نے آٹھ برس قبل ایندھن پر ٹیکس میں اضافے کے خلاف بڑے عوامی احتجاج کے ذریعے شہرت حاصل کی تھی، نے پابندی کے باوجود اپنے احتجاجی پروگرام پر عمل درآمد کا اعلان کیا ہے۔
تحریک کی رابطہ کمیٹی کے رکن بنیامین بال نے کہا کہ ’ہم بڑے پیمانے پر نافرمانی کی اپیل کر رہے ہیں۔‘
حکام 17 اکتوبر کی بدامنی اور لوٹ مار کے واقعات کا تسلسل روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق جمعرات کے احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اگرچہ 642 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
وزیر اعظم سیباستین لیکورنو پیر کے روز یونین نمائندوں اور آجروں کی تنظیموں کے ساتھ اجرتوں اور عوامی قوت خرید پر مذاکرات کریں گے۔

پولیس کے سخت طرز عمل پر بھی تنقید کی جا رہی ہے اور مظاہرین کے خلاف مبینہ تشدد کے الزامات پر درجنوں داخلی تحقیقات جاری ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

یونین اتحاد نے جمعے کو اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ احتجاج اسی وقت ختم ہوگا جب مزدوروں، سرکاری ملازمین، نوجوانوں اور پنشنرز کے مطالبات کا عملی جواب دیا جائے گا۔
یونینز کم از کم اجرت میں اضافے، عمومی تنخواہوں میں بہتری، ٹیکس اصلاحات اور نوجوانوں کے لیے بہتر تعلیمی سہولیات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
یورپی یونین کی دوسری بڑی معیشت ہونے کے باوجود بڑھتے قرضوں کے باعث فرانسیسی حکومت کے پاس مظاہرین کو مطمئن کرنے کے لیے زیادہ مالی گنجائش موجود نہیں ہے۔

 

شیئر: