Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ڈاکٹر نے آنکھیں نکال دیں‘، انڈین سکول میں موبائل مخالف ڈرِل پر تنازع، تحقیقات کا حکم

سکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرگرمی کا مقصد بچوں کو موبائل کے زیادہ استعمال کے خطرات سے آگاہ کرنا تھا (فوٹو: انڈین ایکسپریس)
انڈیا کے ایک سکول میں بچوں کو موبائل سے دور رکھنے کے لیے ہونے والی مشق تنازع کا شکار ہو گئی، جس پر تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور انتظامیہ سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔
نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق واقعہ ریاست اتراکھنڈ کے ضلع اُدھم سنگھ کے علاقے کھٹیما کے ایک نجی سکول میں پیش آیا۔
سکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس مشق کا مقصد بچوں کو موبائل کے زیادہ استعمال سے لاحق ہونے والے خطرات سے آگاہ کرنا تھا۔
اس سرگرمی کی ویڈیو منظرعام پر آتے ہی وائرل ہو گئی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کلاس میں ایک ایک ایسے بچے کو لایا جاتا ہے جس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے اور متجسس بچوں کو بتایا جاتا ہے کہ ’یہ بہت زیادہ موبائل فون استعمال کرتا تھا اس لیے ڈاکٹر نے اس کی آنکھیں نکال دی ہیں۔‘
یہ سنتے ہی کئی بچوں کی چیخوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، وہ روتے اور خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں۔
اسی وقت ہی ایک ٹیچر ان سے پوچھتا ہے کہ کیا وہ موبائل استعمال کرنا چاہتے ہیں؟ تو اس کے جواب میں بچے بار بار یہ وعدہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ آئندہ کبھی موبائل استعمال نہیں کریں گے۔
جس بچے کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ رنگ لگایا گیا تھا، ٹیچر کے بعد وہ بچہ خود بھی دوسرے بچوں کو بتاتا ہے کہ ’میں موبائل فون کا بہت زیادہ استعمال کرتا تھا اس لیے ڈاکٹروں نے میری آنکھیں نکال دی ہیں۔‘
اس واقعے نے ایک ایسی آگاہی کی سرگرمی پر آواز اٹھائے ہیں جس کی بنیاد خوف پر ہے اور اس کے نفسیاتی اثرات پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔
واقعے کے بعد سکول انتظامیہ کی جانب سے دی گئی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ یہ سرگرمی زیادہ سکرین ٹائم، آن لائن گیمز، موبائل فون اور سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کے ممکنہ نقصانات سے آگاہ کرنے کے لیے ترتیب دی گئی تھی۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد ضلعی محکمہ تعلیم نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے جبکہ سوشل میڈیا صارفین بھی ایک مثبت کام کے لیے منفی طریقہ اختیار کرنے پر سکول انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور زیادہ تر اس کو ایک خوفناک سرگرمی قرار دے رہے ہیں۔

شیئر: