قصیم کی ایک چٹان عنترہ اور عبلہ کی داستان میں کیسے امر ہو گئی؟
روایات کے مطابق عنترہ نے النصلہ چٹان کے سایہ دار حصے کے نیچے عبلہ سے ملاقات کی تھی (فوٹو: ایس پی اے)
قصیم ریجن کی عیون الجواء گورنریٹ کے غاف الجواء کے شمالی کنارے پر واقع عنترہ کی چٹان اور اس سے متصل النصلہ چٹانی تشکیل ایسے تاریخی آثار ہیں جو قبل از اسلام کے شعری ورثے اور خطے کے آثارِ قدیمہ کو آپس میں جوڑتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ مقام کلاسیکی عربی ادب میں قبل از اسلام کے عرب شاعر اور شہسوار عنترہ بن شداد کے اشعار اور ان کی محبوبہ عبلہ کے ذریعے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا ہے۔
مقامی روایات کے مطابق، عنترہ نے اس نمایاں چٹان کے ساتھ اپنا گھوڑا باندھا اور النصلہ چٹان کے سایہ دار حصے کے نیچے عبلہ سے ملاقات کی تھی۔
ادبی شہرت سے ہٹ کر، النصلہ چٹان جو ہوا اور قدرتی موسمی اثرات سے تراشی گئی ایک منفرد مخروطی چٹانی تشکیل ہے، پر ثمودی دور کے قدیم کتبے اور چٹانی نقوش بھی موجود ہیں۔ ان نقوش میں پہاڑی بکرے، اونٹ اور قبائلی علامتیں شامل ہیں جو اس علاقے میں کبھی آباد قدیم تہذیبوں کے آثارِ قدیمہ کا ٹھوس ثبوت محفوظ کیے ہوئے ہیں۔
سنہ 2020 میں عرب نیوز میں شائع ایک مضمون کے مطابق عنترہ ابن شداد، جو عنتر نام سے بھی جانے جاتے تھے، ایک سیاہ فام حبشی لونڈی کا بیٹا تھا، جس نے دور اسلام سے قبل نظمیں لکھیں۔ وہ ساری زندگی اس مقصد کے لیے لڑتا رہا کہ خود کو والد کے عرب قبیلے کے برابر ثابت کرے اور اپنی محبوب خاتون کا ہاتھ حاصل کرے اور آخرکار محبت کا صلہ لیے بغیر دنیا سے چلا گیا۔
عنترہ کی زندگی کے بارے میں مشہور روایت کے مطابق وہ تقریباً 525 عیسوی میں نجد میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ بنو ابس کے معروف جنگجو شداد الابسی اور زبیبہ جو کہ ایتھوپین لونڈی تھیں، کا بیٹا تھا۔
اپنی والدہ کی طرح سانولی رنگت رکھنے والے عنترہ کو ان کی برادری اور خاندان، حتیٰ کہ ان کے والد بھی ایک غلام سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے تھے۔ نوجوانی میں انہوں نے اپنی بہادری ثابت کرنے اور جنگوں میں اپنی غیر معمولی کارکردگی کے ذریعے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کی۔
کئی صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی یہ ایک لافانی کہانی ہے جسے سعودی عرب کے ہائی سکول کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ کہانی محض ایک پریم کہانی نہیں ہے۔
ابن شداد کو ان سات مشہور نظموں کا خالق کہا جاتا ہے جو آٹھویں صدی میں المعلقات (لٹکی ہوئی نظمیں) کے نام سے مرتب کی گئیں۔