Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جب ایس پی بھی ایف آئی آر کا متن نہ پڑھ سکے، پنجاب پولیس فونٹ تبدیل کرنے پر کیوں مجبور ہوئی؟

لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر پنجاب پولیس نے بالآخر ایف آئی آر کا فونٹ سائز تبدیل کر دیا ہے (فائل فوٹو: بزنس ریکارڈر)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آر کے انتہائی چھوٹے فونٹ پر سوال اُٹھایا تو پنجاب پولیس کو پورے صوبے میں ایف آئی آر کے فارمیٹ پر غور کرنا پڑا اور عدالت کے حکم پر فونٹ کا سائز بالآخر تبدیل کرنا پڑ گیا۔
یہ معاملہ 23 ستمبر 2026 کو توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران اُس وقت سامنے آیا جب عدالت نے یہ سوال اُٹھایا کہ کسی فوجداری مقدمے کی بنیادی دستاویز ہی اگر آسانی سے پڑھی نہ جا سکے تو اسے عدالت، پولیس افسروں، وکلا اور فریقین کس طرح مؤثر طور پر استعمال کریں گے؟
چیف جسٹس عالیہ نیلم شہری میاں محمد جمیل کی جانب سے چوہنگ پولیس کے سابق ایس ایچ او رشید امین بٹ کے خلاف دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کر رہی تھیں۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ عدالت کے حکمِ امتناع کے باوجود پولیس نے اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ چوہنگ پولیس کی نمائندگی کرنے والے ایس پی عبداللہ سماعت کے دوران عدالت میں موجود تھے۔
چیف جسٹس نے اُن سے ایف آئی آر پڑھنے کو کہا تو وہ اِس کے متن کو مناسب طور پر پڑھ نہیں سکے، جس پر جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ ’ایف آئی آر پڑھی نہیں جا رہی اور سمجھ نہیں آرہا کہ اِس میں کیا لکھا ہے؟ پورے پنجاب کا بیڑا غرق ہو چکا ہے۔ ایف آئی آر پڑھنے کے قابل نہیں ہوتی۔ ایف آئی آر میں مکھیاں بنی ہوتی ہیں، لیکن مکھیوں کا سائز بھی بڑا ہوتا ہے۔‘
بعدازاں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم کو طلب کیا۔ آئی جی پنجاب اگلے روز جب عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’آئی جی صاحب، آپ نے ایف آئی آر دیکھی ہے؟ یہ ایف آئی آر تو عینک لگا کر بھی نہیں پڑھی جا رہی، ایف آئی آر کا کم از کم فونٹ تو ایک ہی رکھیں۔‘
آئی جی پنجاب نے کہا کہ ’ہم نے اس حوالے سے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) سے معاونت حاصل کی ہے۔‘
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اُن کے اس بیان پر ریمارکس دیے کہ ’ہم ایف آئی آر پڑھیں گے یا اسے سمجھیں گے؟ تین صفحات کا کام جب ایک صفحے پر ہوگا تو فونٹ تو چھوٹا ہوگا۔ کہتے ہیں ہم پیپر بچا رہے ہیں، پیپر بچاتے بچاتے ہماری آنکھیں ضائع ہوگئی ہیں۔‘
عدالت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پنجاب پولیس کو ہدایت کی کہ پورے صوبے میں کمپیوٹرائزڈ ایف آئی آر کے لیے ایک یکساں اور قابلِ مطالعہ فارمیٹ تیار کیا جائے۔ عدالت نے خاص طور پر اِس بات پر زور دیا کہ فونٹ بڑا، واضح اور ایسا ہونا چاہیے جسے آسانی سے پڑھا جا سکے اور آئی جی پنجاب سے 29 ستمبر کو عمل درآمد پر رپورٹ بھی طلب کرلی۔
آج یعنی 29 ستمبر کو پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کی گئی عمل درآمد رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایف آئی آر کے لیے 14 پوائنٹ کا فونٹ اختیار کیا گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایف آئی آر کے فونٹ کا معاملہ آخر اس قدر اہم کیوں ہے؟

چیف جسٹس نے ایس پی عبداللہ سے ایف آئی آر پڑھنے کو کہا تو وہ اِس کا متن  مناسب طور پر پڑھ نہیں سکے (فوٹو: بلوچستان ایکسپریس)

ایف آئی آر یعنی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کسی جرم کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس کی جانب سے درج کیا جانے والا بنیادی ریکارڈ ہے۔ اس میں درج معلومات بعد میں پولیس کی تفتیش، عدالت میں مقدمے کی کارروائی اور فریقین کے قانونی مؤقف میں اہم حوالہ بن سکتی ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ایڈووکیٹ ناصر خان کے مطابق مسئلہ ایف آئی آر کی قانونی زبان سے زیادہ اس کے پیش کرنے کے موجودہ طریقۂ کار کا ہے۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ایف آئی آر کا متن اور قانونی فارم ایک پہلو ہے لیکن اس متن کو کس فونٹ، سائز اور ترتیب میں پرنٹ کیا جائے، یہ دوسرا پہلو ہے۔ حالیہ عدالتی اعتراض بنیادی طور پر دوسرے پہلو پر تھا۔‘
35 برس کا قانونی تجربہ رکھنے والے ایڈووکیٹ ناصر خان کے مطابق پنجاب پولیس رولز 1934 کے رول 24.5 کے تحت روایتی نظام میں ایف آئی آر رجسٹر کی ایک اصل کاپی تھانے کے ریکارڈ میں رہتی تھی جبکہ دوسری کاپیاں متعلقہ سینئر پولیس افسر، مجسٹریٹ اور شکایت کنندہ کو فراہم کی جاتی تھیں۔
بعض اوقات ایف آئی آر کی زبان و کتابت مشکل ہوتی ہے جسے پڑھا تو جا سکتا ہے لیکن سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔
ایڈووکیٹ ناصر خان اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ ’ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت قابل دست اندازی پولیس جرم کی اطلاع اگر زبانی طور پر دی جائے تو اسے تحریر کیا جاتا ہے، اطلاع دینے والے کو اس کے ساتھ پیش آنے والا پورا وقوعہ پڑھ کر سنایا جاتا ہے جس کے بعد ایف آئی آر پر دستخط کروائے جاتے ہیں۔‘
’ایف آئی آر کی زبان میں فرق ہونا معمول کی بات ہے کیونکہ اطلاع دینے والا شخص اپنے الفاظ میں واقعہ بیان کر سکتا ہے۔ بنیادی قانونی تقاضا یہ ہے کہ قابلِ دست اندازی پولیس جرم کی اطلاع قانون کے مطابق تحریر میں لائی جائے۔‘

آئی جی پنجاب نے عدالت کے روبرو کہا کہ ہم نے اس حوالے سے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) سے معاونت حاصل کی ہے (فوٹو: ڈان)

قانونی ماہرین کے مطابق ایف آئی آر کا موجودہ فارمیٹ نیا نہیں ہے۔ اس کی قانونی بنیاد ضابطۂ فوجداری 1898 کی دفعہ 154 اور پولیس رولز 1934 میں ملتی ہے۔
ایڈووکیٹ ناصر خان کہتے ہیں کہ ’اس دور میں پولیس ریکارڈ بنیادی طور پر پرنٹ شدہ رجسٹروں، ہاتھ سے اندراج اور کاربن کاپیوں کے ذریعے تیار ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ پولیس کا ریکارڈ ڈیجیٹل ہونا شروع ہوا اور ایف آئی آر کے اندراج کا طریقہ بھی تبدیل ہوا۔ پنجاب میں پولیس ریکارڈ مینجمنٹ کے لیے کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کرائے گئے جبکہ حالیہ برسوں میں ایف آئی آر کے اندراج اور ریکارڈ کو مزید ڈیجیٹل کیا گیا۔‘
لاہور ہائی کورٹ کی کارروائی کے بعد پنجاب پولیس نے اب ایف آئی آر کے لیے 14 پوائنٹ کا فونٹ اختیار کرنے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ اس ضمن میں پنجاب کے ضلع گجرات میں تھانہ صدر کھاریاں کی ایک ایف آئی آر بھی اردو نیوز کو موصول ہوئی ہے جس میں فونٹ سائز 14 رکھا گیا ہے اور اسے بآسانی پڑھا جا سکتا ہے۔

شیئر: