سعودی عرب کا اپنے حق دفاع کا اعادہ، حوثیوں کے مسلسل حملوں کی مذمت
بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی بھی شدید مذمت کی گئی ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکت میں شہریوں اور شہری ڈھانچے کو بار بار نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق وزارت خارجہ نے پیر کو جاری بیان میں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ سمیت دارالحکومت ریاض اور مملکت کے دیگر شہروں ابھا، جازان، خمیس مشیط ، طائف اور ینبع پر بار بار حملوں کی شدید مذمت کی۔
جنوبی بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں مملکت کے بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی بھی شدید مذمت کی گئی۔
وزارت نے بیان میں کہا کہ سعودی عرب نے سال 2014 میں دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے یمن کی آئینی حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد سے یمن میں جامع اور پائیدار سیاسی حل کے حصول کی کوششوں کی حمایت کے لیے مسلسل اور بھرپور اقدامات کیے۔
تاہم حوثی ملیشیا نے اپنی روش کو برقرار رکھتے ہوئے سیاسی حل کے بجائے مسلسل فوجی کشیدگی کا راستہ اختیار کیا اور بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے یمن اور برادر یمنی عوام کو مزید انسانی و معاشی مشکلات میں دھکیل دیا۔
بیان میں سعودی عرب نے اپنی سرزمین، قومی مفادات، خود مختاری اور اپنے شہریوں و مقیمین کی سلامتی کے حوالے سے دفاع کے اپنے جائز حق پر پھر زور دیا اور کہا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
وزارت نے بین الاقوامی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ یمن کی جائز حکومت کو دہشت گرد حوثی ملیشیا کے خلاف موثر کارروائی کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جائے۔
