اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سعودی عرب کے حقِ دفاع کی توثیق، حوثیوں سے حملے روکنے کا مطالبہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سعودی عرب کے حقِ دفاع کی توثیق، حوثیوں سے حملے روکنے کا مطالبہ
جمعہ 25 ستمبر 2026 19:07
کونسل کے ارکان نے مطالبہ کیا کہ حوثی ’فوری طور پر اپنی فوجی کشیدگی اور شہریوں و شہری تنصیبات پر حملے بند کریں۔‘ (ٖوٹو: اے ایف پی)
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب کے ’حقِ دفاع‘ کی توثیق کی اور ’سخت ترین الفاظ‘ میں حوثیوں کے مسلسل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایران نواز ملیشیا سے فوری طور پر فوجی کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
عرب نیوز کے مطابق فرانس کے مستقل نمائندے جیروم بونا فونٹ نے کہا کہ 15 رکنی کونسل نے سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے ’ان حملوں کے مقابلے میں جو اس کی سرزمین پر شہریوں اور شہری تنصیبات کو متاثر کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ یہ حملے شہری اور توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان میں خواتین و بچوں سمیت عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔
کونسل کے ارکان نے مطالبہ کیا کہ حوثی ’فوری طور پر اپنی فوجی کشیدگی اور شہریوں و شہری تنصیبات پر حملے بند کریں‘ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کی اہمیت یاد دلائی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے اندر حوثیوں کی جارحیت، سعودی عرب پر مسلسل حملے، بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرات اور باب المندب کے علاقے میں پیش قدمی ’تنازعے کو مزید پھیلانے، بحری سلامتی اور عالمی تجارت کو خطرے میں ڈالنے اور یمن میں امن قائم کرنے کی علاقائی و بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔‘
ارکان نے ایک بار پھر بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی پر حملوں اور دھمکیوں کی مذمت کی اور زور دیا کہ بین الاقوامی قانون، خصوصاً سمندری قانون پر اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق عمل کیا جائے اور جہاز رانی کے حقوق و آزادیوں کو برقرار رکھا جائے۔
کونسل نے یمن کے اندر حوثیوں کی فوجی کشیدگی کی بھی مذمت کی اور شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے اور کم از کم ایک لاکھ 25 ہزار افراد کے بے گھر ہونے کی اطلاعات پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا۔ ارکان نے کہا کہ مسلسل لڑائی ’یمن کی پہلے ہی سنگین انسانی صورتحال کو مزید بگاڑ دے گی‘ اور مزید شہریوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کر سکتی ہے۔
انہوں نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ انسانی امداد تک مکمل، محفوظ، فوری اور بلا رکاوٹ رسائی دی جائے اور قیدیوں کی ’بلا شرط، محفوظ اور فوری رہائی‘ کے مطالبے کو دہرایا، جن میں 73 اقوام متحدہ کے اہلکار اور غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی گروپوں اور سفارتی مشنز کے ارکان شامل ہیں۔
کونسل کے ارکان نے کہا کہ ’یمن میں پائیدار امن تشدد، جبر یا طاقت کے استعمال سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
ارکان نے 2015 کی قرارداد 2216 اور بعد کی قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے عملی تعاون کی اپیل کی، بشمول یمنی حکومت کے ساتھ، تاکہ حوثیوں کو اسلحہ، تکنیکی مدد، تربیت، مالی معاونت اور دیگر سہولتیں حاصل نہ ہو سکیں۔ انہوں نے تمام رکن ممالک کو یاد دلایا کہ ہتھیاروں کی پابندی کے تحت ان کی ذمہ داریاں واضح ہیں۔
یمنی حکومت کی حمایت دہراتے ہوئے اور ملک کی وحدت، خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کونسل کے ارکان نے کہا کہ ’یمن میں پائیدار امن تشدد، جبر یا طاقت کے استعمال سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔‘