سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق العلا قدیم زمانے میں وادی ’القری‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، جو مختلف تہذیبوں کا مرکز اور تجارتی قافلوں کی اہم گزر گاہ بھی تھا۔
پانی کی فراوانی، زرخیز زمین اور قدرتی ماحول نے نہ صرف یہاں انسانی آبادی کو فروغ دیا بلکہ ادبی سرگرمیوں کو بھی جلا بخشی، جس سے اس علاقے کے مناظر اور قدرتی عناصر عربی شاعری کا حصہ بنتے گئے۔
اموی دور میں ’وادی القری‘ ادبی سرگرمیوں کا بڑا مرکز ہوا کرتا تھا۔ اس خطے کا نام معروف شاعر جمیل بن معمرالعذری جو کہ ’جمیل بثینہ‘ کے نام سے جانے جاتے تھے کے ساتھ خاص طور پر جڑا ہوا ہے۔ وہ وادی القری میں پیدا ہوئے اور یہیں بود وباش اختیار کی۔ ان کے مشہور شعر میں وادی القری سے گہری وابستگی دکھائی دیتی ہے۔
شاعر نے اپنی شاعری میں العلا کے درختوں، پودوں، جنگلی حیات اور قدرتی مناظر سے بھی تشبیہات اور استعارے اخذ کیے ہیں، ان کی شاعری میں بانس کی شاخ، ہرن، اراک کے درخت اور دیگر فطری عناصر حسن و جمال کی تصویریں تراشنے کے لیے استعمال ہوئے، جس سے قدرتی ماحول عربی شاعری کی جمالیاتی زبان کا اہم حصہ بن گیا۔
عرب شاعروں نے العلا کے مسحور کن مناظر کو اپنی شاعری میں امر کر دیا (فوٹو: ایکس)
العلا شہر کے حوالے سے عربی ادب میں اس کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خطہ صدیوں سے فطری حسن اور تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ عربی ادب و ثقافت کا بھی اہم مرکز رہا ہے، جبکہ شاعری نے وادی القری کی خوبصورتی کو عرب دنیا کی ادبی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔
عہدِ رفتہ کی العلا کے حوالے سے ادبی روایت آج بھی جاری ہے۔ عصرحاضر کے شعرا اور ادیبوں نے بھی وادی القری، نخلستانوں، پہاڑوں اور یہاں کے قدرتی مناظر سے اپنے تخلیقی موضوعات اخذ کیے ہیں، جبکہ العلا میں ادبی نشستیں، شعری محافل اور ثقافتی تقریبات کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے جن کے ذریعے اس تاریخی ورثے کو عصر حاضر کے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔