Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حوثیوں سے دفاع کے لیے جان قربان کرنے کو تیار رہیں: سعودی مفتی اعظم

عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعرات کو کہا تھا کہ حوثیوں کے چھ میزائل تباہ کر دیے گئے (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب کی مفتی اعظم نے مملکت کے فوجی اہلکاروں سے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں جان قربان کرنے کو تیار رہیں، یہ بیان ایران نواز حوثیوں کی جانب سے مملکت پر بڑھتے حملوں کے وقت میں سامنے آیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی جانب سے جاری کیے گئے شیخ صالح بن فوزان الفوز کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس عظیم ملک کی حفاظت اور اس کی سرزمین کے ایک انچ پر بھی ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کو سزا دینا سب سے بڑی ذمہ داریوں اور نیک اعمال میں شامل ہے اور اللہ کی رضا کی خاطر جانیں بھی قربان کی جا سکتی ہیں۔‘
یہ نادر اور سخت الفاظ پر مشتمل بیان ان فوجی اہلکاروں کے نام جاری کیا گیا ہے جو یمن کی سرحد پر تعینات ہیں۔
بیان میں قرآن کی آیات اور پیغبر اسلام کی ان احادیث کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن میں اللہ کی راہ میں قربانی اور جدوجہد کا ذکر ہے۔
یہ بیان سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کئی ہفتے سے جاری اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں جبکہ سعودی عرب کی جانب سے فضائی حملوں کے ذریعے جواب دیا گیا ہے۔
حوثیوں نے یمن کے ساحلی علاقے کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے جس میں سٹریٹیجک اہمیت کا بندرگاہی شہر المخا اور قصبہ ذباب بھی شامل ہیں جبکہ وہ باب المندب کے گرد جزیروں تک بھی پھیل گئے ہیں۔
گروپ نے بحیرہ احمر کے کئی دیگر اہم جزیروں پر بھی قبضہ کیا ہے جس سے اسے یمن کی جانب سے باب المندب پر موثر کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔ وہاں سے وہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان گزرنے والی بحری جہازوں کی ٹریفک کو متاثر کر سکتے ہیں اور خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
یہ پیش ترفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ باب المندب ایک اہم بحری گزرگاہ ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے۔ اس راستے سے گزرنے والے جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر ہی نہر سویز اور یورپی مارکیٹس تک پہنچ سکتے ہیں۔
لڑائی کے باعث پہلے سے ہی بحری تجارت کافی متاثر ہوئی تھی جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے ارد گرد پابندیوں کے بعد صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ایسے وقت میں حوثیوں کی پیش قدری عالمی تجارت خصوصاً توانائی سے متعلق اشیا کی فراہمی کے بارے میں مزید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
12 سال سے جاری خانہ جنگی میں حالیہ لڑائی تازہ ترین واقعہ ہے، 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد لڑائی بڑی حد تک رک گئی تھی تاہم اب دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے جو کہ ایران جنگ کے ساتھ بھی جڑ گئی ہے۔
مفتی اعظم کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ سب کی مدد کرے اور ہمارے ملک اور پیارے یمن کو ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رکھے۔ ہم یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ وہ حوثی گروپ اور اس کی مدد اور حمایت کرنے والوں کو شکست سے دوچار کرے۔‘
سرکاری ٹی وی نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں ایک مسجد پر حوثیوں کے مبینہ حملے کی ویڈیو شیئر کی تھی، حکام کی جانب سے حوثیوں پر مکہ مکرمہ پر حملے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے جو کہ اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔
بیان کے مطابق ’محاذ پر خدمات انجام دینے والو بھائیو، آپ پر لازم ہے کہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں اور اپنے فیلڈ کمانڈروں کے احکامات کی پابندی کریں، جیسا کہ اللہ نے نبی کریم کے ساتھیوں کو حکم دیا تھا۔
آپ نبی کریم کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کا دفاع کر رہے ہیں۔‘

شیئر: