امریکہ سے افغان شہریوں کی پاکستان کے راستے ملک بدری کا معاملہ زیرِ غور ہے: دفترِ خارجہ
پاکستانی حکومت امریکہ کی اس تجویز پر غور کر رہی ہے جس کے تحت افغان شہریوں کو امریکہ سے پاکستان کے راستے افغانستان واپس بھیجا جا سکتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعے کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران اس بات کی تصدیق کی۔
واضح رہے کہ امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے رواں ہفتے افغان شہریوں کو پاکستان بھیجنے کے منصوبے پر عمل درآمد روک دیا تھا۔
امریکہ کی جانب سے افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے افغانستان واپس بھیجنے سے متعلق اطلاعات پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس معاملے کے تمام پہلوؤں پر بات چیت جاری ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے مزید بتایا کہ ’پاکستان اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس معاملے کے تمام پہلوؤں پر بات چیت جاری ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایسا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی جس پر تمام متعلقہ فریقوں کا اتفاق ہو اور امید ہے کہ اس معاملے پر باہمی اتفاقِ رائے سے کوئی راستہ نکال لیا جائے گا۔
امریکی میڈیا نے گذشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی امیگریشن پالیسی کے تحت امریکہ میں مقیم 150 سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے افغانستان بھیجا جا سکتا ہے۔
اس گروپ میں ان افغان شہریوں کے رشتہ دار بھی شامل تھے جنہوں نے افغانستان میں امریکی فوج کی مدد کی تھی۔ یہ بات ایک تنظیم افغان ایواک (AfghanEvac) نے بتائی، جو سابق افغان اتحادیوں کی مدد کرتی ہے۔
امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے منگل کے روز افغان تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کے منصوبے کو روک دیا تھا۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وطن واپس بھیجنے سے ان افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی حکومت نے رواں سال کے آغاز میں ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ ملک میں ویزہ کے بغیر مقیم افغان شہریوں کو گرفتار کریں۔
یہ اقدام پاکستان کی گذشتہ کئی برسوں سے جاری افغان شہریوں کی وطن واپسی کی پالیسی کا حصہ ہے، جس کے نتیجے میں جنگوں کے باعث کئی دہائیوں سے پاکستان میں پناہ لینے والے لاکھوں افغان شہری وطن واپس بھیجے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب پیر کو افغانستان کی طالبان حکومت نے بھی امریکہ کے اس منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کشیدہ ہیں، جبکہ گذشتہ اکتوبر میں سرحد پر ہونے والی خونریز جھڑپوں کے بعد صورتِ حال مزید خراب ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سرحد قریباً مکمل طور پر بند ہو گئی تھی۔