موسمیاتی تبدیلی کے اثرات دنیا بھر کی طرح خلیجی ممالک میں بھی تیزی سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عمان اور دیگر خلیجی ریاستوں میں غیر معمولی بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ایسے حالات میں شہری منصوبہ ساز اور ماہرین جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی حکمت عملی مرتب کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے جدید سوفٹ ویئر اور ڈیجیٹل ماڈلنگ سسٹمز کا استعمال کیا جا رہا ہے جو بارش اور سیلاب کے ممکنہ اثرات کی پیشگی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس جدید ٹیکنالوجی کو ’ایڈوانسڈ کیچمنٹ ماڈلنگ‘ کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے بارش کے پانی کے بہاؤ، اس کے ممکنہ راستوں اور ان علاقوں کی نشان دہی کی جاتی ہے جہاں پانی جمع ہو کر سیلابی صورت حال پیدا کر سکتا ہے۔ اس طرح حکام اور انجینیئرز کو پہلے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ شدید بارش کی صورت میں کن علاقوں کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہوں گے اور وہاں کن اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
مزید پڑھیں
-
شدید بارشیں، دبئی ایئرپورٹ نے ٹریول ایڈوائزری جاری کر دیNode ID: 851706
آٹوڈیسک کے سینیئر پروڈکٹ مینیجر اور طوفانی پانی کے ماہر سامر مہندس کے مطابق شہری سیلاب کا مقابلہ اب صرف ہنگامی ردعمل تک محدود نہیں رہا، بلکہ جدید دور میں اس کی درست پیش گوئی بھی ممکن ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق کمپیوٹر ماڈلز پورے شہر یا حتیٰ کہ پورے ملک کے انفراسٹرکچر کا تجزیہ کر سکتے ہیں اور یہ بتا سکتے ہیں کہ اگر کسی علاقے میں غیر معمولی بارش ہو تو اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
سنہ 2024 میں خلیجی ممالک نے ایسی ہی ایک شدید موسمی آفت کا سامنا کیا تھا۔ اپریل کے وسط میں متحدہ عرب امارات، عمان اور دیگر علاقوں میں ریکارڈ توڑ بارشیں ہوئیں جن سے بڑے پیمانے پر سیلاب آیا۔
متحدہ عرب امارات میں بعض مقامات پر 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں 259 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ دبئی میں ایک ہی دن کے دوران تقریباً دو سال کے برابر بارش ہوئی۔ اس غیر معمولی صورتحال کے باعث سڑکیں زیر آب آ گئیں، فضائی آپریشن متاثر ہوئے اور روزمرہ زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی۔ عمان میں سیلابی ریلوں کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک بھی ہوئے۔
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک میں سیلاب کا بڑھتا ہوا خطرہ صرف موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ تیز رفتار شہری ترقی بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے۔

سامر مہندس کا کہنا ہے کہ صحرائی علاقوں میں مسلسل تعمیرات، رہائشی منصوبوں، تجارتی مراکز اور بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر نے زمین کی قدرتی ساخت کو تبدیل کر دیا ہے۔ پہلے یہی زمین بارش کے پانی کو جذب کر لیتی تھی، لیکن اب کنکریٹ، شیشہ اور اسفالٹ سے ڈھکی ہوئی سطحیں پانی کو جذب کرنے کے بجائے اسے تیزی سے ایک جگہ منتقل کرتی ہیں۔
ان کے مطابق قدرتی ماحول ایک اسفنج کی طرح کام کرتا ہے جو بارش کا پانی جذب کر لیتا ہے، لیکن شہری ترقی کے بعد یہی علاقہ ایک قیف یا ’فَنل‘ کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس میں پانی تیزی سے بہہ کر جمع ہو جاتا ہے۔ یہی عمل سیلابی صورتحال کو جنم دیتا ہے۔ جب زیادہ مقدار میں پانی نکاسی آب کے نظام میں داخل ہوتا ہے تو نالیاں، پائپ اور دیگر ڈرینج سسٹمز اس دباؤ کو برداشت نہیں کر پاتے اور پانی سڑکوں اور آبادیوں میں پھیل جاتا ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے انجینیئر جدید سافٹ ویئر کی مدد سے مختلف تعمیراتی منصوبوں کے اثرات کا پہلے ہی جائزہ لیتے ہیں۔ اس عمل کو ’ڈیٹرمنٹ اینڈ بیٹرمنٹ اینالیسس‘ کہا جاتا ہے۔ اس تجزیے کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے کہ نئی تعمیرات بارش کے پانی کے بہاؤ پر کس قدر منفی اثر ڈالیں گی اور ان اثرات کو کم کرنے کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہوں گے۔

جدید سافٹ ویئر مختلف تجاویز کو عملی طور پر نافذ کرنے سے پہلے ورچوئل ماحول میں آزما سکتا ہے۔ مثال کے طور پر پانی ذخیرہ کرنے والے بڑے ٹینک، متبادل نکاسی آب کے راستے، زیر زمین سرنگیں یا پائیدار ڈرینج سسٹمز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس طرح انجینیئر یہ طے کر سکتے ہیں کہ کون سا حل سب سے زیادہ مؤثر اور کم خرچ ثابت ہوگا۔
تاہم، سیلاب سے بچاؤ کے لیے صرف جدید ٹیکنالوجی ہی کافی نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات سادہ اور کم لاگت اقدامات بھی انتہائی مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سڑکوں کے درمیانی حصوں یا پیدل راستوں میں مخصوص قسم کی اینٹوں کا استعمال کیا جا رہا ہے جن کے درمیان باریک خلا موجود ہوتے ہیں۔ یہ خلا بارش کے پانی کو آہستہ آہستہ زمین میں جذب ہونے دیتے ہیں جس سے پانی کے بہاؤ کی شدت کم ہو جاتی ہے۔
اسی طرح پودوں کی شجرکاری، سبزہ کاری، بارش کے پانی کے لیے مخصوص راستے اور موٹی بجری کا استعمال بھی پانی کو قدرتی انداز میں زمین تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ تمام اقدامات ’فَنل ایفیکٹ‘ کو کم کرتے ہیں اور زمین کی قدرتی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کو جزوی طور پر بحال کرتے ہیں۔













