سعودی عرب پر کوئی بھی حملہ مراکش پر حملے کے مترادف ہے: شاہ مراکش کا پیغام
اتوار 27 ستمبر 2026 22:40
مراکش کے فرمانروا نے سعودی قیادت کو دو الگ الگ پیغامات بھیجے ہیں ( فوٹو: اخبار 24)
مراکش کے شاہ محمد ششم نے سعودی عرب کے خلاف حوثی دہشتگرد ملیشیا کے بار بار حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ان حملوں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات، انفرا سٹرکچر اور شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق مراکش کے فرمانروا شاہ محمد ششم نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دو الگ الگ پیغامات بھیجے ہیں۔
شاہ مراکش نے پیغام میں کہا موجودہ حالات میں تاریخی ذمہ داری، دینی اقدار اور سٹریٹیجک تقاضے ہم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم حق خودمختاری، سلامتی اور ملت اسلامیہ کے مقدسات کے دفاع کے لیے متحد ہو کر کھڑے ہوں۔
سعودی عوام کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کو نشانہ بنانے والے یہ حملے اور مایوس کن کوششیں صرف برادر ملک سعودی عرب، اس کے عوام اور وہاں موجود عمرہ زائرین کے خلاف حملہ نہیں بلکہ دنیا بھر کے ایک ارب 80 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے جذبات پر بھی کھلا حملہ ہیں۔
پیغام میں کہا گیا یہ ان اقدار اور اصولوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں جن پر عظیم اسلامی عقیدے کی بنیاد رکھی گئی جن میں امن، رواداری، انسانی جان و آبرو اور مقدس مقامات کا تقدس شامل ہے۔
شاہ مراکش نے مزید کہا ہم ان مجرمانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ اس کی مکمل ذمہ داری حوثی دہشتگرد ملیشیا اور اس کے پشت پناہی کرنے، انہیں مالی معاونت اور اسلحہ فراہم کرنے والوں پر عائد ہوتی ہے۔
’ہم انہیں اللہ، تاریخ اور بین الاقوامی قانون کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہیں۔ ان پر بین الاقوامی پابندیاں بھی عائد ہونی چاہیے۔‘
شاہ محمد ششم نے واضح کیا سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام، خلیج تعاون کونسل کے دیگر ملکوں کی سلامتی طرح، مراکش کی اپنی سلامتی کا بھی اٹوٹ حصہ ہے۔
سعودی عرب پر کوئی بھی حملہ مراکش پرحملے کے مترادف ہے۔ ہم سعودی عرب اور اپنے خلیجی برادر ممالک کے ساتھ کھڑے ہونے کو حق اور جائز موقف کی حمایت سمجھتے ہیں۔ ان کے بنیادی مفادات کے تحفظ ہمارے مشترکہ مفادات کا دفاع ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کو درپیش خطرات کے مقابلے میں مراکش کی مستقل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
انہوں نے کہا یہ خطرات دہشتگرد اور علیحدگی پسند ملیشیاوں اور ان کے پیچھے موجود علاقائی قوتوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں پیدا ہورہے ہیں جو اپنے پڑوسی ممالک اور اپنے علاقائی دائرہ اثر کی سلامتی کوتباہ کن سوچ کے تحت نشانہ بنارہی ہے۔
ان کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد خطے کی سلامتی کو متاثر کرنا، اس کے ممالک کے استحکام کو نقصان پہنچانا اور اہم سمندری گزرگاہوں کو خطرے میں ڈالنا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد 2216 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اس میں حوثی ملیشیا سے انخلا، ہتھیار ڈالنے اور تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ قرارداد 2722 میں بحری ذرائع آمد ورفت پر حملے فوری طور پر روکنے پر زور دیا گیا ہے۔
