آدھی آبادی کے اثاثے متاثر، ایک بینک کی بندش سے صدر کے استعفے تک، پیراگوئے میں کیا ہوا؟
آدھی آبادی کے اثاثے متاثر، ایک بینک کی بندش سے صدر کے استعفے تک، پیراگوئے میں کیا ہوا؟
جمعہ 6 نومبر 2026 15:39
جنوبی امریکی ملک پیراگوئے میں ڈیجیٹل بینک ’یونو‘ کے مالی بحران نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔(فوٹو:اے ایف پی)
جنوبی امریکی ملک پیراگوئے میں ڈیجیٹل بینک ’یونو‘ کے مالی بحران نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔
بینک کی بندش سے لاکھوں صارفین اپنے اکاؤنٹس اور جمع پونجی تک رسائی سے محروم ہو گئے، جبکہ اس کے حکومتی روابط پر سوالات اٹھنے کے بعد صدر سانتیاگو پینا نے 5 نومبر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یونو بینک کو مطلوبہ مالیاتی ضوابط کی خلاف ورزی اور بڑے شیئر ہولڈرز سے منسلک کمپنیوں کو مبینہ طور پر غیرمعمولی قرضے دینے کے معاملے پر مرکزی بینک کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس بحران نے نہ صرف ملک کے بینکاری نظام بلکہ حکومت اور مالیاتی اداروں کی نگرانی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے۔
یہ معاملہ اس وقت سیاسی بحران میں تبدیل ہوا جب صدر پینا کے ماضی کے کاروباری تعلقات سامنے آئے اور اپوزیشن نے ان پر مفادات کے ٹکراؤ، پنشن فنڈز کے غلط استعمال اور بینک کو تحفظ فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے۔
یونو بینک کیا ہے اور اتنی تیزی سے کیسے مقبول ہوا؟
یونو ایک ڈیجیٹل بینک ہے جس نے 2021 میں کام شروع کیا تھا۔ اس نے روایتی بینکاری کے بجائے موبائل ایپ کے ذریعے صارفین کو ادائیگیوں، بچت اور دیگر مالی خدمات فراہم کیں۔
بینک نے بہت کم عرصے میں تیزی سے ترقی کی اور جون 2026 تک اس کے صارفین کی تعداد قریباً 30 لاکھ ہو گئی تھی، جبکہ پیراگوئے کی مجموعی آبادی لگ بھگ 65 لاکھ ہے۔
اس طرح ملک کی قریباً نصف آبادی یونو کی صارف بن چکی تھی۔
بینک کے مطابق اس کے زیرانتظام سرکاری اداروں اور پنشن سے متعلق اداروں سمیت قریباً 85 کروڑ ڈالر کے فنڈز موجود تھے۔
یونو کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کی ڈیجیٹل خدمات تھیں، جن کے ذریعے ایسے افراد بھی بینکاری کی سہولت حاصل کر سکتے تھے جنہیں روایتی بینکوں تک آسان رسائی حاصل نہیں تھی۔
بینک کا بحران کیسے شروع ہوا؟
یونو بینک کی تیز رفتار ترقی کے بعد اس کے قرضوں اور مالی معاملات پر سوالات اٹھنے لگے۔ خاص طور پر بینک کے بڑے شیئر ہولڈرز ’گروپو واسکیز‘ سے منسلک کمپنیوں کو مبینہ طور پر غیرمعمولی قرضے دینے کے معاملے پر ضابطہ کار اداروں نے تحقیقات شروع کیں۔
تحقیقات کے دوران بینک کے قرضوں کی دستاویزات میں خامیاں اور بعض اخراجات کو اثاثوں کے طور پر ظاہر کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا (فائل فوٹو: روئٹرز)
مرکزی بینک کو شبہ تھا کہ بینک نے اپنے بڑے شیئر ہولڈر سے منسلک کمپنیوں کو ضرورت سے زیادہ قرضے فراہم کیے ہیں، جس سے اس کے مالی استحکام کو خطرہ لاحق ہوا۔
تحقیقات کے دوران بینک کے قرضوں کی دستاویزات میں خامیاں اور بعض اخراجات کو اثاثوں کے طور پر ظاہر کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔
مرکزی بینک نے قرار دیا کہ یونو مطلوبہ کم از کم مالیاتی استحکام کے ضوابط پر پورا نہیں اتر رہا۔ اس کے بعد 3 نومبر کو بینک کے معاملات اپنے کنٹرول میں لے کر اس کے خلاف ’ریزولوشن‘ کا عمل شروع کر دیا گیا۔
یہ کارروائی فوری طور پر بینک کو ختم کرنے کے بجائے اس کے مالی معاملات سنبھالنے، صارفین کی رقوم کے تحفظ اور اکاؤنٹس دوسرے مالیاتی اداروں میں منتقل کرنے کے لیے کی گئی تھی۔
اس فیصلے کے بعد صارفین یونو کی موبائل ایپ، کارڈز اور رقم کی منتقلی کی سہولت استعمال نہیں کر سکے۔ جبکہ اپنی جمع پونجی تک رسائی نہ ملنے پر بعض صارفین نے بینک کی شاخوں کے باہر احتجاج بھی کیا۔
صدر سانتیاگو پینا کا بینک سے کیا تعلق تھا؟
یونو بینک کے بحران نے اس وقت سیاسی رخ اختیار کیا جب صدر سانتیاگو پینا کے ماضی کے کاروباری تعلقات سامنے آئے۔
پینا 2023 میں صدر منتخب ہوئے تھے۔ وہ اس سے قبل گروپو واسکیز کے شیئر ہولڈر رہ چکے تھے، جو یونو بینک کا کنٹرولنگ گروپ ہے۔
صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے مارچ 2025 میں اپنے شیئرز فروخت کر دیے تھے۔
یونو بینک کا مؤقف ہے کہ صدر پینا کا بینک میں براہ راست کوئی حصہ داری یا سرمایہ کاری نہیں تھی۔
تاہم اپوزیشن جماعتوں نے صدر پر مفادات کے ٹکراؤ، پنشن فنڈز کے غلط استعمال اور بینک کو سرکاری سطح پر تحفظ فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے۔
صدر نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بینک کے معاملات ایک مالیاتی اور قانونی مسئلہ ہیں جنہیں متعلقہ اداروں اور عدالتوں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
پراسیکیوٹرز نے بینک کی ناکامی اور اس سے متعلق معاملات کی تحقیقات شروع کیں، جن میں صدر پینا کا نام بھی شامل تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
مرکزی بینک کے سربراہ نے استعفیٰ کیوں دیا؟
اس بحران میں مرکزی بینک کے سربراہ کارلوس کاروالو کا کردار بھی زیرِ بحث آیا کیونکہ وہ اگست 2023 تک یونو کی پیش رو مالیاتی کمپنی کے سربراہ رہ چکے تھے۔
یونو کے خلاف کارروائی کے بعد ان کے سابقہ عہدے اور بینک کی نگرانی کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے۔
ناقدین کا کہنا تھا کہ ایک ایسے شخص کو مرکزی بینک کی سربراہی نہیں کرنی چاہیے جس کا ماضی میں اسی مالیاتی ادارے سے تعلق رہا ہو۔
کاروالو نے 3 نومبر کو صدر پینا کی درخواست پر مرکزی بینک کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
مرکزی بینک کا کہنا تھا کہ کاروالو نے یونو سے متعلق تمام فیصلوں میں خود کو الگ رکھا تھا، تاہم اپوزیشن اور بینکاری شعبے کے نمائندوں نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا کہ آیا بینک کی مناسب نگرانی کی گئی تھی یا نہیں۔
صدر کے استعفے کی وجہ کیا بنی؟
یونو بینک کے بحران کے بعد صارفین کے احتجاج اور اپوزیشن کے دباؤ میں اضافہ ہوا۔ دوسری جانب صدر کو اپنی ہی جماعت کولوراڈو پارٹی کے بعض اہم رہنماؤں کی حمایت بھی حاصل نہیں رہی۔
پراسیکیوٹرز نے بینک کی ناکامی اور اس سے متعلق معاملات کی تحقیقات شروع کیں، جن میں صدر پینا کا نام بھی شامل تھا۔ اسی ہفتے یونو کے آٹھ عہدیداروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔
روئٹرز کے مطابق صدر کو اس معاملے میں تفتیش کے لیے طلب نہیں کیا گیا تھا، تاہم ان کے ماضی کے کاروباری روابط کی تحقیقات جاری تھیں۔
5 نومبر کو جب پارلیمان میں صدر کے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے اجلاس ہو رہا تھا تو پینا نے ایک ویڈیو پیغام میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے استحکام، سماجی امن اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے یہ فیصلہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے عوام سے معذرت بھی کی اور کہا کہ متاثرہ صارفین کی رقوم کی واپسی یقینی بنانا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
متاثرہ صارفین میں سرکاری پنشن اور دیگر مراعات وصول کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔(فوٹو:رائٹرز)
صدر کے اعلان کے چند منٹ بعد ایوانِ زیریں نے 78 کے مقابلے میں صفر ووٹوں سے ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی منظور کر لی۔ اس فیصلے کے بعد معاملہ سینیٹ کو بھیج دیا گیا، جہاں صدر کو باضابطہ طور پر عہدے سے ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے۔
صارفین کی رقم کا کیا بنے گا؟
یونو بینک کی بندش سے تقریباً 30 لاکھ صارفین متاثر ہوئے، جن میں ایسے پنشنرز بھی شامل تھے جو سرکاری وظائف اسی بینک کے ذریعے وصول کرتے تھے۔
مرکزی بینک نے صارفین کے اکاؤنٹس دوسرے مالیاتی اداروں میں منتقل کرنے کا عمل شروع کیا، جبکہ حکومت نے متاثرہ افراد کی رقوم کے تحفظ اور ادائیگیوں میں تیزی لانے کے لیے قانون سازی کی۔
اس دوران بعض دیگر بینکوں کی موبائل ایپس میں بھی تکنیکی مسائل سامنے آئے کیونکہ یونو کے صارفین نے بڑی تعداد میں دوسرے بینکوں میں اکاؤنٹس کھولنے کی کوشش کی۔
متاثرہ صارفین میں سرکاری پنشن اور دیگر مراعات وصول کرنے والے افراد بھی شامل ہیں، جس کے باعث حکومت پر جلد از جلد ادائیگیاں یقینی بنانے کا دباؤ بڑھ گیا۔
کیا اس بحران سے پیراگوئے کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے؟
یونو بینک نے 2026 کے ایک بیان میں بتایا تھا کہ اسے ترقیاتی اداروں، بین الاقوامی فنڈز اور عالمی مالیاتی منڈیوں سے تقریباً 51 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت حاصل ہوئی تھی۔
اس میں وال سٹریٹ پر جاری کیے گئے 35 کروڑ ڈالر کے بانڈز بھی شامل تھے، جن کے اجرا میں جے پی مورگن اور بینک آف امریکہ نے کردار ادا کیا تھا۔
یونو کے مالی بحران کے باعث نہ صرف بینک کے صارفین متاثر ہوئے بلکہ سرمایہ کاروں میں بھی تشویش پیدا ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یونو کا بحران صرف ایک بینک تک محدود ہے اور اس سے پورے بینکاری نظام کی کمزوری ظاہر نہیں ہوتی۔(فوٹو:اے ایف پی)
صدر کے استعفے کے اعلان کے بعد پیراگوئے کے سرکاری بانڈز کی قیمتوں میں کمی اور ملکی کرنسی کی قدر میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔
پیراگوئے نے حالیہ برسوں میں جنوبی امریکہ کی نسبتاً مستحکم اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار معیشت کے طور پر اپنی شناخت بنائی ہے۔ ملک کو سرمایہ کاری کے درجے کی کریڈٹ ریٹنگ بھی حاصل ہوئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یونو کا بحران صرف ایک بینک تک محدود ہے اور اس سے پورے بینکاری نظام کی کمزوری ظاہر نہیں ہوتی۔
تاہم اس واقعے نے ملک میں مالیاتی اداروں کی نگرانی، سرکاری رقوم کے تحفظ اور حکومتی شفافیت پر اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔