Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اے آئی سے والد کو زہر دینے کا طریقہ پوچھنے کا کیس،’بیٹا الٹی سیدھی تحقیق کرتا رہتا ہے‘

حکام کے مطابق ملزم کی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق اطلاع بیرون ملک سے موصول ہوئی: فائل فوٹو پکسابے
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں لاہور کی ضلع کچہری میں مصنوعی ذہانت(اے آئی) سے اپنے والد کو زہر دینے کا طریقہ پوچھنے والے 17 سالہ ملزم کو عدالت نے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
بدھ کو مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ کیا ملزم کے والد کو اپنے بیٹے کی گرفتاری پر کوئی اعتراض تو نہیں ہے؟
جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ والد کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزم کے والد کا کہنا ہے کہ ’ان کا بیٹا الٹی سیدھی تحقیق کرتا رہتا ہے۔‘
یاد رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے گذشتہ ہفتے بہاولپور سے 17 سالہ طالب علم کو حراست میں لیا تھا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا کہ نوجوان کی اپنے والد سے مبینہ طور پر کشیدہ تعلقات تھے اور اس نے والد کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ حکام کے مطابق نوجوان نے گھر میں ایک چھوٹی لیبارٹری بھی قائم کر رکھی تھی اور کیمیائی مواد منگوا کر مبینہ طور پر ایک زہریلا مادہ تیار کیا۔ اس نے والد کو زہر دینے کی مبینہ طور پر ایک کوشش بھی کی جو کامیاب نہ ہوئی۔
اس کے بعد نوجوان نے مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت سے مزید رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی اور پوچھا کہ زہریلا مادہ کس طرح استعمال کیا جائے تاکہ اس کے اثرات جان لیوا ہوں اور اس کا پتا نہ چل سکے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم کی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق اطلاع بیرون ملک سے موصول ہوئی جس کے بعد ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے اسے بہاولپور سے گرفتار کیا۔
ابتدائی تفتیش میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ نوجوان کی کیمسٹری میں دلچسپی ایک کرائم ڈرامہ دیکھنے کے بعد بڑھی اور اس نے گھر میں تجربات کے لیے لیبارٹری قائم کی تھی۔
اب عدالت کی جانب سے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجے جانے کے بعد مقدمے کی تفتیش مزید آگے بڑھے گی۔
 

شیئر: