’حوثی حملے خطے کی سکیورٹی کے لیے خطرہ‘ یمن کی سپورٹ جاری رکھیں گے: ترجمان
سعودی عرب کو اپنی خود مختاری کے دفاع کا حق حاصل ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ اتحادی فورسز کی مشترکہ کمان یمنی مسلح افواج کو آپریشنل مدد فراہم کرتی رہے گی جب تک ریاستی ادارے بحال اورحوثی ملیشیا کی جانب سے خطرہ ختم نہ ہو جائے۔
ایس پی اے کے مطابق ترجمان نے اتوار کو بیان میں کہا کہ اتحاد یمن کی آئینی حکومت اور برادر یمنی عوام کے سپورٹ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ حوثی بغاوت کا خاتمہ، ریاست اور اس کے قومی اداروں کی بحالی اور یمن کے بہترین مستقبل کی تعمیر کو یقینی بنایا جاسکے۔
ترکی المالکی نے الزام لگایا کہ حوثی ملیشیا یمنی عوام کے خلاف سنگین کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان میں اندرونی محاصرے، شہریوں کی جبری بے دخلی، خوراک تک رسائی کو محدود کرنا، وسائل کی لوٹ مار اورانہیں اپنی فوجی کارروائیوں کی سپورٹ کے لیے استعمال کرنا شامل ہے۔
حوثی ملیشیا نے قبائلی رہنماوں اور افراد کی توہین کی، خواتین میں خوف وہراس پھیلایا اور بچوں کو اپنے مجرمانہ منصوبے کے لیے بھرتی کیا۔ یہ تمام کارروائیاں سنگین خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتی ہیں۔ یمنی عوام طویل عرصے سے تباہی اور شدید انسانی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔
انہوں نے دہشتگرد حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کا بھی ذکر کیا اور کہا مقدس شہر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششیں، ریاض، ابھا، خمیس مشیط، جازان، نجران، طائف اور ینبع سمیت مملکت کے متعدد شہروں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا۔
اسی طرح بحیرہ احمر کے جنوبی حصے اور آبنائے باب المندب میں سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں حوثی ملیشیا کی جارحانہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھنے کی متقاضی ہیں۔
ترجمان نے کہا سعودی عرب کو اپنی خود مختاری کے دفاع، امن وامان کے تحفظ، حوثی ملیشیا کی جارحانہ سرگرمیوں کو روکنے اور سنگین خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات حرمین شریفین، مملکت کے شہریوں، قومی وسائل اور یہاں رہنے والے غیرملکیوں کے تحفظ سے متعلق سعودی عرب کی قومی ذمہ داری کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ بحری جہاز رانی کو درپیش خطرہ صرف علاقائی سلامتی کو متاثر نہیں کرتا بلکہ عالمی امن، آزادانہ بحری تجارت اورعالمی معیشت کی شہ رگ کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے جس کے اثرات خطے اور دنیا کہ مختلف ممالک کی سلامتی اور مفادات تک پہنچ سکتے ہیں۔
سعودی عرب، یمن اور اس کے عوام کی حمایت جاری رکھے گا یہاں تک کہ ریاست اور اس کے ادارے بحال ہوں، حوثی ملیشیا کا خاتمہ اور آبی گزر گاہوں میں جہاز رانی کی آزدی کو لاحق خطرات ختم ہوجائیں۔
