Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: مغربی بنگال میں مسیحی برادری پر منظم حملوں کا الزام، گرجا گھروں کی توڑ پھوڑ اور پادریوں پر تشدد

مسیحی تنظیموں پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ہندوؤں کو عیسائیت قبول کرنے کی ترغیب دیتی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں مسیحی رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ گرجا گھروں میں توڑ پھوڑ اور پادریوں پر حملوں کے حالیہ واقعات کے بعد ان کے مذہبی عقائد کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے جمعے کو گفتگو کرتے ہوئے مسیحی رہنماؤں نے بتایا کہ ہندو اکثریتی آبادی والی اس ریاست میں وزیرِاعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مئی میں ریاستی انتخابات جیتنے کے بعد سے گرجا گھروں میں توڑ پھوڑ اور پادریوں پر تشدد کے واقعات پیش آرہے ہیں۔
جمعرات کو سینکڑوں مسیحیوں نے ریاستی دارالحکومت کولکتہ میں احتجاجی مارچ کیا۔
مارچ کا اہتمام کرنے والی تنظیم بنگیا کرسچن پریسیبا (بی سی پی) کے رہنما ہیرود ملک نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’گذشتہ پانچ ماہ سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسیحیوں کے خلاف منظم حملے کیے جا رہے ہیں اور ان حملوں کا جواز غیر قانونی مذہبی تبدیلیوں کو بنایا جا رہا ہے۔‘
مسیحی تنظیموں پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ہندوؤں کو عیسائیت قبول کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
انڈیا کی آخری قومی مردم شماری کے مطابق مغربی بنگال کی آبادی میں مسیحیوں کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
بی سی پی کے مطابق تنظیم نے گذشتہ پانچ ماہ کے دوران دعائیہ اجتماعات، عبادت گاہوں اور گرجا گھروں کو نشانہ بنانے والے توڑ پھوڑ اور تشدد کے 48 واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔ تنظیم نے ان واقعات کو ’ایک غیر معمولی بحران‘ قرار دیا ہے۔
اے ایف پی ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا تاہم دیگر مسیحی تنظیموں اور تحقیقی اداروں نے بھی حملوں کے ایسے ہی واقعات کی نشاندہی کی ہے۔
حکمران جماعت بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ریاستی حکومت کے ایک وزیر کا کہنا ہے کہ عبادت کی آزادی کا تحفظ ضروری ہے، تاہم جبری مذہبی تبدیلیوں سے متعلق شکایات کی تحقیقات کی جائیں گی۔
دہلی کے آرچ بشپ کے تحت کام کرنے والی کیتھولک ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہا کہ مغربی بنگال میں بے گناہ مسیحیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم نے اسے ’شدید صدمے سے دوچار‘ کیا ہے۔
آل انڈیا کیتھولک یونین نے مغربی بنگال کے ضلع نادیہ میں 9 اکتوبر کو بائبل کانفرنس پر ہجوم کے حملے کی مذمت کی۔ اس واقعے میں قریباً 200 افراد ایک گرجا گھر میں داخل ہوئے، وہاں سجاوٹ کا سامان توڑ دیا اور کم سے کم چھ افراد کو زخمی کر دیا۔
واشنگٹن میں قائم تحقیقی ادارے ’انڈیا ہیٹ لیب‘ نے ستمبر میں جاری اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد مغربی بنگال میں مسیحیوں کو نشانہ بنانے کے 60 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ ان میں تشدد، توڑ پھوڑ اور دعائیہ اجتماعات پر چھاپے مارنے کے واقعات شامل ہیں۔
ہیرود ملک نے بتایا کہ وہ ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ سے ملاقات کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ آر ایس ایس کو بی جے پی کا نظریاتی سرچشمہ سمجھا جاتا ہے۔

انڈیا کی آخری قومی مردم شماری کے مطابق مغربی بنگال کی آبادی میں مسیحیوں کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

آر ایس ایس اور بی جے پی طویل عرصے سے مسیحی برادری پر ہندوؤں کو زبردستی عیسائیت قبول کرانے کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں، تاہم مسیحی برادری ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے۔
آخری قومی مردم شماری کے مطابق انڈیا کی آبادی قریباً ایک ارب 40 کروڑ ہے، جس میں مسیحیوں کا تناسب دو فیصد سے زیادہ ہے۔ مسیحی برادری کا کہنا ہے کہ انڈیا میں ان کے مذہب کی موجودگی کو قریباً دو ہزار سال ہو چکے ہیں۔

شیئر: